شہید کی جو موت ہے و ہ قوم کی حیات ہے

14 نومبر 2013

ہمارے ملک کا ایک المیہ ےہ بھی ہے کہ جب کسی خاص سیاسی گرو ہ کو اس کی توقعات کے مطابق پذیرائی نہیں ملتی ےا انتخابی سیاست میں عوام ان کو مسترد کر دیتے ہیں توےہ لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کےلئے کوئی ایسا موضوع چھیڑ دیتے ہیں ےا کوئی ایسا تنازئحہ کھڑا کر دیتے ہیں جس سے ےہ لوگ زیر بحث آجاتے ہیں۔اسی طرح ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہےں جو لوگوں کی توجہ حاصل کرنے کےلئے وقت کے انتظار میں ہوتے ہیں مثال کے طور پر کچھ لوگ دس مہینے تو چاند پر کچھ نہیں کہتے لیکن رمضان اور عیدین کے چاند پر اپنی ایک اینٹ کی مسجد کھڑی کر دیتے ہیں بھلے تمام حکومتی ادارے ایک طرف ہوںلیکن ےہ لوگ اپنی من مانی پر اتر آتے ہیں اور ملک میں اکثر ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی دو ۔دو ....تین تین عیدیں منائی جاتی ہیں ۔بالکل اسی طرح کے سیاسی گرو ہ جن کو تنقید کرنے کا کوئی موضوع نہیں ملتا یا ان کے پاس تقریر کرنے کا مواد نہیں ہوتا تو ےہ اکثر بحث چھیڑ دیتے ہیں کہ سارا بجٹ تو فوج کھا جاتی ہےں عوام کو کیا ملے گا اس سلسلے میں بعض بڑے بڑے سیاسی علماءجو کہ با ر بار پارلیمنٹ میں پہنچے ہیں اور صوبوں میں اپنی حکومتیں بھی بنا چکے ہیں وہ بھی اکثر خلاف توقع ایسے بیان دے دیتے ہیں جن کا کوئی سر پاﺅ ں نہیں ہوتا ،مثال کے طور پر ایک بڑے سیاسی مولانا نے پچھلے دنوں بیان دیا تھا کہ 60فیصد سے زیادہ بجٹ تو فوج کھا جاتی ہیں عوام کیا کھائے گی جبکہ ےہ بیان سراسر سیاسی اور بے بنیادہے نیز ےہ کسی بہتان سے کم نہیں جبکہ حقیقت ےہ ہے کہ کل بجٹ میں سے دفاعی بجٹ صرف بیس فیصد کے لگ بھگ بنتا ہے ےہاں فوج سے مطلب بری ،بحری اور فضائیہ ہے یعنی ےہ تینوں ادارے کل بجٹ کا صرف بیس فیصد کے لگ بھگ حصہ لیتے ہیں یعنی 100روپے میں سے 20روپے مسلح افواج کو جاتے ہیں اور باقی 80روپے سیاسی حکومتیں خرچ کرتی ہیں ۔
اسی طرح اب موجودہ حالات میں بھی ایسے سیاسی ،مذہبی گروپ جن کے پاس اپنا سودا بیچنے کےلئے کچھ بھی نہیں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے ۔اس دفعہ انہوں نے فوجی بجٹ کو نہیں چھیڑا بلکہ ےہ خود کہتے ہے کہ ہم ایک قدم آگے جا کر سوچتے ہیں تو لہذا اس بار انہوں نے فلسفہ شہادت پر حملہ کیا ہے کہ جس کو شہادت کا سرٹیفکیٹ ہم لوگ دےنگے تو وہی شہید سمجھا جائے گا ۔
اب سوال ےہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر شہادت جیسے مقدس رتبے کا فیصلہ ان لوگوں نے کرنا ہے تو لوگ پاکستانی فوج میں کیونکر بھرتی ہونگے ۔جب فتویٰ دینے والے لوگ سخت ترین سردی میں گرم گرم بستر میں سور ہے ہوتے ہیں تو پاکستانی فو ج کا نوجوان 22ہزارفٹ بلند سیاچین گلیشئیر پر جس پر سردی کا ےہ عالم ہوتا ہے کہ خون رگوں میں منجمد ہو جاتا ہے کیونکر ڈیوٹی دے گا اور جب ےہ لوگ جون جولائی کی سخت گرمی میںاپنے بیوی بچوں کیساتھ ایئر کنڈیشنر کے مزے لے رہے ہوتے ہیں تو اس وقت پاکستانی فوج کا نوجوان راجستھان کے بارڈر کےساتھ ساتھ جہاں پر سورج سوانیزے پر آجاتا ہے کیونکر پہرہ دیگا ۔پاکستان ایک اسلامی ملک ہے اسکے نوجوان فوج میں ایک جذبہ شہادت کے تحت ہی بھرتی ہوتے ہیں کیونکہ ان کو معلوم ہے کہ ”مر گئے تو شہید بچ گئے تو غازی“ ورنہ کیا ےہ نوجوان پولیس میں بھرتی ہو کر شام کو اپنے گھروں کو نہیں جاسکتے کیا فوج میں بھرتی ہونیوالے نوجوان پٹواری بھرتی نہیں ہو سکتے کیا فو ج میں جانیوالے نوجوان ان سیاسی مجاوروں کی طرح خود اور اپنی آنیوالی نسلوں کو سیاست میں نہیں لا سکتے ۔کیا فوج میں جانیوالے نوجوان فوج کے بجائے امریکہ اور یورپ کے ویزے نہیں لگواسکتے ۔کیا فوج میں بھرتی ہونیوالے نوجوان مولوی بھی نہیں بن سکتے ۔ وہ سب کچھ بن سکتے تھے لیکن ان کے ذہن میں ایک ہی چیز ہے کہ قوم انکے بارے میں ےہ کہتی ہے کہ ....
شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے
لہو جو ہے شہید کا وہ قوم کی زکوة ہے
سجھ سے بالاتر ہے کہ اس وقت ملک میں کوئی مارشل لاءوغیرہ نہیں ہے اور نہ ہی فوجی حکومت ہے لیکن فوج اور آئی ایس آئی پر اس قدر تنقید کس کے اشارے پر کی جارہی ہے فوج کے فلسفے شہادت کو کیونکر زیر بحث لایا جا رہا ہے کہیں فوج کے حوصلے پست کرکے قلعے کو اندر سے ہی کمزور کرنے کی کوشش تو نہیں کی جار ہی ؟ تاکہ جب دشمن باقاعدہ جارحیت کر ے تو خدانخواستہ اس کے سامنے ایک نیم مردہ فوج ہو لیکن ےہ نام نہاد ،مذہبی اور سیاسی دانشور یاد رکھیں کہ اگرچہ فوج کا کوئی سیاسی ونگ نہیں ہے اور سیاسی لحاظ سے فوج کو ایک بے زبان ادارہ سمجھا جاتا ہے لیکن 18کروڑ عوام تو بے زبان نہیں ہیں وہ فوج کی پشت پر کھڑے ہیں ۔پاکستانی مائیں ایسے سپوتوں کو جنم دیتی رہیں گی جن کی اولین ترجیح فوج میں بھرتی ہونا اور مقصد ِحیات ، شہادت ہے ۔