امریکہ کو مائنڈسیٹ بدلنا ہوگا، ’’جہادی‘‘ ختم کرنا ممکن نہیں: نثار عزیز بٹ

14 نومبر 2013
 امریکہ کو مائنڈسیٹ بدلنا ہوگا، ’’جہادی‘‘ ختم کرنا ممکن نہیں: نثار عزیز بٹ

لاہور(رفیعہ ناہیداکرام)پاکستان کی ممتاز ناول نگار نثار عزیز بٹ نے کہا کہ پاکستان کے ایٹمی قوت ہونے پر اسلامی ممالک میںجہاں فخرکے جذبات پائے جاتے ہیں وہاں ملک میں ڈکٹیٹروں کے ہاتھوں اندرونی حالات کے ناگفتہ بہ ہونے پرتشویش بھی پائی جاتی ہے، قطر میں بسنے والے پاکستانیوں سے مجھے جومحبت ملی وہ ہمیشہ یادرہے گی۔انہوں نے ان خیالات کااظہارقطر عالمی فروغ اردوادب ایوارڈ 2013کی تقریب میں شرکت اور ایوارڈ وصول کرنے کے بعد وطن واپسی پر’’نوائے وقت‘‘ سے خصوصی گفتگو میں کیا۔  1999میںنثار عزیز بٹ کو ادبی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان کی طرف سے پرائیڈآف پرفارمنس سے بھی نوازاجاچکا ہے۔ان کاپہلاناول ’’نگری نگری پھرامسافر‘‘1955میں شائع ہوا، 1973ء میں ’’ نے چراغے ،نے گلے‘‘1981ء میں’’کاروان وجود‘‘، 1987ء میں’’ دریاکے سنگ‘‘جبکہ 2004ء میں گئے دنوںکاسرغ اور 2009ء میں پری لیوڈ شائع ہوئے۔ نثارعزیزبٹ نے مزید کہا کہ امریکہ کوغیر امریکیوںکے حوالے سے مائنڈسیٹ تبدیل کرناہوگا، دنیامیں انصاف اور امن کیلئے تمام ممالک ایک جگہ بیٹھ کرلائحہ عمل تیار کریں،امریکہ کی یہ سوچ کہ وہ دنیاسے سارے جہادیوںکومارمار کے ختم کرسکتاہے تویہ ممکن نہیں،انصاف کبھی یکطرفہ نہیںہوتا،دس برسوںسے دونوں طرف سے لوگ مارے جارہے ہیںمگرکوئی حل نہیں نکلا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم پاکستان کوساری دنیاسے الگ کرکے دیکھتے ہیںتواسکے مسائل گھمبیردکھائی دیتے ہیں مگر جوکچھ ہورہاہے وہ عالمگیرسطح پر ہورہاہے، سارے ملک ایک دوسرے سے بندھے ہوئے ہیںاورایک دوسرے کومتاثرکرتے ہیں،ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم امریکہ کے نرغے میںہیںجس کی وجہ سے مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھ رہے ہیں،دہشت گردی کاتعلق بھی امریکہ سے ہی ہے اور ہم اس علاقے میںہیں جوجنگ کامرکزہے ۔انہوںنے کہا کہ اس جنگ نے غلط صورت اختیارکرلی،ہم مجاہدین کیخلاف جنگ لڑنے پرمجبورہوئے توپھرانہوںنے بھی اپنارخ ہماری طرف موڑلیا،مسلمانوںپرمسلمانوںکے حملے ٹھیک نہیں ،ہم اس وقت بین الاقوامی شکنجے میں،پاکستان کے مسائل بھی اسی صورت میں کسی نہ کسی حد تک حل ہوسکتے ہیںجب سارے ممالک بیٹھ کر صحیح فیصلے کریں، امریکہ کی کوشش ہے کہ پاکستان اسے کسی نہ کسی طرح اپنی جنگ سمجھ لے مگر امریکہ کوسوچناہوگاکہ وہ کیاکررہاہے۔ انہوں نے کہا کہ آج کا بڑامسئلہ کمزور گورننس ہے،جہاں ہرشخص اپنامفاد دیکھتاہووہاں قانون کی حکمرانی نہیں ہوسکتی، آج ہر شخص ملک چھوڑنے کی تیاری کررہاہے ، پہلے لوگ ملک چھوڑنے سے قبل خوب سوچ بچار کرتے اب تویہی دھن ہے کہ یہاں سے چلے جائیں بس کہیں بھی چلے جائیں ، اب لوگ ملک کے بارے میں نہیں اپنے بارے میں سوچتے ہیں،عام آدمی چھوٹے چھوٹے مفادات کے لالچ میں کسی بھی شخص کوووٹ دے دیتاہے،کرپشن ہرطرف پھیل گئی ہے، جب تک رشوت نہ دیںکام نہیں ہوتاصاف جواب دے دیں تولوگ دشمن بن جاتے ہیں،غریب آدمی چھوٹی چھوٹی بے ایمانیاںکرکے سروائیو کرنے پر مجبور ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کمپیوٹر کی آمد کے بعد ماڈرن دنیامیںکتابوںکی پرنٹنگ کے ادارے ختم ہورہے ہیںاخبار بندہورہے ہیں، تعلیمی اداروںکے روائتی نظام کی جگہ آن لائن ایجوکیشن لے رہی ہے، انٹرنیٹ کے فائدے بے تحاشہ ہیں،معلومات کاحصول اور کمیونی کیشن آسان ہوگئی ہے مگر تھوڑی سی پرائیویسی بھی ہونی چاہئے آج ہر شخص کاکچاچٹھا انٹرنیٹ پرموجود ہے،نوجوان نسل کاہلی اور سستی کی طرف راغب ہورہی ہے، ریسرچ کارجحان ختم ہوکررہ گیاہے، ادب اور فلسفہ کی طرف رجحان نہیں رہا،آج پرانی کہکشاں کی جگہ لینے کیلئے افق پرکوئی موجود نہیں،آج ہرایک کے پاس انفارمیشن تو بہت ہے مگر دانش غائب ہے ، عقل ودانش کی کمی تو سیاست میں بھی دکھائی نہیں دیتی۔انہوں نے کہا کہ عام عورت کوحقوق کی فراہمی اورمسائل کے بھنور سے نکالنے کیلئے قانون سازی قابل تعریف ضرور ہے مگر اس کی اقتصادی حالت درست کئے بغیرحالات کی بہتری کاتصوربھی ممکن نہیں،خواتین ارکان اسمبلی خوبصورت نظر آنے کی دوڑ میں مصروف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج معاشی مسائل کے حل کیلئے عورت کوگھرسے باہرنکلناپڑتاہے مگر گھر سے باہرنکل کر اس نے مغربی عورت کی طرح خاندان کونظرانداز کرناشروع کردیا اب ذراذراسی بات پر طلاقیںہورہی ہیں اور بچے خوارہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گھریلوزندگی کیلئے مرداور عورت دونوںکوقربانیاںدیناپڑتی ہیں۔