تھری جی ٹیکنالوجی کی نیلامی کو شفاف بنایا جائے: سینٹ قائمہ کمیٹی

14 نومبر 2013

اسلام آباد (اے پی پی) سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے کابینہ سیکرٹریٹ و کیپٹل ایڈمنسٹریشن نے تھری جی ٹیکنالوجی کی نیلامی شفاف بنانے اور سرکاری ملازمین کی بروقت اے سی آر نہ لکھنے والے افسران کیخلاف تادیبی کارروائی کرنے اور تنخواہ روکنے کی سفارشات کر دیں۔ بدھ کو یہاں کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن سینیٹر کلثوم پروین کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں قائمہ کمیٹی کی تجاویز اور سفارشات پر عملدرآمد کی روشنی میں پی ٹی اے کے چیئرمین ممبران اور ایم ڈی پی آئی اے کی تعیناتیوں کو خوش آئند قرار دیا گیا۔ چیئرپرسن سینیٹر کلثوم پروین نے کہا کہ سرکاری ادارے قومی اثاثے ہیں اور ملازمین عوام کے خادم، قومی اثاثوں کے حامل نجی و سرکاری اداروں کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ اہل، دیانتدار، تجربہ کار افسران کی میرٹ پر تعیناتی جلد از جلد مکمل کی جائے اور اداروں میں سرکاری و سیاسی مداخلت کا خاتمہ کر کے ملکی مفاد کو ترجیح دی جائے۔ اعلیٰ افسران تعیناتی کمیشن کے چیئرمین عبدالرئوف چودھری نے آگاہ کیا کہ کمشن 58 سرکاری و نجی محکمہ جات میں اعلیٰ عہدیداران کی تعیناتیاں مکمل کرے گا۔ اجلاس کو آگاہ کیا گیا کہ اوگرا، نیپرا اور پیمرا کے چیئرمین مقرر کرنے کیلئے میرٹ پر سختی سے عمل کیا جائے گا۔ سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ شاہد رشید نے آگاہ کیا کہ مختلف پیشہ وارانہ گروپس، سروسز، ایس کیڈر پوسٹس کے افسران کی ترقیوں کیلئے سنٹرل سلیکشن بورڈ نے گریڈ 20 کے افسران کی ترقی کی منظوری دی۔ گریڈ 20 کے اوریا مقبول کی سال 2011ء کی اے سی آر نہ ہونے کی وجہ سے ترقی موخر کی گئی جو انہیں 2011ء میں سپرسیڈ ہونے کے بعد حاصل کرنی تھی۔ اوریا مقبول نے اعلیٰ عدلیہ میں آئینی درخواست دائر کر دی جس پر سپریم کورٹ نے ترقی کے احکامات منسوخ کر دیئے۔ اجلاس کو آگاہ کیا کہ کل 601 افسران کو ترقی دی گئی تھی صرف 81 افسران کی تنزلی ہوئی۔ کمیٹی کے ممبران کی متفقہ ر ائے تھی کہ سرکاری اہلکار کی اے سی آر بروقت نہ لکھنے والے مجاز افسر کیخلاف تادیبی کارروائی کے علاوہ تنخواہ بھی بند کر دی جائے۔ لاء ڈویژن کی طرف سے اعلیٰ سرکاری افسران کی تنزلی کے مقدمہ میں نااہلی پر کارروائی کی سفارش کی گئی۔ سینیٹر کامل علی آغا نے کہا کہ لاء ڈویژن سرکاری ملازمین کے جائز معاملات ومسائل کو بھی حل نہیں کرتا اور رشوت کا بازار گرم ہے۔ سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ سپریم کورٹ میں کمزور جواب جمع کرانے کے ذمہ داران کا تعین ضروری ہے جس کی وجہ سے ذمہ دار ادارے اور حکومت میں تصادم ہوا۔ ڈاکٹر سعیدہ اقبال نے رولز آف بزنس میں ترمیم کی تجویز دی سینیٹر نجمہ حمید نے کہا کہ اداروں کو کوتاہی اور من پسند شخصیات افراد کو فائدہ دینے کے تاثر کو زائل کرنا ہو گا۔ سینیٹر یوسف بادینی نے تھری جی نیلامی کو مکمل شفاف بنانے پرزور دیا۔ آئندہ اجلاس میں لاء ڈویژن کے سیکرٹری کی حاضری کو یقینی بنانے کا فیصلہ ہوا اور اسی افسران کی بورڈ سے ترقی اور سپریم کورٹ سے تنزلی اور لاء ڈویژن کی تیار کردہ اپیل کی تفصیلات طلب کر لیں۔ قائمہ کمیٹی نے پمز ہسپتال میں مریضوں کو وینٹی لیٹر و دیگر سہولیات کی عدم فراہمی پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پمز ہسپتال کا اچانک دورہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