قومی سیاست میں عدم برداشت کا رجحان

14 نومبر 2013

محمد ریاض اختر
جمہوریت کا حسن ایک دوسرے کی بات سننا اور برداشت کرنا کہلاتا ہے، اسی لئے اختلاف رائے کو جمہوری روایات سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تاہم تلخی‘ تنازعہ‘ احتجاج بائیکاٹ اور الزام تراشی یہ وہ عناصر ہیں جن کی آمیزش سے خوبصورت ریت روایت پر سوالیہ نشان لگ جاتا ہے؟ رواں ماہ قوم نے وہ مناظر بھی دیکھے جب ایوان بالا کے دو اجلاس ہوئے، ایک ایوان کے اندر اور دوسرا پارلیمنٹ کے باہر.... کھلے میدان میں سینیٹرز کا اجلاس دراصل احتجاج کی علامت تھا۔ وہ وزیر داخلہ چوہدری نثار کی طرف سے سینیٹ میں پیش کئے گئے ڈرون حملوں کے اعداد و شمار پر شاکی تھے.... سوال یہ ہے کہ قومی سیاست میں تلخی‘ احتجاج و الزام تراشی میں شدت کیوں آرہی ہے؟ اس حوالہ سے ممتاز سیاست دان کیا کہتے ہیں۔ ان کے خیالات کے منتخب حصے نذر قارئین ہیں:
٭.... راجہ جاوید اخلاص‘ ممبر قومی اسمبلی مسلم لیگ ”ن“
ہماری حکومت کو پانچ ماہ ہو رہے ہیں، اتنی مدت میں حکومت داخلی و خارجی سطح پر درپیش مسائل حل کرنے میں سنجیدگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ 9 ستمبر کو ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس اس سلسلے کی ایک کڑی تھی جس سے تمام جماعتوں نے حکومت کو قیام امن کے لئے طالبان سے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا۔ پھر کراچی میں ٹارگٹ کلنگ‘ بلوچستان میں زلزلہ کی تباہی‘ وزیراعظم کا دورہ امریکہ‘ برطانیہ اور جنرل اسمبلی سے خطاب‘ مجموعی طور پر وزیراعظم میاں نواز شریف کی مصروفیات کے سبب بعض معاملات کو بھرپور توجہ نہ مل سکی لیکن حکومت ان سے غافل نہیں۔ قومی اسمبلی میں عمران خان‘ خورشید شاہ اور دیگر جماعتوں کے پارلیمانی لیڈر کی رائے اور تجاویز کو احترام سے سناگیا۔ پی ٹی آئی کے سینیٹر رہنما شاہ محمود قریشی کی بلدیاتی الیکشن کے حوالہ سے قرارداد پر یوان کا مجموعی ردعمل اور اتفاق رائے سے قرارداد کی منظوری ملک و قوم اور جمہوریت کے لئے نیک شگون سمجھا گیا ہے۔ جہاں تک سوال تلخی کا ہے تو یہ اختلاف رائے جمہوریت کا حسن ہے اور واک آ¶ٹ پارلیمانی روایات کا حصہ ہے، ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ وطن عزیز میں نئی سرمایہ کاری کی شرح زیرو فیصد ہے۔ وزیراعظم نے چین‘ ترکی ‘ امریکہ اور برطانیہ کے دورے کے دوران سرمایہ کاروں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے خصوصی درخواست کی۔ ان شاءاﷲ سرمایہ کاری کے حوالہ سے ملک و قوم کو خوشخبریاں ملنے والی ہیں۔ سرمایہ کاری سے جہاں ترقی و خوشحالی کا دور آئے گا وہاں نئے اور میگاپراجیکٹ سے بے روزگاری ختم کرنے میں بھی مدد ملے گی۔ حکومت اور وزیراعظم میاں نواز شریف عوامی مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں‘ جو مسائل ہمیں ورثے میں ملے ہیں انہیں حل کرنے میں کم از کم 2 سال ضروری ہیں۔ مسلم لیگ ”ن“ پر عوام کا اعتمادہے۔ ان شاءاﷲ ہم عوامی اعتماد اور امنگوں کے مطابق آگے بڑھیں گے۔
٭ حاجی غلام احمد بلور .... ممبر قومی اسملی ، عوامی نیشنل پارٹی
سیاسی لوگوں میں سیاسی تلخیاں غیرمعمولی نہیں’ یہ سب سیاست کا حصہ بلکہ اس کی خوبصورتی کی علامت ہیں لیکن اس تلخی میں جھگڑے کی نوبت نہیں آنی چاہئے۔ یہ سیاست دان ملک و قوم کے لئے متحد ہیںجس کا عملی مظاہرہ ہم نے بار بار دیکھا‘ بیور کریسی کو اپنے مفاد کے ئے اکٹھا ہونے کا منظر ہم نے کئی بار دیکھا‘ قوم چاہتی ہے کہ سیاست دان مستقل طورپر متحد رہیں۔ اختلاف رائے ضرور ہو مگر جھگڑے کی نوبت نہ آئے جہاں تک الزام تراشی کا تعلق ہے کہ اے این پی سے زیادہ الزام کس پر لگے ،کبھی ہمیں روس اور کبھی بھارتی ایجنٹ ہونے کے طعنہ ملے ابھی حال ہی میں ایک صاحب نے اے این پی کی مرکزی قیادت پر الزام تراشی کی‘ دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ جب کچھ ”دوست“ ان الزامات کو ہوا دیتے ہیں۔ وطن عزیز کے موجودہ حالات افہام و تفہیم کی سیاست کا تقاضا کر رہے ہیں اور اس نیک نا م میں ہر مرتبہ حکومت کی طرف سے پہل ہونی چاہئے۔
