پارلیمنٹ اور الیکشن کمشن کی آواز سنی گئی، چاہتے تھے انتخابات مارچ میں ہوں: خورشید شاہ

14 نومبر 2013

لاہور + اسلام آباد (خصوصی رپورٹر + ایجنسیاں) مختلف سیاسی جماعتوں نے سپریم کورٹ کی جانب سے بلدیاتی انتخابات کے شیڈول پر دئیے گئے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے ملے جلے تاثرات کا اظہار کیا ہے‘ متعدد سیاسی رہنمائوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ اور الیکشن کمشن کی آواز سن لی ہے‘ خواہش تھی کہ بلدیاتی انتخابات مارچ تک ملتوی ہو جاتے شیڈول تبدیل نہ ہوتا تو الیکشن کمشن کی آزادی بھی سوالیہ نشان بن جاتی‘ بلدیاتی انتخابات سیاسی جماعتوں نے لڑنا ہے۔ فیصلہ درست ہے‘ سپریم کورٹ کے فیصلے سے شفاف بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔ الیکشن کمشن تاریخوں کے تعین کیلئے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے۔ پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے کہا کہ خواہش تھی کہ بلدیاتی انتخابات مارچ تک ملتوی ہو جاتے۔ شیڈول تبدیل نہ ہوتا تو الیکشن کمشن کی آزادی بھی سوالیہ نشان بن جاتی۔ سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ اور الیکشن کمشن کی آواز کو سن لیا ہے۔ پی پی پی کے وائس چیئرمین سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا کہ تاخیر کا فیصلہ درست ہے، بلدیاتی انتخابات سیاسی جماعتوں نے لڑنا ہے عدالت نے نہیں‘ فیصلہ درست ہے۔ ایم کیو ایم کے رئوف صدیقی نے کہا کہ فیصلے پر سوچ بچار کے بعد ہی کچھ کہا جا سکتا ہے۔ اگر مقناطیسی سیاہی نہ ہوتی تو انتخابات سوالیہ نشان نہ بن جائیں۔ مسلم لیگ (ف) کے امتیاز شیخ نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے سے شفاف بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہوئی۔ بلدیاتی انتخابات کیلئے تاریخ کے تعین کیلئے الیکشن کمشن دیگر جماعتوں سے بھی مشاورت کرے۔ مسلم لیگ (ن) کے مرکزی رہنما اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے مشیر خواجہ احمد حسان نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) بلدیاتی الیکشن کے لئے تیار تھی، اب انشاء اللہ 30 جنوری کو وقت پر ہی الکیشن ہوں گے، کارکن انتخابی مہم کا ٹیمپو نہ ٹوٹنے دیں، گھر گھر ووٹروں سے رابطوں کا سلسلہ جاری رکھیں۔ ہمارے مخالف الیکشن سے بھاگ رہے تھے جبکہ ہم پوری طرح تیار تھے، ہمیں امید ہے الیکشن کشمن نئی مقرر کردہ تاریخ 30 جنوری کو یقیناً الیکشن کروا دے گا۔