سپریم کمانڈر----- چُپ کیوں؟

14 نومبر 2013

اِس سے قبل کہ، وزیرِ اعظم نواز شریف کو آئی ایس پی آر کے خلاف امیر جماعت ِ اسلامی سیّد منور حسن کا خط موصول ہوتا، انہوں نے جی ایچ کیو کا دورہ کر کے پاک فوج سے اظہارِ یک جہتی کر دِیااور اعلان کِیا کہ” فوج کے شہید اور غازی ہمارے مُحسن ہیں۔ فوج کے افسران ہمارے کل کے لئے اپنا آج قُربان کر رہے ہیں اور دہشت گردی کے خلاف اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے شہداءہمیشہ یاد رہیں گے“۔ بات واضح ہو گئی کہ مسلم لیگ ن کے صدر نے سیّد منور حسن اور مولانا مودودی مرحوم کی یاد گار جماعت ِ اسلامی کے ” فلسفہ¿ شہادت“ کو مُسترد کر دِیا ہے۔ مَیں نے مولانا کوثر نیازی مرحوم کی تجویز پر 13 جنوری 1991 ءکو روز نامہ ” پاکستان“میں ”قاضی حسین احمد جماعت ِ اسلامی کے ”گوربا چوف“کے عنوان سے جو کالم لکِھا تھا، اب مجھے واپس لینا پڑے گا۔ نئے حالات کے مطابق مَیں اب منور حسن صاحب کوجماعت ِ اسلامی کا گوربا چوف قرار دیتا ہُوں۔ کامریڈ گوربا چوف نے سوشلزم ،سوویت یونین اور وہاں کے عوام کے ساتھ جو کُچھ کِیا وہی کُچھ اب سیّد منور حسن اسلام، پاکستان اور یہاں کے عوام کے ساتھ کررہے ہیں۔
” نوائے وقت“ کے 12نومبر کے ایڈیٹوریل میں کہا گیا ہے کہ” جماعت ِ اسلامی نے تحریک ِآزادی میں حِصّہ لِیا نہ قیامِ پاکستان کی حمایت کی۔ قیامِ پاکستان کے بعد اُس نے استحکامِ پاکستان کے لئے ضرور کام کِیا۔ تحریک ِ پاکستان سے لاتعلقی کا اُس کی قیادت کے پاس آج تک کوئی بھی جواب نہیں ہے۔ اب جب کہ قوم جماعت ِ اسلامی کے اِس کردار کو فراموش کر رہی ہے تو سیّد منور حسن کے بیان نے تحریک ِ آزادی سے آگاہ اکابرین اور طالب علموں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دِیا ہے کہ کِیا جماعت ِ اسلامی قیامِ پاکستان سے قبل کی سوچ کی آج بھی اسیر ہے ؟“۔ جماعت ِ اسلامی نے مولانا مودودی کی زندگی میں ہی 2 جنوری 1965 ءکے صدارتی انتخاب میں صدر ایوب خان کے مقابلے میں ،مادرِ ملّت محترمہ فاطمہ جناح ؒ کی حمایت کر کے ” سجدہ سَہو“ توکر لِیا تھا، لیکن یہ اعلان کر کے کہ ” ایوب خان میں کوئی اور خوبی نہیں سوائے اِس کے کہ وہ مرد ہیں اور محترمہ فاطمہ جناح ؒ میں کوئی اور خامی نہیں سوائے اس کے کہ وہ عورت ہیں“۔ گویا مولانا مودودی اور اُن کی جماعت کے نزدیک عورت ہونا ” خامی“ ہے۔
مولانا مودودی نے اپنی ادارت میں شائع ہونے والے ماہنامہ ”ترجمان اُلقرآن“ لاہور کے نومبر 1963ءکے شمارے میں لکِھا ” ہم اِس بات کا کُھلے بندوں اعتراف کرتے ہیں کہ تقسیمِ مُلک (ہندوستان)کی جنگ سے ہم غیر متعلق رہے۔ اس کارکردگی کا سہرا ہم صِرف ( آل انڈیا) مسلم لیگ کے سرباندھتے ہیں اور اِس میدان میں کسی حِصّے کا اپنے آپ کو دعوے دار نہیں سمجھتے“ دلچسپ بات یہ ہے کہ مولانا مودودی نے ”تقسیمِ مُلک“ کی ترکیب استعمال کی اور ’قیامِ پاکستان“ کی ترکیب استعمال کرنے سے گریز کِیا۔ جماعت ِ اسلامی کی جمہوری عمل میں شمولیت کا خیر مقدم کِیا گیا۔” مادرِ ملّت ؒ کی حمایت کرنے پر، عوام مولانا مودودی کی قائد ِ اعظم ؒ اور آل انڈیا مسلم لیگ کے خلاف تحریروں کو وقتی طور پربُھول گئے تھے جِن میں مولانا نے پاکستان کو ” درِندے کی پیدائش“ اور ”نا پاکستان“ کہا تھا۔ مختلف ادوار میں اقتدار میں آنے والی مسلم لیگوں کی نظریاتی کمزوری سے فائدہ اُٹھاتے ہُوئے جماعت ِاسلامی کے اکابرین نے دو قومی نظریہ تحریک ِ پاکستان اور قیامِ پاکستان کا کریڈٹ بھی مولانا مودودی کو دینا شروع کر دِیاتھا۔