٭....سینیٹر سعید غنی ،پاکستان پیپلز پارٹی
اختلاف رائے دراصل اس وقت تلخی میں تبدیل ہوتی ہے جب مخالف فریق انا کا پہاڑ سامنے لے آئے۔ پارلیمنٹ کے باہر سینٹ کا احتجاجی اجلاس اس سلسلے کی ایک کڑی تھا جو کام ایک سیکنڈ میںہو سکتا تھا وہ حکومت نے نو دن میں کیا لیکن اصل وزیر صاحب (چوہدری نثار) پھر بھی صلح کے لئے نہیں آئے۔ ہم نے احتجاج ختم کر دیا مگر معاملہ وہیں سے شروع کریں گے جہاں سے اختلاف پیدا ہوا تھا جب تک ڈرون حملوں کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والوں کی صحیح تعداد بتائی نہیں جاتی صورت حال میں تلخی رہے گی‘ اب دیکھیں وزیراعظم امریکہ کا دورہ کر کے آئے مگر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کی کوشش نہیں کی گئی گویا وزیراعظم کی نظر میں پارلیمنٹ کی کوئی حیثیت نہیں‘ جہاں تک الزام تراشی کا تعلق یہ صورت یکطرفہ ضد کے بعد نمودار ہوتی ہے اب دیکھیں اپوزیشن کی بات کو حکومت اہمیت نہیںدے رہی ہے نہ وزرائ....لگتا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ کی پوزیشن وزیراعظم سے زیادہ اہم ہے حالانکہ پارلیمانی اور جمہوری سسٹم میں اپوزیشن بات کو مسلسل نظر انداز نہیں کیا جاتا....!
٭....کرنل سلطان ظہور اختر ،نائب صدر مسلم لیگ (فنکشل)
میرے نزدیک تلخ صورتحال اس لئے جنم لے رہی ہے کہ مرکز اور صوبوں میں ایک دوسرے کے مفادات سے متصادم حکومتیں موجود ہیں ۔ پنجاب کے حکمران جو سوچتے ہیں تو سندھ سے رائے اس کے مخالف سامنے آ جاتی ہے پورے ملک میں ایسی ہی کارکردگی کا پہیہ چل رہا ہے ۔ 9 ستمبر کو تمام جماعتوں نے حکومت کو طالبان سے مذاکرات کا مینڈیٹ دیا۔ دو اڑھائی ماہ ہو گئے‘ ابھی تک حکومتی ٹیم سامنے نہ آ سکی۔ اس سے آپ حکومت کی سنجیدگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ جب تک عوامی ایشوز‘ مہنگائی ‘ بےروزگاری‘ قیام امن‘ گیس و بجلی اور مہنگائی ہیں اس پر حکومت پوری توجہ نہیں دے رہی ، اس لئے حکومت کی ساکھ پر حرف زنی ہوتی ہے۔
٭....ڈاکٹر محمد امجد ،سیکرٹری جنرل آل پاکستان مسلم لیگ
عوام نے 11 مئی کو مسلم لیگ (ن) کو جن توقعات کے پیش نظر مینڈیٹ دیا‘ وہ تمام امیدیں حسرتوں میں تبدیل ہو گئی ہیں ، اب لوگ پرویز مشرف دور کو یاد کر رہے ہیں اس دور میں روزگار تھا مہنگائی کنٹرول میں نہیں مقامی حکومتیں لوگوں کے مسائل حل کر رہی ہیں پہلے کہا گیا کہ حقیقی جمہوریت میں مسائل حل ہوں گے۔ جب پیپلزپارٹی کا دور آیا تو مسائل کم ہونے کی بجائے بڑھے۔ پھر لوگوں نے سمجھا کہ کہا نوازشریف آئیں گے تو مسائل خود حل ہو جائیں گے جب نوازشریف آئے تو پھر بھی لوگوں کی توقعات پوری نہ ہو سکیں۔ آج مہنگائی کا یہ عالم ہے کہ ٹماٹر 180 روپے فی کلو تک پہنچ گئے گویا پٹرول سے زیادہ نرخ ٹماٹر سے زیادہ ہیں ،سرمایہ کاری برائے نام ہے۔ بےروزگاری کا دور دورہ ہے لوگ پریشان ‘حیران اور مایوس ہیں کہ وہ ریلیف کے لئے کدھر جائیں؟ جب منتخب نمائندے اپنے انتخابی حلقوں میں جاتے ہیں تو انہیں ووٹرز کے غصے کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کے کڑوے کسیلے تبصروں کے بعد منتخب اراکین اپنی فرسٹریشن احتجاج سے نکال رہے ہیں حکومت نے عوام کی امیدیں اور توقعات پوری نہ کیں تو صورتحال اس بھی خطرناک ہو سکتی ہے ....ابھی تلخی ہے کل یہ تلخی احتجاج کا روپ دھارے گی تو یہ کہاں جائیں گے؟ حکمرانوں نے عوامی موڈ کا نوٹس نہ لیا تو صورتحال خطرناک سطح پر جا سکتا ہے!!
