کیا بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی پارٹی میں واپسی ہو سکے گی؟

14 نومبر 2013

سلطان سکندر
”لائے ہیں بزم ناز سے یار خبر الگ الگ“ کے مصداق آزاد کشمیر کے حکمران کراچی میں پیپلز پارٹی آزاد کشمیر کے حکومتی معاملات کی انچارج محترمہ فریال تالپور کی زیر صدارت آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار محمد یعقوب خان اور وزیراعظم چودھری عبدالمجید کی کچن کیبنٹ کے اجلاس کی من مانی تاویلات کر رہے ہیں لیکن حریم اقتدار کی غلام گردشوں، حکومتی دفاتر اور سیاسی چوپالوں میں بھی اس کی صدائے بازگشت سنائی دینے لگی ہے اور وزیراعظم آزاد کشمیر نے اپنے اڑھائی سالہ دور اقتدار میں راولاکوٹ پونچھ کے دوسرے دورے کے دوران پریس کانفرنس میں یہ کہہ کر معاملے کو طول نہ پکڑنے دیا کہ آزاد کشمیر کے حکومتی معاملات پر کراچی میں پارٹی قیادت سے مشاورت سے آزاد کشمیر کا تشخص مجروح نہیں ہوتا جبکہ ”اڑتی سنی ہے ہم نے زبانی خیور کی“ کے دو بااثر وزراءکے درمیان تلخ کلامی نے کراچی اجلاس پر ”سنجیدگی“ طاری کر دی اور خود زرداری ہاو¿س کے ایک اہلکار کے بارے میں بھی سوال جواب تک نوبت پہنچی۔ آزاد کشمیر میں کرپشن کے قصے زبان زدِعام ہیں مگر حکومت تسلیم نہیں کرتی ایک اہم حکومتی شخصیت کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم بیرسٹر سلطان محمود چودھری کی پی پی پی سے وابستگی ختم ہو چکی ہے مگر کراچی اجلاس میں شریک ایک اور وزیر نے کہا کہ بیرسٹر سلطان محمود کے بارے میں فیصلہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل لطیف کھوسہ کریں گے جبکہ بیرسٹر سلطان محمود جو ہانگ کانگ اور جاپان کا دورہ کر کے واپس آ گئے ہیں بدستور اپنی پارٹی وابستگی پر اصرار کرتے ہوئے پارٹی کا نام اور پرچم استعمال کر رہے ہیں۔ وہ اپنی روائتی رجائیت پسندی سے کام لیتے ہوئے حکومتی تبدیلی کے لئے کوشاں ہیں مگر حالیہ ناکام تحریک عدم میں ان کے حلیف سابق وزیراعظم، اپوزیشن لیڈر اور پاکستان مسلم لیگ (ن) آزاد جموں وکشمیر کے صدر راجہ فاروق حیدر نے پلندری میں کہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد ہماری وجہ سے نہیں بلکہ بیرسٹر سلطان محمود کے باعث ناکام ہوئی تھی ہم تحریک اعتماد لائیں گے تو وزارت عظمٰی مسلم لیگ (ن) کو ملے گی اور اگلے سال موجودہ حکومت ختم ہو جائے گی۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود ہمیشہ وزارت عظمٰی پر اپنا حق فائق سمجھتے اور عوام کے دلوں پر حکومت کرنے کا دعویٰ کرتے رہے ہیں تاہم گزشتہ عام انتخابات کے نتیجے میں حکومت سازی کے مرحلے پر انہوں نے خود کو چانس نہ ملنے پر چودھری عبدالمجید کی حمایت کر دی تھی جو اب ان کا نام سننے کو تیار نہیں ہیں جس کا اظہار وہ پبلک طور پر بھی کر چکے ہیں اور شنید ہے کہ بیرسٹر سلطان محمود کے ایک قریبی ساتھی نے ان کی طرف سے ایک اور حکومتی رہنما کو ”وزارت عظمٰی“ کے لئے حمایت کی پیشکش کر دی ہے جس پر زبان حال میں یہ شعر صادق آتا ہے
کی بعد مرے قتل کے اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زدوپشیماں کا پشیماں ہونا