 26 اگست کو 1991 ءکو ( جماعت ِ اسلامی کے 50 ویں یومِ تاسیس پر) امیر جماعت ِاسلامی قاضی حسین احمد نے اپنا ایک مضمون قومی اخبارات میںچھپوایا جِس میں کہا گیا تھا کہ ” علّامہ اقبالؒ نے بھی اُمید کی ایک شمع روشن کر رکھی تھی، لیکن اُن کا کام صِرف پیغام تک محدود تھا۔ اِن حالات میں خالص دِین کی بنیاد پر مُسلمانوں کی صف بندی کرنے کی عملی تحریک برپا کرنے کی سعادت مولانا مودودی کے حِصّے میں آئی“ اُسی روز باغ بیرون موچی دروازہ لاہور میں جلسہ¿ عام سے خطاب کرتے ہُوئے جماعت ِاسلامی کے ریٹائرڈ امیر میاں طفیل محمد نے کہا”تحریک ِ پاکستان کے دوران مُسلمانوں نے کبھی یہ ہمت نہیں کی کہ وہ ایک اسلامی جماعت بنا کر پاکستان کے لئے جدوجہد کریں، صِرف مولانا مودودی نے اِس کی کوشش کی“ جماعت ِ اسلامی کے نائب امیر چودھری رحمت الٰہی نے اپنی تقریر میں کہاکہ ”جماعتِ اسلامی کی جدوجہد کے نتیجے میں قیامِ پاکستان کی راہ ہموار ہُوئی“ مَیں نے اپنے کالم میں جو 30 اگست 1991ءکو روز نامہ ” نوائے وقت“ میں شائع ہوا۔ تاریخی حوالوں سے قائدِ اعظمؒ اور تحریک ِ پاکستان میں مولانا مودودی کے کردار کو واضح کر دِیا تھا۔
پاکستان کی سیاست میں جماعتِ اسلامی کو ہمیشہ امریکہ کی سرپرستی حاصل رہی ۔ یہ جماعتِ اسلامی کے ” مجاہدین“ ہی تھے کہ جنہوںنے، افغانستان میں” مُلحد سویت یونین“ کے خلاف ”جہاد“ بھی ” اہلِ کتاب“ (عیسائیوں اور یہودیوں) کے ساتھ مِل کرامریکہ اور اُس کے اتحادیوں کی کمان میں کِیا تھا، جِس کے نتیجے میں پاکستان میں35 لاکھ افغان ”برادرانِ اسلام“ پاکستان میں ہیروئین اورکلاشنکوف کلچر لائے اور اصل پاکستانی (بہاری) اب بھی بنگلہ دیش کے کیمپوں میں عُسرت کی زندگی بسر کر رہے ہیں اوراب وطنِ عزیز میں دو قومی نظریہ کے مخالف اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنے کے لئے ہمارے فوجیوں اور معصوم اور بے گناہ لوگوں کو قتل کر رہے ہیں۔ قاضی حسین احمد تو خیر خود پختون تھے اور اُن کے لہجے میں بڑی گھن گرج تھی، لیکن نستعلیق اردو بولنے والے دہلوی سیّد منور حسن کو کیا ہو گیا؟۔وہ تو پنجابی فلموں کے اداکاروں سُلطان راہی اور مصطفی قریشی کی طرح بھڑکیںمار رہے ہیں۔
کُچھ دِن پہلے منور صاحب نے کہا تھا کہ” اگر مجھے 10 ہزار رضا کار مِل جائیں تو مَیں نیٹو سپلائی بند کرا سکتا ہوں“ حیرت ہے کہ 72 سال پہلے قائم ہونے والی جماعتِ اسلامی کے پاس 10 ہزار رضاکار بھی نہیں ہیں؟۔ آئی ایس پی آر کے پریس ریلیز میں نہ جانے کس غلط فہمی کی بنا پریہ جملہ بھی شامل کر دِیا گیا کہ ”اسلام کے لئے خدمات کے باعث مولانا مودودی کا احترام کِیا جاتا ہے؟۔ سوال یہ ہے کہ جب اسلام کی خدمت کے لئے قائد ِ اعظم ؒ کی قیادت میںاسلامیانِ ہندقیامِ پاکستان کے لئے جدوجہد کر رہے تھے تو مولانا مودودی اُن پر اور آل انڈیا مسلم لیگ پر رقیق حملے کیوں کر رہے تھے؟۔وزیرِ اعظم اگر مسلم لیگ کو علّامہ اقبالؒ اور قائد ِ اعظم ؒ کو افکار و نظریات کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں تو انہیں تحریک ِ پاکستان کی مخالف جماعتوں کو فاصلے پر رکھنا ہو گا اور اُن مذہبی پریشرگروپوں کو بھی جو اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرنے والے طالبان کو طاقتور بنا رہے ہیں۔ بائی دی وے یہ پاکستان کی مسلح افواج کے سپریم کمانڈر جناب ممنون حسین صاحب اِن دِنوں کہاں ہیں؟ جو جب چاہیں ایسے مسائل پر بیان تو جاری کر دیتے ہیں جو اُن کے دائرہ کار میں نہیں آتے۔ لیکن موصوف نے پاک فوج کے شُہداءکو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لئے چُپ کا روزہ کیوںرکھا ہُوا ہے؟۔ اُستادجلالنے کہا تھا ....
”چُپ لگ گئی ہے اے دِلِ شیدا تجھے یہ کیوں
لِلّہ! کُچھ تو کہہ، کِسی پُرسانِ حال سے! “