رفو گری

14 نومبر 2013

بڑے افسر کو اسکی حیثیت کے مطابق ادارے کی طرف سے بڑی گاڑی ملی ہوئی تھی۔ گھریلو استعمال کیلئے پرانی گاڑی کبھی کبھار استعمال کیلئے رکھی تھی جس کی ونڈ سکرین پر کئی سال قبل ٹرک کے ٹائر سے پھسل کر آنیوالی وٹی لگنے سے تریڑ پڑ گئی تھی۔ چند دن میں یہ تریڑ تین سے بڑھ کر چار انچ ہوگئی ۔مہینے ڈیڑھ بعد دراڑ ونڈ سکرین کو دو حصوں میں تقسیم کر کے اسے ناکارہ کردیتی ۔ بڑے خرچے سے بچنے کیلئے مکینک کے مشورے سے دراڑ کے آخر پر سوئی کے نَکّے برابر سوراخ کرا لیا اور دراڑ کا سفر اس سوراخ پر ختم ہو گیا۔ اتفاق سے اس افسر کی دفتری گاڑی بھی اسی عمل سے گزری جس کی طرف ہمارے سیاسی رویوں کے حامل بابو نے توجہ نہ دی توچند ہفتوں میں سکرین دو حصوں میں بٹی تو ادارے کے خرچ پر نئی ڈلوا لی۔ اس سے بھی بڑا ستم یہ کیا کہ ریڈی ایٹر کا پائپ پھٹا، انجن گرم ہوا پھر بھی گاڑی پر دفتر پہنچنے کی آتشِ شوق کے شعلے لپکتے رہے۔ تا آنکہ راستے میں انجن سیز ہو گیا۔۔۔ آنچل یا دامن پر ٹک لگتے ہی اس کو رفو کر لیا جائے تو وہ سنور جاتا اور تار تار ہونے سے محفوظ بھی رہتا ہے۔ ہمارے اکابرین ریاست و سیاست نے اقتدار ملنے پر ملک کو سرکاری گاڑی سمجھ کر استعمال کیا اور کئے چلے جا رہے ہیں۔
جمہوریت بہترین طرز حکومت ہے لیکن یہ ”نیک پروین“ نیم خواندہ اوپر سے اپنے مفاد کے حصول تک محدود دانش کے مالک جاگیرداروں اور سرمایہ کاروں کے ہتھے چڑھی تو”رضیہ “کی طرح بے بسی کی تصویر بنی نظر آئی۔ جمہوریت کے بجائے ملوکیت یا شہنشاہیت ہوتی تو امن کی چادر پر اول تو ٹک ہی لگتا اور اگر لگتا تو لگتے سے رفو گری کر لی جاتی۔ ان کو اپنی نسلوں تک کی حکمرانی کی بقا کی فکر ہوتی ہے ۔ہمارے جمہوریت دانوں اور آمروں کو اپنے وقتی مفادات ، اقتدار کی حفاظت اور طوالت سے غرض رہی۔ اس میں جو بھی معاون و مددگار بنا وہ لچا تھا یا لفنگا اسے گلے لگا لیا ۔ اس مقصد کیلئے حکمرانوں نے کئی غنڈے تو خود بھی پیدا کئے۔لانگ ٹرم پلاننگ کبھی نہیں کی گئی ۔ آج ہمارا وطن بدترین دہشت گردی کا شکار ہے۔ شدت پسندی‘ فرقہ واریت‘ علیحدگی کی تحریکوں اور اجارہ داری کی خاطر قتل و غارت نے ہر پاکستانی کو خوف میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ہمارے حکمرانوں کو خون میں لتھڑا پاکستان قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ وہ قوم کوخونریزی سے نجات تو دلانا چاہتے ہیں لیکن مصلحتوں سے دست کش ہونے پر تیار نہیں۔ نیم دلی سے کئے گئے اقدامات سے ہم قیامت تک امن کی تلاش میں بھٹکتے رہیں گے۔ پاکستان دنیا کی کوئی پہلی ریاست نہیں جس کو ایسے ہولناک حالات سے واسطہ پڑا ہے۔ کئی ممالک میں اس سے بدترین حالات تھے جن پر قابو پا لیا گیا۔ کئی مثالیں اپنے وطن میں بھی موجود ہیں ۔انکو بھی مشعل راہ بنایا جا سکتا ہے۔
