”مفاہمت“ اور کرپشن!“

14 نومبر 2013

کرپشن جس نے وطن عزیز کی بنیادوں کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ اس کا خاتمہ کیسے ہو گا؟ وزیراعظم صاحب نے سادہ سا فارمولا بتا دیا تھا کہ ”میں نہ خود کرپشن کروں گا اور نہ کرنے دوں گا“ بیان رسمی ہونے کے علاوہ ”دلکش“ اور وزیراعظم صاحب کی ”نیک نیتی“ کا عملی ثبوت بھی ہے۔ وزیراعظم کی مسکراہٹ ”مفقود“ ہونے کا باعث موجودہ گھمبیر ملکی مسائل اور اداروں کی تباہی ہے۔ گھمبیر ملکی مسائل اور اداروں کی بربادی کا سبب سابقہ حکومتی عہدیداروں کی کرپشن ہے جنہوں نے کرپشن کی یہ موجودہ حکومت اپوزیشن کے دور میں ان سے ایک ایک پائی وصول کرنے کی ”دعویدار“ تھی۔ شہباز شریف کے کئی بیانات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ”زر بابا چالیس چوروں کے ٹولے“ کو ہم بھاگنے نہیں دیں گے اور ملک کی لوٹی ہوئی دولت ان سے ایک ایک پائی وصول کرینگے بلکہ گذشتہ دور میں میاں برادران کا یہ بیان بھی سامنے آیا تھا کہ ”محترمہ بے نظیر کے قتل کی تحقیقات بھی ہم کرائیں گے“ اب صورتحال یہ ہے کہ جن زرداری صاحب کے دور حکومت میں وطن عزیز کو تباہ و برباد کرنے میں ذرا بھی کسر نہیں چھوڑی گئی۔ اس وقت کے وزیراعظم گیلانی کے صاحبزادوں نے بھی کی کرپشن میں خوب ”نام کمایا“۔ حاجیوں کو بھی لوٹنے سے دریغ نہ کیا گیا۔ ریلوے، پی آئی اے سمیت ملکی اداروں کو سابق صدر زرداری ا ور سابق وزیراعظم گیلانی نے کھلی چھوٹ دے رکھی تھی کہ جیالے اور اتحادی خوب جی بھر کر ان اداروں کو لوٹیں اور برباد کریں اسکے بدلے میں بس پیپلز پارٹی کے ”اتحادی“ بنے رہیں تاکہ ”جمہوریت“ کا ”نام نہاد“ سفر بخیریت پنج سالہ اختتام پذیر ہو۔ لہٰذا ایسا ہی ہوا یہاں تک کہ گیلانی کو سپریم کورٹ سے باقاعدہ سزا بھی دی گئی اور دوسرے وزیراعظم راجہ پرویز اشرف بھی کرپشن میں ”راجہ رینٹل“ کے خطاب سے سرفراز ہوئے۔ جعلی ڈگریوں کے ”حاملین“ نے بھی بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ پانچ سال ملکی خزانے کو نقصان پہنچایا۔ اب وزیراعظم صاحب جو کہ ماشاءاللہ کرپشن کے خاتمے کے ”دعویدار“ ہیں۔ وہ سابق صدر زرداری کے دور کو ملک کی ”بہترین خدمت“ قرار دے چکے ہیں۔ انہیں شہباز شریف صاحب کی موجودگی میں شاندار ظہرانہ دے کر ”باعزت“ ایوان صدر سے رخصت کر دیا گیا ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ اب اگر وزیراعظم نواز شریف سے شہباز شریف کے ”زر بابا چالیس چور والے باین کے بارے سوال کیا جائے تو نواز شریف صاحب اس بیان کو بھی ”جذباتی“ قرار دینے میں دیر نہیں لگائیں گے۔ اب پھر ”مفاہمت“ کے نعرے لگائے جا رہے ہیں گذشتہ پانچ سال میں اسی ”مفاہمت“ نے پورے ملکی اداروں کا ستیاناس کر کے رکھ دیا ہے۔ مفاہمت کا سادہ سا مفہوم یہ ہے کہ ”آ¶ سب مل کر ملک کو لوٹیں“۔ وزیراعظم اپنی حب الوطنی کا ثبوت ایسے بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ مشرف کے این آر او سے جن ساڑھے آٹھ ہزار افراد نے فائدہ اٹھایا ان سے ایک ایک پائی وصول کریں۔ وزیراعظم گیلانی، راجہ رینٹل جو جو کرپشن میں ملوث ہیں حکومت خود ان کے خلاف مقدمات درج کرائے اور ملکی دولت ان سے وصول کریں۔ ریلوے، پی آئی اے اور دیگر اداروں کی بربادی کے جو بھی سابق وزراءذمہ دار ہیں ان کے خلاف مقدمات درج ہوں۔ زرداری صاحب کا اب ”استثنٰی“ ختم ہو چکا ہے۔ سوئس اکا¶نٹس کی ازسرنو تحقیقات کرائی جائے اور جعلی ڈگریوں کی بنا پر ن لیگ یا کسی بھی پارٹی کے اراکین نے پانچ سال تک ملکی خزانہ لوٹا ہے ان سب سے ایک ایک پیسہ وصول کیا جائے۔ انشاءاللہ ہمارا ایمان ہے کہ وزیراعظم نواز شریف صاحب اگر یہ سب کرپشن کے خاتمے کے لئے ”ایمانداری“ سے کر جاتے ہیں تو نہ صرف ملکی خزانہ بھر جائے گا، معیشت بھی مضبوط ہو گی۔ مہنگائی میں بھی کمی ہو گی، کشکول جو کہ موجودہ حکومت نے ابھی تو صرف ”چھوٹا“ سمجھ کر توڑا ہے۔ پھر اس سے ہمیشہ کے لئے جان چھوٹ جائیگی۔ سب سے بڑا فائدہ یہ ہو گا کہ جناب وزیراعظم صاحب اپنی جس مسکراہٹ کے جانے کا بار بار ذکر فرماتے ہیں وہ دنوں میں نہیں گھنٹوں میں واپس آئے گی اور شہباز شریف کا ”زر بابا“ سے مال واپس لینے کا خواب بھی حقیقت کا روپ دھار لے گا۔