جلال الدین حقانی کا بیٹا افغان امن عمل کیلئے کام کر رہا تھا: امریکی اخبار

14 نومبر 2013

واشنگٹن (این این آئی) امریکی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ حقانی نیٹ ورک افغانستان میں امریکی فوجوں کا سب سے زیادہ خوفناک غنیم مانا جاتا ہے۔ نصیرالدین حقانی کی اسلام آباد میں ہلاکت نیٹ ورک اور اتحادیوں کیلئے بہت بڑا دھچکا ہے۔ نصیرالدین کی اسلام آباد میں ہلاکت پر کرسچن سائنس مانیٹر نے کہا کہ وہ اس نیٹ ورک کیلئے جس کا طالبان اور القاعدہ دونوں سے گٹھ جوڑ ہے، سب سے زیادہ چندہ جمع کرتا تھا اور اسکی موت سے ایک تو جنگجو تنظیموں کی باہمی آویزشوں کے بارے میں اور دوسرے اس وجہ سے تشویش بڑھ رہی ہے کہ افغانستان اور پاکستان دونوں کی حکومتوں کیلئے اسکے مضمرات ہوسکتے ہیں۔ نصیر الدین کی ہلاکت اس نیٹ ورک اور اسکے اتحادیوں کیلئے ایک بڑا دھچکا ہے۔ اخبار کی رپورٹ کے مطابق رواں سال کے اوائل میں امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات کے سلسلے میں طالبان کا ایک دفتر قطر میں قائم کرنے کی جو کوشش کی گئی تھی اس میں نصیرالدین حقانی نیٹ ورک کی نمائندگی کر رہا تھا اور خیال یہ تھا کہ افغان حکومت اور طالبان کے مابین امن مذاکرات میں اسکا کردار ہوگا۔ اخبار کے مطابق افغان حکام کو ایک ایسے شخص کے منظر سے ہٹائے جانے پر غصہ ہو گا جو طالبان کے ساتھ امن کے عمل کو ممکن بنانے کیلئے کام کر رہا تھا۔