کسی بے گناہ کو سزا نہیں دی جا سکتی ‘ معلوم نہیں لاپتہ افراد کا کس جرم کے تحت ٹرائل ہو رہا ہے : چیف جسٹس

14 نومبر 2013

اسلام آباد (نمائندہ نوائے وقت + آن لائن) سپریم کورٹ نے خفیہ اداروں کی جانب سے اڈیالہ جیل سے اٹھا لے جانے والے 11 قیدیوں میں سے زندہ بچ جانیوالے 7 قیدیوں کی بازیابی سے متعلق مقدمے کی سماعت میں سیکرٹری دفاع کو ہدایت کی ہے کہ وہ حراستی مراکز میں موجود لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ عدالت میں جمع کرواتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ مذکورہ قیدیوں کو خاندان والوں سے ملاقات سمیت دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جبکہ مقدمے کی مزید سماعت 20 نومبرتک ملتوی کر دی گئی۔ متعلقہ حکام نے عدالت کو تحریری طور پر بتایا کہ اڈیالہ جیل سے اٹھائے جانے والے 7 قیدیوں میں سے 4 بنوں جیل جبکہ 3 ہری پور جیل میں قید ہیں، بنوں جیل میں قید ہونے والے افراد میں ڈاکٹر نیاز، عبدالباسط، عبدالماجد اور  محمد مظہر الحق شامل ہیں جبکہ ہری پور جیل میں شفیق الرحمان، گل روز اور محمد شفیق قید ہیں۔ دوسری جانب عدالت نے لاپتہ فرد یاسین شاہ کیس کی سماعت سوموار تک ملتوی کرتے ہوئے حکم جاری کیا ہے کہ وزارت دفاع مذکورہ فرد سے متعلق رپورٹ پیش کرے۔ بدھ کو چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں جسٹس شیخ عظمت سعید اور جسٹس گلزار احمد پر مشتمل خصوصی بنچ نے مقدمات کی سماعت کی۔ دوران سماعت سیکشن آفیسر نے عدالت کوبتایا کہ لاپتہ افراد کو پولیٹیکل ایجنٹ پشاور نے پی پی سی کے سیکشن 120 اور 121 کے تحت سات سال اور چودہ سال کی سزائیں سنائی ہیں۔ اس پر جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ لاپتہ افراد کو اس سیکشن کے تحت کیسے سزائیں دی جا سکتی ہیں۔ اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے پیش ہو کر بتایا کہ اس حوالے سے مجھے سات دن کا وقت فراہم کیا جائے تاکہ سیکرٹری قانون سے بات کرکے عدالت کو بتایا جائے اگر ضرورت محسوس ہوئی تو وزارت داخلہ سے بھی بات کی جائے گی۔ دوسری جانب لاپتہ فرد یاسین شاہ کیس میں میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل طارق کھوکھر نے عدالت کو بتایا کہ میری سیکرٹری دفاع سے بات نہیں ہو پائی کیونکہ وہ اس وقت راولپنڈی میں ایک میٹنگ میں مصروف تھے اسی وجہ سے کوئی ڈائریکٹو بھی جاری نہیں ہو سکا جبکہ مذکورہ فرد کو عدالت میں پیش کرنے اور اس کی حراستی مرکز میں موجودگی کی تصدیق سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ مالاکنڈ میں جاری آپریشن کی بنا پر کچھ مشکلات ہیں جس کی وجہ سے وہاں بھی رابطہ نہیں ہو سکا۔ آن لائن کے مطابق جسٹس افتخار محمد چودھری نے اڈیالہ جیل سے اٹھائے گئے گیارہ لاپتہ افراد کو بغیر جرم مسلسل حراست میں رکھنے پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بے گناہ کو جرم کے بغیر سزا نہیں دی جا سکتی۔ معلوم ہی نہیں کہ لاپتہ افراد کہاں ہیں اور کس جرم  کے تحت ان کا ٹرائل کیا جا رہا ہے۔ طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ ان لوگوں کو پشاور لے جایا گیا تھا اس کے بعد معلوم نہیں کہاں منتقل کیا گیا ہے اور انہیں کسی جرم کے بغیر ہی سزا دی گئی ہے۔ چیف جسٹس نے کہا کہ آپ دلائل مکمل کر چکے ہیں اس لئے  اب ہم اٹارنی جنرل سے معلومات لیں گے۔ عدالت نے وزارت دفاع سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت بیس نومبر تک ملتوی کر دی۔ چیف جسٹس نے کہا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں نہیں ہونے دیں گے۔