طالبان حملوں کا خوف، ٹرک ڈرائیوروں کا نیٹو افواج کیلئے رسد لے جانے سے انکار

14 نومبر 2013

اسلام آباد / لندن (اے این این)  امریکی ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکومت نے تو نیٹو سپلائی بند نہیں کی مگر سپلائی لے جانے والے درجنوں ٹرک ڈرائیوروں نے افغانستان میں تعینات امریکی اور اتحادی افواج کیلئے رسد لے جانے سے انکار کر دیا۔ ٹرک ڈرائیوروں نے یہ فیصلہ حکیم اللہ محسود کی ہلا کت کے بعد نیٹو سپلائی پر جاری حملوں میں تیزی، خوف اور امن و امان کی غیر یقینی صورت حال کے پیش نظر کیا۔ برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق دیر کے رہائشی 45  سالہ عثمان غنی  نے بتایا کہ سات نومبر کو قبائلی علاقے جمرود میں نیٹو کنٹینر پر حملے سے ڈرائیور ولی محمد کی ہلا کت کے بعد اب اس کام سے وابستہ درجنوں افراد کے سروں پر خوف کے بادل منڈلا رہے ہیں۔  ٹرانسپورٹرز کی تنظیم نے بھی فیصلہ کیا ہے کہ اگر حکومت نیٹو سپلائی کو مکمل سکیورٹی فراہم نہیں کرتی تو وہ اپنی جان اور اپنے ٹرکوں کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے اور اتحادی افواج کو سپلائی روک دیں گے۔ طورخم سرحد پر موجود کسٹم کلیئرنس کے اہلکار ابو عامر نذیر نے کہا کہ روزانہ تقریباً ایک سو نیٹو کنٹینرز طورخم بارڈر عبور کر کے افغانستان میں داخل ہوتے ہیں۔ سابق چیف سیکرٹری فاٹا اور دفاعی تجز یہ نگار بریگیڈیئر محمود شاہ کے مطابق حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد  نیٹو سپلائی پر حملوں میں بھی شدت آئے گی۔ پولیٹیکل انتظامیہ کے سینیئر افسر معراج خان نے  بتایا کہ نیٹو سپلائی لائن کے لیے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں۔ ٹرانسپوٹروں نے پاک افغان شاہراہ پر نیٹو سپلائی لائن اور ڈرائیوروں کی حفاظت کے لئے عملی اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے۔ کسٹم حکام  نے کہا ہے کہ نیٹو کنٹینروں اور آئل ٹینکروں سے کراچی پورٹ پر ٹیکس اور طورخم سرحد تک ٹیکس کی ادائیگی  کی مد میں سرکاری خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہو سکتا ہے۔