قدرتی گیس

14 نومبر 2013

قدرتی گیس کا محکمہ دو حصوں میں تقسیم ہے، نادرن گیس کمپنی جو پنجاب، خیبر پی کے اور آزاد جموں کشمیر میں گیس آپریشن کی ذمہ داری ہے جبکہ سوئی سادرن سندھ اور بلوچستان کے علاقوں کو کنٹرول کرتی ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ سوئی ساردرن گیس میں ماہانہ ایک ارب روپے اور سوئی ناردرن گیس میں دو ارب روپے کی گیس چوری ہو رہی ہے۔ پاکستان میں تیس سے بتیس گیس فیلڈز ہیں جن میں سوئی، قادر پور، ٹاپی، پیرکوہ، پوٹھوہار وغیرہ شامل ہیں۔ قدرتی گیس کی تقسیم کا نیٹ ورک 61 ہزار کلو میٹر ہے بڑی شاہراہوں کے ساتھ مختلف شہروں کو سپلائی ہونے کیلئے جو بڑی پائپ لائنیں ہیں وہ آٹھ ہزار کلو میٹر لمبی ہیں جہاں تقریباً 36 انچ اور 24 انچ قطر کے پائپ ہیں۔ قدرتی گیس کے صارف تین قسم کے ہیں انڈسٹریل جو سات ہزار اور کمرشل جو تقریباً 55 ہزار ہیں جبکہ گھریلو صارفین کی تعداد چالیس لاکھ کے قریب ہے۔
ذرا سوئی سادرن کے نظام کار پر نگاہ دوڑاتے ہیں۔ سوئی گیس میں ہر ایرے غیرے کو نوکری نہیں ملتی یا تو لمبا چوڑا مال خرچو یا بہت بہت بڑی سفارش ہو یا پھر دیگر خدمات کے عوض یہاں نوکری ملتی ہے۔ تعلیمی ڈگریاں یا قابلیت کوئی معنی نہیں رکھتی، بس جس کو مل جائے اس کی لاٹری نکل آئی۔ کیونکہ اس محکمے میں اوپر سے نیچے تک ایک اچھی خاصی تعداد کرپٹ لوگوں کی ہے اسی وجہ سے یونین ازم اپنے پورے عروج پر ہے۔ بڑے آفیسر اپنی کمزوریوں کی وجہ سے ان سے آنکھیں جھکا کر بات کرتے ہیں جس وجہ سے اپنے افسروں کی طرح یہ ادنیٰ ملازم بھی پلاٹوں، پلازوں، فارم ہاﺅسز، پوش ایریاز میں کوٹھیوں اور بڑے شو رومز کے مالک ہیں۔ سیلز ڈیپارٹمنٹ کے عملے کے ذمے ان گھروں/ عمارتوں، کمرشل کاروبار اور انڈسٹریل یونٹس کا سروے کرنا ہوتا ہے کہ آیا وہاں گیس سپلائی کا کنکشن دیا جا سکتا ہے یا نہیں اور اس کنکشن کا خرچہ کتنا آئے گا جو صارف کو دینا ہوتا ہے۔ اب یہاں کرپشن کی ابتدا ہوتی ہے جو ان کی مُٹھی گرم کر دے اس کا اصل خرچہ بھی آدھا کر دیا جاتا ہے باقی کا خرچہ محکمے پر ڈالا جاتا ہے جو مال پانی نہیں دیتے۔ اس ڈیمانڈ نوٹ میں جملہ تنصیبات کی پوری قیمت اس میں شامل ہوتی ہے۔ سروئر جس کا عہدہ ایک جونیئر کلرک ہے اور اگر صرف گھریلو صارفین کے سروے پر جائے تو وہ کم از کم 25 سے 30 ہزار روپے کی دیہاڑی لگاتا ہے اور اگر کنکشن کمرشل ہو یا انڈسٹریل تو پھر ریٹ اور بڑھ جاتا ہے۔
