کروڑوں بیلٹ پیپرز و مقناطیسی سیاسی عدم دستیاب

14 نومبر 2013

راجہ عابد پرویز ۔۔۔
الیکشن کمیشن کی بلدیاتی انتخابات کرانے سے باربار معذرت کے باعث مجوزہ انتخابی شیڈول کے بارے میں غیر یقینی صورتحال کو تقویت مل رہی ہے۔سپریم کورٹ سے بلدیاتی انتخابات مارچ2014تک ملتوی کرنے کی الیکشن کمیشن کی درخواست مسترد ہونے کے بعد الیکشن کمیشن نے ایک بار پھر عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔دوسری طرف سیاسی قیادت بھی عجلت میں انتخاب کرانے کے مسئلے پر متحد ہوگئی ہے،قومی اسمبلی میں بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے لئے دوبار متفقہ قراردادیں منظور کرلی گئی ہیں۔ جس میںحکومت اور سیاسی پارٹیوں نے موقف اختیار کیا ہے کہ جلد بازی جمہوری عمل کے لئے نقصان دہ ہوگی۔الیکشن کمیشن کو آزادی سے تمام قانونی پہلوئوں کو حتمی شکل دیتے ہوئے تاریخ کا تعین کرنے دیا جائے،پارلیمنٹ بھی اس کیلئے مناسب وقت دیئے جانے کے معاملے پر متفق ہے۔اس حوالے سے قبل ازیں الیکشن کمیشن بھی مسلسل یہ بات کہتا چلا آرہا ہے کہ صوبوں سمیت دیگر اداروں کی تیاریاں بھی مکمل نہیں۔ اس لئے مذکورہ شیڈول کے مطابق انتخابات کرانا ممکن نہیں،الیکشن کمیشن کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت کی طرف سے ابھی تک ایکٹ کو حتمی شکل نہیں دی گئی گزشتہ دو دنوںمیں دو مرتبہ رولز میں ترمیم کی جاچکی ہے،اسی طرح سندھ میں حلقہ بندیوں کا کام ابھی تک مکمل نہیں ہوا،بلدیاتی انتخابات میں سب سے بڑی رکاوٹ بیلٹ پیپرز کی چھپائی ہے پرنٹنگ کارپوریشن پہلے ہی معذرت کرچکی ہے جبکہ پی سی ایس آئی آر نے بھی قلیل مدت کے اندرمقناطیسی سیاسی مہیا کرنے سے انکار کردیا ہے۔ایسی صورت حال میں انتخابات کیسے کرائے جاسکتے ہیں، متعلقہ اداروں سے پوچھا جائے کہ وہ اپنی اپنی تیاری کب تک مکمل کرسکتے ہیں۔متعلقہ ادارے جب تیاری مکمل کرلیں گے الیکشن کمیشن اسی وقت بلدیاتی انتخابات کرادے گا۔ اب جبکہ پنجاب سمیت سندھ ، بلوچستان اور خیبر پی کے میں بھی بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کروانے کا اعلان ہو چکا ہے ، اس کی وجہ سے اب سیاسی جماعتیں بھی اس میدان میں کھل کھلا کرکود گئی ہیں۔اس بار ناظم کے بجائے چیئرمین اور نائب ناظم کے بجائے وائس چیئرمین کے عہدے رکھے گے ہیں۔تینوں صوبوںمیں آبادی کے لحاظ سے درجنوں نئی یونین کونسلیں تشکیل دی گئی ہیں۔اس کے باوجود کہ الیکشن کمیشن نے کاغذات نامزدگی کی تاریخ میں ایک روز کی توسیع کردی تھی،ٹائٹ انتخابی شیڈول کی وجہ سے کاغذات نامزدگی جمع کرانے میں امیدواروں کو شدید مشکلات درپیش رہیں۔کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے لئے امیدواروں کو ایک تحصیل سے دوسری تحصیل جانا پڑا جس کی وجہ سے امیدواروں کو کئی کئی گھنٹے کی مسافت طے کرنی پڑی،ٹائٹ شیڈول کی وجہ سے امیدواروں نے جلدی میںپینل بنائے ہیں ۔ اس طرح مجوزہ انتخابی شیڈول میں امیدواروں کو اپنی اپنی مہم چلانے کے لئے مناسب وقت بھی میسر نہیں ہو گا۔الیکشن کمیشن نے بلدیاتی انتخابات کے لئے مقناطیسی سیاہی استعمال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ حساس اور انتہائی حساس پولنگ اسٹیشنوں پر فوج تعینات کی جائے گی،فوج سے بیلٹ پیپرز سمیت الیکشن کے دیگر سامان کی ترسیل کے لئے بھی خدمات حاصل کرنا ہوںگی،الیکشن کمیشن کے لئے اس بار سب سے بڑا مسئلہ جو دردسرد بنا ہوا ہے وہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کا ہے تینوں صوبوں کے لئے بیک وقت 51کروڑ سے زیادہ بیلٹ پیپرز کی چھپائی کی جائے گی۔ جس کیلئے وقت کی کمی کی وجہ سے پاکستان پرنٹنگ کارپوریشن اور سیکیورٹی پریس آف پاکستان دونوں ادارے مل کر بھی اس کی استطاعت نہیں رکھتے۔الیکشن کمیشن نے پرنٹنگ کارپوریشن کو اگرچہ اس بات کی اجازت دے رکھی ہے کہ وہ دیگر حکومتی اداروں سمیت نجی پرنٹنگ پریسوں سے بھی بیلٹ پیپر چھپوا لے مگر اس سے الیکشن کے شفاف ہونے پر انگلیاںاٹھ سکتی ہیں۔ کیونکہ جب نجی اداروںسے بیلٹ پیپرز چھپوائے جائیں گے تو ان کی سیکیورٹی کیسے ممکن بنائی جائے گی۔گزشتہ عام انتخابات کے دوران جبکہ تمام اداروں کو اپنا اپنا کام کرنے کے لئے مناسب وقت دیا گیا تھا اس کے باوجود مقناطیسی سیاسی مذکورہ پولنگ اسٹیشنوں تک نہ پہنچنے کی شکایات موصول ہوئیں۔ بعد میں نادرا نے جن جن حلقوں کے ووٹ چیک کیے اُن سے معلوم ہوا کہ وہاں مقناطیسی سیاسی استعمال ہی نہیں ہو سکی ۔بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کے پہلے مرحلے پر ہی شدید قسم کی بے ضابطگیاں دیکھنے میں آرہی ہیں ۔ایک تحصیل کے بجائے امیدواروں کو دوسری تحصیلوںمیں کاغذات جمع کروانے پڑے اس بے قائدگی کی کیا وجہ ہے اس کا پتہ لگانا ضروری ہے۔کیا انتظامیہ دانستہ طورپر اس عمل میں خلل پیدا کررہی ہے اس کا جواب توسردست کسی کے پاس نہیں،کیونکہ ہر کام جنگی بنیادوں پر کیا جارہا ہے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت کے بعد سے جمہوری دور میں اصلاح شدہ بلدیاتی نظام کے تحت پہلی مرتبہ انتخابات کروائے جارہے ہیں،اس حوالے سے عوام میں شکوک وشبہات پائے جاتے ہیں،لوگوں کا خیال ہے کہ جس طرح گزشتہ دور میں ناظمیں کے پاس اختیار تھے یا انہیں ڈویلپمنٹ کے لئے فنڈز دیے جاتے تھے اب شاید نہ دیے جائیں کیونکہ اگر بلدیاتی نمائندوں کوبلدیاتی نظام کی روح کے مطابق اختیارات دیے جائیں گے تو پھر ایم پی ایز اور ایم این ایز کو کس بنیاد پر ووٹ ملیں گے۔ ویسے بھی پاکستان کا کلچر یہی ہے کہ جو نمائندہ لوگوں کے مسائل حل کرتا ہے عوام اسے ہی ووٹ دیتے ہیں،شایدیہی وجہ ہے کہ موجودہ حکومت بلدیاتی انتخابات کرانے میں لیت ولعل سے کام لیتی رہی ہے۔اس صورتحال سے بچنے کے لئے اورعلاقے میں ترقیاتی کاموں کا کریڈٹ خود لینے کے لئے حکومت نے بلدیاتی انتخابات بھی تینوں صوبوں میںجماعتی بنیادوں پر کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں بلدیاتی انتخابات گراس روٹ لیول پر لوگوں کے مسائل حل کرنے اور علاقے کی ترقی کے لئے ایک بہترین نظام ہے،گزشتہ ناظمین کے دور میں بلدیاتی نظام کا تجربہ اچھا رہا اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سسٹم کے تحت ہونے والے کاموں میں کرپشن کے سخت الزمات لگے،مگر اس کے باوجود عام آدمی اس بات پر خوش تھا کہ اس کی رسائی اس کے نمائندے سے براہ راست تھی اور اس کا مسئلہ اس کی دھلیز پر ہی حل ہوجاتا تھا۔اگر گزشتہ نظام کی طرح ہی بلدیاتی نمائندوں کو اختیارات دے دیے گئے اور ان کے کام میںمداخلت نہ کی گئی تو اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ یہ نظام جبکہ جمہوری حکومتیں بھی ملک میں قائم ہیں اپنی بہترین صورت میں نظر آئے گا۔ اس کی افادیت سے عوام کے مسائل حل ہونگے اور حکومت کے مسائل میں بھی کمی آئے گی ،پہلے جو لوگ چھوٹے چھوٹے مسئلے پرصوبائی اور قومی اسمبلی کے نمائندوں سے رابطہ کرتے تھے اب ایسا نہیں ہوگا۔یوں اسمبلیوںکے نمائندے اپنا اصل کام یعنی صرف قانون سازی کریں گے اور عوام کو درپیش مسائل کے حل کیلئے اسمبلیوںمیں قانون سازی بہتر طریقے سے ہو سکے گی ۔الیکشن کمیشن سمیت دیگر اداروں میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ اگربلدیاتی انتخابات صوبوںمیں الگ الگ تاریخوں میں کرائے جائیں اور ان میں مناسب وقفہ ہو بھی ہو تو پھر الیکشن میں معاونت کرنے والے اداروں کو مناسب وقت مل جائے گا اور وہ آسانی سے اپنی تیاری بھی کرلیں گے۔الیکشن کمیشن اس بار بہت محتاط انداز اختیار کیے ہوئے ہے کیونکہ گزشتہ عام انتخابات میں الیکشن کمیشن کو بہت سے معاملات پر عوام کے سامنے جوابدہ ہونا پڑا اورسیاسی جماعتوں سیمت لوگوںنے انتخابی شفافیت پرانگلیاں اٹھائیں۔موجودہ صورتحال میں اگر بلدیاتی انتخابات الیکشن کمیشن کو کرانے پڑے تو پھر شاید شکایات کا ایک دفتر کھل جائے جنہیں دور کرنے کے لئے الیکشن کمیشن اور حکومت کے پاس شاید پھر کوئی حل نہ ہو۔