٭....سینیٹر کلثوم اختر بلوچستان نیشنل پارٹی (عوامی)
پارلیمنٹ حزب اختلاف اور حزب اقتدار سے بنتی ہے دونوں کو اپنی حدود میں جمہوری اور پارلیمانی کردار ادا کرنا پڑتا ہے، دونوں ایوانوں میں عوامی ایشوز زیر بحث ہوتی ہے لیکن جب ان ایشوز پر غیر سنجیدہ طرز عمل دکھایا جائے تو تلخی بڑھتی ہے پٹرول کے ریٹ مسلسل بڑھ رہے ہیں بجلی و گیس کے نرخ سے لوگ پریشان ہیں حکومت کو 5 ماہ سے زیادہ ہو گئے ہیں ابھی تک وہ عوامی ریلیف کے لئے انقلابی قدم نہیں اٹھا یا گیا 9 ستمبر کو اے پی پی ہوئی فیصلہ ہوا کہ حکومت طالبان سے مذاکرات کرے اور حکومت یہ تعمیری قدم کب اٹھائے گی جب اچھے کاموں کے لئے تاخیر ہوگی تو صورتحال پر سوال اٹھیں گے ،تلخی بڑھے گی۔ اس بار یہ تلخی طالبان کی طرف سے آ رہی ہے حکیم اﷲ محسود کی ہلاکت کے بعد ڈائیلاگ کا ماحول تلخی نے تقریباً موقوف کر دیا ہے اﷲ خیر کرے.... بلوچستان کی صورتحال الارمنگ ہے عید سے ایک روز قبل شہید ایس ایچ او کی نماز جنازہ ہو رہی تھی کہ ایک اور خودکش دھماکہ میں بہت سے افراد شہید ہوئے‘ اس سے قبل طالبات کی بس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا ہزارہ کمیونٹی کو بار بار دہشت گردی کا ہدف بنایا تھا اب اس کمیونٹی کے بہت سے لوگ ہجرت کر چکے ہیں ۔کہنے کا مطلب ہے کہ حکومت کو ہر معاملہ کو نظر انداز کرنے کی پالیسی ختم کرنا ہوگی۔ اب عجلت میں بلدیاتی الیکشن کرانے کی کوشش جاری ہے الیکشن کمیشن نے 11 مئی کے انتخابات جس ”خوش اسلوبی“ سے کرائے بلدیاتی الیکشن میں وہ اسی سپرٹ سے کرانے میں مصروف ہے؟ الیکشن میں توسیع ہونی چاہیئے کیونکہ ہمارے یہاں آج بھی کئی شہروں میں درجہ حرارت منفی سات سے بڑھ چکا ہے بہتر ہے کہ موسم کی تبدیلی کے لئے تھوڑا سا انتظار کرلیا جائے۔
٭....لیاقت بلوچ‘ سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی
ملک میں اختلا ف رائے کا حق ہے ایک دوسرے کو سننا اور برداشت کرنا چاہیئے۔ ہم امن کے متلاشی ہیں اور برداشت امن کی کنجی ہے قومی سیاست میں تلخی اس لئے کہ حکمران عوامی ایشوز نظر انداز کر رہے ہیں وہ غیروں کے ایجنڈے کو اہمیت دیتے ہیں اس لئے تلخی پیدا ہوتی ہے سیاست دان ‘ سیاسی جماعتیں اور فوج سمیت تمام ادارے محب وطن ہیں ان پر شک نہیں۔ تمام شخصیات اور ادارے اپنے اپنے طور پر جب وطن کا جذبہ عام کر رہے ہیں اگروقتی تلخی آ جاتی ہے تو قومی سیاست میں معمولی ہوتی ہے جو ان شاءاﷲ ختم ہو جائے گی۔