بیوروکریسی نے گورنر کی ہدایت کے باوجود گورنر ہائوس کا بجٹ 30 فیصد کم کرنے سے انکار کردیا

14 نومبر 2013

لاہور ( معین اظہر سے ) پنجاب میں بیوروکریسی شاہ سے زیادہ شاہ کی وفادار بن گئی ہے۔ گورنر پنجاب کی ہدایات کے باوجود گورنر ہاؤس کا بجٹ 30 فیصد کم کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ گورنر ہاوس کو پچھلے مالی سال کے مقابلے میں پہلے ہی کم فنڈز دئیے گئے ہیں اور چونکہ سٹیٹ بنک اپنی رپورٹ میں کہہ چکا ہے کہ اس سال مہنگائی میں 9 فیصد اضافہ ہوگا اسلئے گورنر ہاؤس کے تنخواہوں کے سوا بجٹ میں کمی نہیں کی جاسکتی ۔ گورنر ہاؤس کے ملازمین کی تعداد کم کرنے کی بجائے گورنر سیکرٹریٹ کی پوسٹیں کم کر دی گئی ہیں۔ چوہدری محمد سرور نے اگست میں گورنر پنجاب بننے کے بعد ملک کی خراب مالی صورتحال کی وجہ سے گورنر ہاؤس کے اخراجات 30 فیصد کم کرنے کا اعلان کیا تھا جس کے بعد گورنر پنجاب کی ہدایات پر چیف سیکرٹری پنجاب کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی گئی تھی جس کے ممبران میں سیکرٹری خزانہ، سیکرٹری سروسز، پرنسپل سیکرٹری اور ملٹری سیکرٹری ٹو گورنر شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق کمیٹی نے گورنر سیکرٹریٹ کی پوسٹیں جو اس بجٹ میں 187 دی گئی تھیں، کو کم کرکے 131 کرنے کی سفارش کی ہے جبکہ گورنر سیکرٹریٹ کے محتسب ونگ میں ایک ڈپٹی سیکرٹری، دو سیکشن افیسر کی آسامیاں پیدا کردی گئی ہیں۔ اس بارے میں کمیٹی کے اجلاس میں سیکرٹری خزانہ پنجاب نے کہا چونکہ گورنر کے پاس صوبائی محتسب کے فیصلوں کیخلاف اپیل سننے کا اختیار ہے اور صوبائی محتسب کی اپیلوں میں تیزی سے اضافہ ہو تا جا رہا ہے۔ محتسب ونگ میں ڈپٹی سیکرٹری کی گریڈ 18 اور سیکشن افسر کی دو آسامیاں گریڈ 17 میں پیدا کردی جائیں جبکہ گورنر سیکرٹریٹ کی آسامیوں کیلئے 7 کروڑ 21 لاکھ کا بجٹ تھا اور اب 56 آسامیاں کم ہونے کی صورت میں گورنر سیکرٹریٹ کا بجٹ پانچ کروڑ 6 لاکھ 45 ہزار 404 روپے ہوجائیگا اور گورنر سیکرٹریٹ سے پوسٹیں کم ہونے پر گورنر سکرٹریٹ میں 2  کروڑ14 لاکھ 96 ہزار 124 روپے کی کی بچت ہوگی جو کہ بجٹ کا 29.80 فیصد ہوگی۔واضح رہے پوسٹیں کم کرنے سے ملازمین کو گورنر ہاؤس سے تبدیل کرکے دوسری جگہ تعینات کردیا جائیگا جس سے سرکاری خزانہ پر بوجھ کم نہیں ہوگا۔ دوسری جانب گورنر ہاو س کے اخراجات کم کرنے سے انکار کر تے ہوئے موقف اختیار کیا گیا ہے کہ فنانس ڈیپارٹمنٹ نے یکم جولائی کو بجٹ پر 15 فیصد کٹوتی کا نوٹیفکیشن جاری کیا تھا ۔ اسی طرح گورنر سیکرٹریٹ کا بجٹ جو 2012-13ء میں دیا گیا تھا، اسکے مقابلے میں 2013-14ء میں گورنر سیکرٹریٹ کو 11.26 فیصد بجٹ کم دیا گیا ہے جس کی وجہ سے 15 فیصد معاشی کٹ، گزشتہ سال کے بجٹ کے مقابلے میں اس سال کم رقم دینے کے بعد گورنر ہاؤس کا بجٹ پہلے ہی 25 فیصد کم ہوگیا ہے۔ گورنر سیکرٹریٹ کو دئیے جانیوالے فنڈز میں سے اس سال مختلف مدوں میں تقریباًً 4 لاکھ 10 ہزار 380 روپے سیلز ٹیکس کی کٹوتی ہوگی۔ 2 لاکھ 33 ہزار 516 روپے انکم ٹیکس کٹوتی ہوگی اسلئے مزید گورنر ہاوس کے فنڈز کی کٹوتی نہیں ہوسکتی ہے۔ گورنر ہاؤس کی رقوم میں پہلے ہی 29.4 فیصد کٹوتی ہوچکی ہے، اس طرح کا قربانی کسی محکمے نے نہیں دی ہے۔