سوئی گیس کے گھریلو استعمال میں لگنے والے میٹر کراچی میں تیار ہوتے ہیں جبکہ کمرشل اور انڈسٹریل میٹرز یورپ، امریکہ اور چین سے امپورٹ ہوتے ہیں۔ گیس والوں کی تمام ضروریات جو کیل سے لیکر پائپ اور دیگر اشیاءکی سپلائی پر چند بالادست طبقوں کی اجاری داری ہے جس میں ریٹائرڈ بیورو کریٹس جرنیل اور معاشرے کے دیگر طاقتور طبقے شامل ہیں اس کے علاوہ ان تمام لوگوں کے بے شمار سی این جی سٹیشنز ہیں ان میں سوئی گیس کے افسران بھی کئی کئی سی این جی سٹیشنز کے مالک ہیں۔ عام آدمی سی این جی لگانے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتا، یہ صرف بالا طبقوں کا حق ہے۔ یہ سی این جی سٹیشن بھی کرپشن کے بڑے مرکز ہیں اور ان کا بل آٹے میں نمک محکمے کو اور باقی مالک اور اہلکاروں میں ففٹی ففٹی ہو جاتا ہے۔ ڈسٹری بیوشن کے لوگ جو موقع پر پائپ بچھا کر میٹر لگاتے ہیں اگر تو اُن کا منہ بند کر دیا گیا تو اسی دن میٹر لگ کر چالو ہو جائے گا۔ اگر آپ اصول پسند ہیں تو پھر پھیرے ماریں، لمبا انتظار کریں، کبھی پائپ نہیں، کبھی میٹر نہیں، کبھی ویلڈنگ کی گاڑی وی آئی پی ڈیوٹی یا پھر ایمرجنسی میں لگی ہوئی ہے۔
سوئی گیس ٹھیکیدار مافیا تمام کام ان کے سپرد ہے۔ یہ لوگ بہت بااثر اور لمبے ہاتھوں والے ہیں جن کے ہاتھ منسٹری سے لے کر نیچے والے افسروں تک ہیں، جو افسر ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتا پھر اس پر دوچار محکمانہ کیس بنانا کوئی مسئلہ ہی نہیں اور اگر ہاتھ ہلکا رکھنا ہو تو دور دراز تبدیلی کروا دی جاتی ہے۔ یہ انتہائی خفیہ تعاون ہے اوپر سے نیچے تک۔ چونکہ گیس کمی ہے لہٰذا کنکشن کا باضابطہ حصول ”اولیت“ کے باوجود لیتا ہے۔ ان کے چھوٹے لیول کے کارندے سب جگہ لمبا مال لے کر جعلی میٹر لگا کر گیس چالو کر دیتے ہیں بل بھی نہیں آتا۔
ایل پی جی کا کوٹہ بھی ان بڑے خاندانوں کو نوازنے کیلئے متعارف کروایا گیا ہے۔ ایل پی جی کی قیمت میں کوٹہ ہولڈرز کا منافع ڈال کر اس کی قیمت مقرر کی جاتی ہے۔ یوں یہ عوام کا خون چوسنے والے کھٹمل دن بدن موٹے اور عوام لاغر ہو رہے ہیں۔
جیسے کہتے ہیں کہ اگر سارا معاشرہ ہی خراب ہو جائے تو پھر قیامت آ جائے گی، ابھی تک کچھ لوگ اچھے بھی باقی ہیں۔ شنید یہی ہے کہ موجودہ ایم ڈی نے خلوص نیت کے ساتھ محکمے کی اصلاح کی کوشش کی لیکن ایک تو کرپٹ مافیا اُن کی چلنے نہیں دیتا اور ویسے بھی وہ عنقریب ریٹائر ہو رہے ہیں۔ ایک کوشش جو محکمے کے ریکارڈ کو رد و بدل سے محفوظ کرنے، کرپشن کو روکنے کی جا رہی ہے وہ جدید الیکٹرانک چِپ ہے، یہ چِپ سیلز، بلنگ، ڈویلپمنٹ، آپریشنل ٹاسک فورس کے افسران کو دی گئی ہے اور ایک دفعہ کے استعمال سے کوڈ خود بخود تبدیل ہو جاتا ہے۔
پہلے گیس چوروں کو سزا دینے کا کوئی قانون نہیں تھا۔ زرداری دور میں ایک ایکٹ لایا گیا جس کے ذریعے اب چوروں کو سزا ہو سکتی ہے۔ جیسا کہ سُنا ہے اصلاح احوال کیلئے ایک ملٹی چارٹرڈ فرم کی خدمات حاصل کی گئی ہیں جو افسروں کی ترقیوں کیلئے ان کے انٹرویوز ٹیسٹ اور ٹاسک لاہور کے بڑے ہوٹل میں کر رہی ہے۔ یہ افسروں کی اہلیت جانچ پڑتال، پرکھ اور تول کر اپنی سفارشات محکمے کے ہیومن رسیور ونگ کو بھیجے گی تاکہ نااہل کرپٹ افسروں کی چھانٹی ہو سکے۔ خدا کرے یہ خیالی ثابت نہ ہو۔