دہشت گردی کے دو واقعات سے شہر کی فضا سوگوار

14 نومبر 2013

فرحان راشد میر
عشرہ محرم الحرام کے دوران ہفتہ کو علی الصبح دو امام بارگاہوں میں یکے بعد دیگرے نامعلوم افراد کی فائرنگ سے امام مسجد سمیت 3 افراد کی ہلاکتوں سے جہاں شہر کی فضاء سوگوار ہو گئی ہے وہیں انتظامیہ کے فول پروف سکیورٹی کے دعوے بھی دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں۔ گوجرانوالہ میں عموماً عشرہ محرم پرامن طریقہ سے گذرجاتاہے اورتمام مسالک کے لوگ باہمی رواداری اوراحترام کا دامن ہاتھ سے نہیں جانے دیتے لیکن ان واقعات کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ گوجرانوالہ ایک مرتبہ پھردہشت گردوں کی ہٹ لسٹ میں شامل ہو گیا ہے ۔ ان واقعات کے ذمہ دارجہاں قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں تو وہیں ضلعی انتطامیہ بھی برابر کی شریک ہے کیونکہ محرم الحرام کے شروع ہونے سے پہلے پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے تیاریاں کیوں نہیں کی تھیں۔ صوبائی وزیرقانون رانا ثناء اللہ بھی چند روز قبل گوجرانوالہ تشریف لائے اور اعلی سطحی اجلاس کی صدارت کی اور ڈی سی او گوجرانوالہ ‘آر پی او گوجرانوالہ‘ سی پی او گوجرانوالہ نے انہیں امن وامان کے حوالے سے آگاہ کیا اور اس اجلاس کے بعد صوبائی وزیراور پولیس افسران نے دعویٰ کیا کہ فول پروف سیکیورٹی انتظامات مکمل کئے جاچکے ہیں مگر چند ہی دنوں بعد دہشت گردوںنے تین بے گناہوں کو لقمہ اجل بناکر اس دعوے کو جھوٹا ثابت کردیا ۔دہشت گردوں کے اطمینان اور بے فکری کا یہ عالم تھا کہ وہ جاتے ہوئے ہلاک ہونے والوں پر چادریں بھی ڈال کر گئے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اہل علاقہ نے  گولیوں کی آواز بھی نہیں سنی۔ شہریوں کا یہ سوال ہے کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے محرم الحرام سے پہلے تمام بارگاہوں کے باہر سی سی ٹی وی کیمروں کو نصب کروانے کے عمل کو کیوں مکمل نہیں کرسکے اور پولیس نے اس مقدس مہینے میں تمام امام بارگاہوں کے باہر نمازوں کے اوقات میں پولیس سیکیورٹی کیوں مہیا نہیں کی؟ اور جب واقعہ کی اطلاع ملنے پر ایک صوبائی وزیر گوجرانوالہ پہنچے تو اعلی سطحی اجلاس کے بعد آر پی او سعد اختر بھروانہ نے کہا کہ ڈویژن بھر کی 670 امام بارگاہوں کو پولیس سیکیورٹی مہیا نہیں کرسکتی۔اگر آر پی او سیکیورٹی فراہم نہیں کرسکتے تو انہوں نے  اس حوالے سے کیا اعلی حکام کو آگاہ کیاتھا‘ اور اگر آگاہ کیاتھا تو اس حوالے سے رینجرز یا پولیس کی اضافی نفری طلب کیوں نہیں کی گئی۔ شہری یوں محسوس کرتے ہیں جیسے ان کو ٹارگٹ کلرزکے رحم وکرم پر چھوڑدیاگیاہے۔ ماضی میں بھی ایس ایس پی اشرف مارتھ‘ جوڈیشل مجسٹریٹ سید فدا حسین‘ ان کی صاحبزادی اور گن مین سید علمدار حسین‘ اعجاز حسین رسولنگری ایڈووکیٹ بھی دہشت گردوں کا نشانہ بن چکے ہیںاوردہشت گردی کے اس تازہ واقعہ نے ماضی کے زخم ایک مرتبہ پھر تازہ کرددئیے ہیںان واقعات کے بعد پولیس کے اعلی افسران حرکت میں آئے اور انہوں نے فورتھ شیڈول کے 58 اور 9 مشتبہ افراد کو حراست میں لیاجن میں سے تین افغانی اور چھ کا تعلق کالعدم تنظیم سے بتایا جاتاہے۔سی پی او گوجرانوالہ راجہ رفعت مختار کا کہنا ہے کہ گرفتار ہونے والے 9 مشتبہ افراد سے اہم معلومات حاصل ہوئی ہیں اور امام بارگاہوں میں تین افراد کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