شہید اللہ کے سپرد ہوئے، زخمیوں کی خبر تو لیں

14 نومبر 2013

شہیدوں کی قسمت کا فیصلہ منور حسن اور فضل الرحمن نے اپنے ہاتھ میں لے لیا، مگر اصل میں ان کی قسمت کا فیصلہ اللہ کے سپرد، وہ ان کے درجات بلند کرے، ان کو ابدی زندگی نصیب فرمائے، ان کے لئے ہم صرف دعا کر سکتے ہیںلیکن میں آپ کی توجہ ان ہزاروں زخمیوںکی طرف دلانا چاہتاہوںجو دہشت گردوں کے ہاتھوں زخمی ہوئے، زخمی کیا ہوئے، اپاہج ہو گئے، معذور ہو گئے، زندہ در گور ہو کر رہ گئے، آج آپ اللہ کی رضا کی خاطر اپنے ہمسائے میں دیکھئے ، اگرآپ کو کوئی ایساشخص نظر آ جائے جو بیساکھیوں  کے سہارے چلنے کی کوشش کر رہا ہو،ِ جس کا ایک یا دونوں ہاتھ کٹ گئے ہوں، یا اس کی ایک یا دونوں ٹانگیں کٹ گئی ہوں یا دونوں ٹانگوں کے ساتھ ایک یا دونوں ہاتھ کٹ گئے ہوں اور وہ بستر سے چپک کر رہ گیا ہو، تو جان لیجئے کہ وہ کسی نہ کسی درندہ صفت گروہ کا نشانہ بنا ہے، کسی خودکش دھماکے میںنشانہ بنا ہے، مجھے یہ بتانے کی ضرورت نہیںہونی چاہئے تھی کہ وہ آپ کا محسن ہے ، وہ اس قوم کا محسن ہے، وہ پاکستان کا محسن ہے، اس نے آپ کی سلامتی کیلئے اپنی سلامتی کو دائو پر لگا دیا ہے۔اس نے آپ کے سکون اور چین کے لئے اپنا زندگی بھر کا سکون اور چین تج دیا ہے۔
وزیر اعظم نے جی ایچ کیو میں شہدا کی یادگار پر حاضری دی، ان کو خراج تحسین پیش کیا، وہ جنہوںنے اپنا آج ہمارے کل کیلئے قربان کر دیا۔آرمی چیف اگلے چند دنوں میں لاہور کے ڈیفنس میں شہدا سیکٹر کا افتتاح کریں گے ، اس میں شہدا کے لواحقین کو گھر بنا کر دیئے جائیں گے۔ دنیا بھر میں شہدا کی یادگاریں بنی ہوئی ہیں، مگر کیا کسی نے جنگوں میں زخمی، معذور اور اپاہج ہونے والوں کی بھی کوئی یادگار تعمیر کی ہے ۔ ان کے لئے کوئی کیئرنگ سنٹر بنایا ہے، ملالہ کو گولی لگی ، وہ بے ہوش ہو گئی، پاکستانی ڈاکٹروںنے اس کا آپریشن کیاا ور اسے مزید علاج کے لئے برمنگھم کے ایسے ہسپتال میں بھجوا دیا گیا جو جنگوں میں بے ہوش ہو جانے والوں کی خصوصی بحالی کی مہارت رکھتا ہے، لیکن دہشت گردی کی جنگ میں ہر زخمی اور بے ہوش ہونے والے کا نام ملالہ نہیں، نہ اس کے پیچھے وہ لابی ہے جو ملا لہ کو میسر آ گئی ہے اور وہ ایک نارمل انسان کی طرح چہک رہی ہے ، ملک ملک اس کو انعامات سے نوازا جا رہا ہے۔ بھلا سوچئے ان زخمیوں کا جنہیں یہ توجہ نہیں مل سکی اور وہ ایک مستقل معذوری کی زندگی بسر کرنے پر مجبو ر ہیں۔
ایک انداز ے کے مطابق پندرہ ہزار کے قریب فوجی افسرا ور جوان اور تیس ہزار کے قریب سویلین دہشت گردوں کے سفاک ہاتھوں سے معذور پڑے ہیں۔شہید ہونے والے فوجی افسروں اور جوانوں کی تعداد پانچ ہزار اور سویلین کی تعداد پینتالیس ہزار ہے، وہ سوال کر رہے ہیں ، ہمیں کس جرم کی سزا دی گئی،اور اگر یہ جرم نہیں تھا تو پھر اہل وطن نے ان کے ساتھ کیا سلوک روا رکھا ، کیا یہ سلوک مناسب ہے جو منور حسن اور فضل الرحمن کر رہے ہیں یا وہ سلوک ضروری تھا جو زندہ قوموں کا شیوہ ہوا کرتا ہے۔
