مہنگائی‘ خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد بڑھے گی: ماہرین

14 نومبر 2013

لاہور (کامرس رپورٹر) ماہرین اقتصادیات اور کاروباری برادری نے روپے کی قدر میں کمی کے باعث بڑتی ہوئی مہنگائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ مہنگائی کو روکنے کے لئے روپے کی قدر مستحکم رکھنے کے لئے موثر اقدام کرے ورنہ ملک میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا اور سفید پوش تنخواہ دار طبقے کی قوت خرید ختم ہو کر رہ جائے گی۔  معروف ماہر اقتصادیات  ڈاکٹر خواجہ امجد سعید نے کہا کہ جب پیپلز پارٹی  کی حکومت آئی تو ڈالر کی قیمت تقریباً 60 روپے تھی اور جب ان کی حکومت ختم ہوئی تو ڈالر کی قیمت تقریباً 90 روپے تھی اور 5 ماہ گزرنے کے بعد اس ڈالر کی قیمت 108 روپے سے بڑھ  گئی ہے اس کا مطلب ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں ہر ماہ  ڈالر  کی قیمت میں 3 روپیاضافہ  ہوا ہے۔  موجودہ حکومت  نے فارن ایکس چینج  کے حوالے سے کوئی پالیسی نہیں بنائی۔ امریکہ میں 10 ہزار ڈالر سے زائد رقم کے بارے میں انکوائری ہوتی ہے کہ  کس لئے اتنی بڑی رقم لے کر جا رہے ہیں۔  پاکستان میں جس کا دل چاہتا ہے وہ ڈالر کے بیگ بھر کر باہر لے جاتا ہے۔ ماہر اقتصادیات  پروفیسر میاں محمد اکرم نے کہا کہ حکومت نے ٹیکس نیٹ بڑھانے کی بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان پر مزید ٹیکسوں کا بوجھ ڈالا جس کے باعث کبھی ٹیکس وصولی کا ہدف پورا نہیں ہوا اور اپنے اخراجات چلانے کے لئے  آئی ایم ایف سے کڑی شرائط  پر قرضے حاصل کئے اب بھی روپے کی قدر میں کمی آئی ایم ایف کے کہنے پر کی گئی ہے اور ستم ظریفی یہ ہے کہ آئی ایم ایف خود کہہ رہا ہے کہ روپے کی قدر میں کمی کے باعث پاکستان میں مہنگائی بڑھ گئی ہے۔  انہوں نے کہا کہ پاکستان کے اقتصادی مشکلات کا صرف ایک حل ہے کہ 5 لاکھ سے زائد سالانہ آمدن پر ٹیکس عائد کیا جائے اور برآمدات میں اضافے کے موثر اقدامات کئے جائیں۔