شہداء کو سلام …!

14 نومبر 2013

 امریکہ میں سوموار کو ’’ویٹرنز ڈے‘‘ تھا۔یہ دن ان تمام لوگوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لئے وقف کیا گیا ہے جنہوں نے فوج کی وردی پہن کر جنگ اور امن دونوں حالتوں میں خدمات انجام دیں۔ آزادی و تحفظ میں جانیں قربان کرنے والے لاکھوں افراد کو خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔’’ویٹرنز ڈے‘‘ یعنی سابق فوجیوں کی یاد میں یہ دن ہر سال 11 نومبر کو منایا جاتا ہے۔اس دن کی تاریخ ایک صدی پرانی ہے۔اس روز عام تعطیل ہوتی ہے۔سرکاری ادارے اور دفاتر بند ہوتے ہیں۔ اس دن کا آغاز 1919 میں پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر ہوا ،اسے ’’جنگ بندی کا دن‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔لیکن اس کے بعد اور جنگیں بھی ہوئیں اور 1954میں صدر آئزن ہاور نے یہ دن سابق فوجیوں کے علاوہ ان تما م لوگوں کو خراج تحسین کرنے کے لئے وقف کر دیاجنہوں نے فوجی وردی پہن کر جنگ اور امن دونوں حالتوں میںخدمات انجام دیں۔ ویٹرنز ڈے کے موقع پر صدر اوباما نے کہا کہ امریکہ کے سابق فوجیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ گھر واپس آئیں تو ان کے لئے روزگار کی تلاش میں ہر ممکن مدد دی جائے، ان کے خاندان کو تمام طرح کی سہولیات مہیا کی جائیں، ان کی زندگی اور موت کے بعد بھی انہیں ملک کا قیمتی اثاثہ سمجھا جائے۔ ویٹرنز ڈے کے موقع پر ملک کے لئے خدمات بجا لانے والے مردو خواتین فوجیوں کوسلام پیش کرنے کے لئے امریکہ بھر میں مختلف تقاریب منعقد ہوئیں۔ صدر اوباما نے واشنگٹن میں نا معلوم سپاہیوں کی قبروں پر بھی پھولوں کی چادریں چڑھائیں۔ امریکی صدر اور خاتون اول نے وائٹ ہائوس میں روائتی ناشتہ کا اہتمام کیا ،جس میں سابق فوجیوں اور ان کے اہل خانہ نے شرکت کی۔ اس موقع پر صدر اوباما نے کہا کہ بیش بہا خدمات ادا کرنے پر ملک و قوم سابق فوجیوں کے مشکور ہیں۔ صدر نے وعدہ کیا کہ ان کی انتظامیہ عراق اور افغانستان کی جنگوں سے واپس آنے والے مردو خواتین کی بہبود کے لئے رقوم مختص کرے گی۔ سابق فوجیوں کی خدمات اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کی یاد دنیا کے قریبََا ہر ملک میں منائی جاتی ہے۔
دنیا کی مہذب اقوام امن اورآزادی کی جنگ لڑنے والوں کی نہ صرف یاد مناتی ہیں بلکہ ان کی یادگاریں تعمیر کی جاتی ہیں۔ دہشت گردی کی نذر ہونے والی جانوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے،ان کی یادگاریں بھی بنائی جاتی ہیں۔ گیارہ ستمبر2001 کو نیویارک  میںدہشت گردی کے واقعہ میں مارے جانے والے افراد کی یادگار بھی بنائی گئی ہے۔  پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں امن اور وطن کی حفاظت کرنے والے شہداء کی یاد میں دن تو منایا جاتا ہے مگر دہشت گردی کی بھینٹ چڑھنے والے شہداء کی یاد کے لئے دن منایا جاتا ہے اور نہ کوئی یاد گار تعمیر کی گئی ہے۔ نام نہاد’’ سیاسی شہدائ‘‘ کی یاد بھی منائی جاتی ہے اور ان کی نسلیں اقتدار سے لطف اندوز بھی ہوتی ہیں لیکن عوام کا لہو اس قدر سستا سمجھا جاتا ہے کہ دہشت گردی کا نوالہ بننے والوں کی صحیح تعداد تک معلوم کرنے کی زحمت نہیں کی جاتی۔ منور حسن کی خواہش  اور مولانا فضل الرحمان کے ’’کتے‘‘ نے  ملک میں ہیجان بپا کر دیا ہے۔ منور حسن دہشت گردوں کو ہی شہید دیکھنے کے خواہشمند نہیں بلکہ پاک فوج کے جوانوں کو ہلاک دیکھنے کے بھی خواہشمند ہیں۔ ایسے بیمار اور کنفیوز معاشرے میں شہداء کی یاد منانے کا تصور ایک سوال بن گیاہے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے جی ایچ کیو جا کر پاک فوج کا وقار مزید بلند کیا ہے۔ وزیر اعظم سے گزارش ہے کہ دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہریوں اور سکیورٹی اداروں کے افراد کی یاد میں بھی ایک یادگار تعمیر کی جائے اور ان کے خاندانوں کی بہبود کے لئے رقوم مختص کی جائیں۔ منور حسن اور فضل الرحمان کی’’ خواہش‘‘ نے سنی تحریک اور دیگر مذہبی جماعتوں کو بھی متحرک کر دیاہے۔ علماء اور پیشواء کو ’’مسلکی بھڑاس‘‘ نکالنے کا جواز مل گیاہے۔ہر طرف سیاست چمکائی جا رہی ہے۔ شہادت کا حقیقی مقام و مرتبہ جاننے کے لئے شہداء کربلا کی تاریخ کے از سر نو مطالعہ کی ضرورت ہے۔ اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد۔۔۔ پاکستان کا ہر گلی کوچہ لہو سے رنگا جا چکاہے، اس ملک پر ہر روز کربلا گزرتی ہے مگر ان مولویوں کا اسلام نہ جانے کب زندہ ہو گا؟ شہدا کربلا کی یاد ہمارے زخموں کا مرہم ہے۔ بی بی کلثوم ؓ کی سسکیاں ہماری شفا عت ہیں۔بی بی زینب بنت علیؓ کا صبر اور جگر گوشہ رسولؐ  امام حسین ؓکی استقامت ہمارا جینا اور مرنا ہے۔ امام حسین ؓ کی جرات نے کلمے کا حق ادا کر دیا۔  امام حسین ؓ نے نانا کے دین کو اپنا لہو پلا دیا۔ ہمیں کربلا کے شہید وں کا لہو پکار رہاہے۔جس نے یہ راستہ دیکھ لیا، وہ نبیؐ کے جگر گوشوں کی شہادت کا مقام سمجھ گیا۔ جان، مال، اولاد آزمائش ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو آزماتا ہے جن پر اسے مان ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون اس کی راہ میں محبوب چیزوں کو نچھاور کرنے کا حوصلہ رکھتا ہے اور کون چھن جانے کے بعد صبر عظیم کا مظاہرہ کرتا ہے۔ انسان جب آزمائش سے گزرتا ہے تو اللہ کے مزید قریب ہو جاتا ہے۔جینا اور مرنا صرف اللہ کے لئے وقف ہو جاتا ہے۔ نواسہ رسولؐ نے جینے اور مرنے کا سلیقہ سکھا دیا۔ ہم کربلا پر کیوں آنسو بہائیں، شہید تو زندہ ہوتے ہیں اور زندوں کے لئے رویا نہیں کرتے ،ہم تو یزید کے مظالم یاد کرکے روتے ہیں۔ نام نہاد مسلمانوں نے اپنے نبیؐ کے جگر گوشے کا سر تن سے جدا کر دیا۔کربلا کی لہولہان مٹی کی بد دعا ہی تو ہے کہ آج بھی مسلمان اپنے نام نہاد مسلمان بھائی کے ہاتھوں قتل ہو رہا ہے۔امت شہیدوں کی قربانیوں کوفراموش کرنے کی سزا بھگت رہی ہے۔ عشق اور ایثار کے مفہوم بدل گئے ہیں،اطاعت اور ایمان کی تاریخ بدل گئی ہے، قرآن ہے مگر تفسیر بدل گئی ہے، سنت ہے مگر تاثیر بدل گئی ہے۔وہی چاند ہے، سورج بھی وہی، آسمان بھی وہی ہے ،اللہ بھی وہی ،قرآن بھی وہی،دین کا پیغام بھی وہی ہے مگر نہ دل میں سوز رہا اور نہ ہی جذبوں میں جنوں رہا۔ بس ایک شہداء کربلا کی یاد ہے اور بخشش کی آس ہے۔ شہداء پر لاکھوں سلام۔۔۔!