خدا کسی کو معذوری نہ دکھائے، اس کا دکھ ان سے پوچھئے جن کے پیارے ان کے گھروںمیں بستروںپر پڑے ہیں اور ان کا جسم بستر پر لیٹے رہنے سے روزانہ نئے زخموںسے بھر جاتا ہے۔کئی خاندان ایسے ہیں جن میں کوئی کمانے والا نہیں ، دوا ،دارو لانے والا نہیں، بچوں کو اسکول لے جانے اور لانے والا نہیں ۔ آپ دانشوروں کی بہکاوے میں آ کر سوچتے ہوں گے کہ فوج کے پاس فنڈ ہیں ، وہ ہمارا سارا بجٹ کھا جاتی ہے تو زخمیوں کی دیکھ بھال خودکرے ، ان کے بوڑھے والدین کو سہارا دے، ان کے بچوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھے۔ آپ ٹھیک ہی سوچتے ہوں گے۔فوج اپنی سی کوشش ضرور کر رہی ہو گی مگر کیا معاشرے کا بھی کوئی فرض بنتا ہے، کیا ایک ہمسائے کے طور پر آپ کا بھی کوئی فرض بنتا ہے، جواب ہے کہ ضرور بنتا ہے ، خلق خدا کے دکھوں کا مداوا کرنا کسی ایک کے بس میں نہیں ، اس کے لئے معاشرے کو اجتماعی کوشش کرنی چاہیے ۔
میںنے اپنے بڑے بھائی کی معذوری دیکھی ہے ، وہ ایک حادثے میں کمر تڑوا بیٹھے اور پھر اگلے چوبیس برس ایک ہی بستر پر لیٹے رہے،ان کی ٹانگیں پہلے تو سوکھنے لگیں ، پھر ایک گیند کی طرح گول ہوتی چلی گئیں،ایسے لگتا کہ وہ کنڈلی مارے بستر پر لیٹے ہیں، وہ محض ایک پرائمری اسکول ٹیچر تھے، ان کے سات بچوں میں سے صرف دو ہی پڑھ سکے۔ میرے لئے اپنے بھائی کو دیکھنا برداشت سے باہر تھا، وہ اسی حالت میں ایک دن اللہ کو پیارے ہو گئے، تو اب میرے ملک میں پینتالیس ہزار فوجی اور سویلین جو معذور پڑے ہیں، وہ بھی میرے بھایئوں کی طرح ہیں ، مجھے ان کے دکھ کاپور ا پوراحساس ہے، میں چاہتا ہوں کہ کوئی نیک، مخیر اور صاحب دل شخص دہشت گردی کی جنگ میں معذور ہو جانے والوں کے لئے ایک فنڈ قائم کر دے، میری ایک ماہ کی حقیر تنخواہ اس میں پہلے قطرے کے طور پر حاضر ہوگی، یہ فنڈ معذور افراد کے گھرانوں کے کچھ دکھوں کا مداوا ضرور کر دے گا۔ میری ایک درخواست اس ملک کے نوجوانوںسے ہے کہ وہ ایک ایسی رضا کار فورس کھڑی کریںجو ان زخمیوں کے گھروالوں کا ہاتھ بٹائیں،اس رضا کار فورس میں شامل میری بہنیں اور بیٹیاں پارٹ ٹائم ان زخمیوں کی نرسنگ کریں، ان کی مرہم پٹی کریں ۔اس میں کچھ خرچ تو نہیں ہوتا۔
جنرل کیانی نے فوج کا اپنے بچوں کی طرح خیال رکھا ہے، انہوں نے شہیدوں کے لئے ایک رہائشی سیکٹر کا اہتمام کیا ہے، کیا ہی اچھا ہو کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر ایک ایسی اسکیم تیار کریں جس  کے تحت ملک بھر میں دہشت گردی کی جنگ کے زخمیوں کے لئے نرسنگ سنٹرز قائم کئے جائیں۔ملالہ کو جو سہولتیںملی ہیں ، ایسی نہ سہی لیکن جو پاکستان کے بس میں ہے، وہ تو ہم اپنے محسنوں کے لئے ضرور کر گزریں۔
میں اپنی قوم کے بل گیٹس سے بھی توقع رکھتا ہوں کہ وہ فالتو دولت کو انسانی بھلائی کے لئے وقف کر دیں۔ ایک گنگا رام اور ایک گلاب دیوی کی تقلید ہم کیوںنہیں کرسکتے۔ ہم ہسپتال اور اسکول قائم کرتے ہیںلیکن تجارتی بنیادوںپر، فائیو اسٹار ہوٹلوں کی آسائشوں سے مزین ، جہاں غریب اندر جھانکنے کی سکت بھی نہیں رکھتا۔ہمارے پاکستانیوں کی دولت بیرونی بنکوں میں گل سڑ رہی ہے، ہم کاروبار بھی کرتے ہیں تو لندن، نیو یارک میں، مگر حکومت کرنی ہو توہم پاکستان آ جاتے ہیں ، ہم ووٹ پاکستانیوں سے لیتے ہیں لیکن ان کی فلاح کی کوئی ایک اسکیم بھی نہیں بنا پاتے ۔
آیئے ، کم از کم حالیہ جنگ کے زخمیوں، معذوروں ، اپاہجوں کا ہاتھ تو آگے بڑھ کر تھام لیں۔