جرائم پر قابو پانے کیلئے جیمز ولسن اور جارج کیلنگ نے 1982ءمیں ”ٹوٹی کھڑی“ کا نظریہ پیش کیا جس کے مطابق بہترین حکمت عملی سے مسائل کو پیدا ہوتے ہی حل یا ختم کر دینا ہے۔ ٹوٹی کھڑی فوری مرمت نہ کی جائے تو نوبت اسکے اکھڑنے تک آجاتی ہے۔ روڈی جولیانی 1994ءمیں نیو یارک کے میئر بنے تو نیو یارک مکمل طور پر مافیاز کے قبضے میں تھا۔ انکی اجاداری اور بدمعاشی میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔ جولیانی نے ٹوٹی کھڑکی کا فارمولا آزمایا۔ اس نے سفارشی اور دہشت گردوں کے آلہ کار قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے افسروں و اہلکاروں سے خلاصی پاکر روٹی کیلئے وارداتیں کرنیوالے کن ٹٹے بھرتی کر لئے۔ مافیا¶ں کو تین دن میں بوریا بستر لپیٹنے کی وارننگ دی گئی۔ اس پر جولیانی کو دھمکیوں کے براہ راست درجنوں فون آئے جس پر انتباہ 48 گھنٹے کر دیا گیا۔ اس پر ڈان مزید بگڑے تو مہلت مزید کم کرکے 24 گھنٹے کردی گئی۔اس مہلت میں غنڈے شہر کی اینٹ اینٹ بجانے کی تیاری کررہے تھے کہ نئی پولیس نے جہاں سے جو ملا ،کسی کو اٹھا لیا اور کسی کو پھڑکا دیا۔ جو زیر زمین گئے تیسرے روز فون پر جولیانی سے تین دن مہلت بحال کرنے کی درخواست کر رہے تھے جو ان کو دے گئی۔ سسلی سے آنیوالے غنڈوں نے نیو یارک کو خیرباد کہہ دیا۔ جولیانی میئر نہیں رہے‘ ان کی پالیسیوں پر عمل جاری ہے۔ ٹک لگتے ہی رفو گری اور کھڑکی ٹوٹتے ہی رپیئر کر لی جاتی ہے اور نیو یارک پرامن ہے۔
نصیراللہ بابر نے شاید جولیانی کے مافیاﺅں کیخلاف آپریشن سے رہنمائی لی اور کراچی کی روشنیاں لوٹا دیں۔ وہ کراچی کو امن دشمنوں سے چھڑانے کا عزم لے کر ائرپورٹ پر اترے تو ان کوکہا گیا ” 8 بوری بند لاشوں کا تحفہ قبول فرمائیے‘ تمہاری لاش بھی بوری میں ملے گی۔“ بابر نے دھمکی پر بزدلوں کی طرح ”دہشت گردوں کی سزائے موت کا“ فیصلہ واپس نہ لیا۔ کراچی میں تعینات پولیس کو تحفظ کا یقین اور ذمہ داری ادا کرنے کا احساس دلایا۔ اگلے دن کراچی کے بازاروں میں کئی بوری بند لاشیں پڑی پائی گئیں۔ زیر زمین غنڈوں کو نکال باہر لایا گیا۔ زمین تنگ ہوتی دیکھ کر بہت سے ملک سے فرار ہو گئے۔ جب تک نصیراللہ بابر بے نظیر بھٹو کے وزیر داخلہ رہے‘ کراچی میں چڑیا نے بھی پر نہیں مارا۔بینظیر کی حکومت ٹوٹی، ساتھ بابر بھی گئے تو کراچی پھر اندھیروں میں ڈوبتا چلا گیا ۔ اگر بابر کی پالیسی جاری رہتی تو روشنیوں کا شہر پھر سے ماتم کدہ نہ بنتا۔ بابر نے جن پولیس والوں کو تحفظ کا یقین دلایا تھا ان کو چن چن کر قتل کر دیا گیا۔کراچی کی حد تک اب امن کا دامن تار تار اور کھڑی چوکھٹ سے اکھڑ چکی، کراچی کے زخم ناسور بن گئے ہیں ان کا علاج ترش سیرپ نہیں‘ نشتر ہے اور جس کے پیچھے ماہر معالج کا ہاتھ ہو۔