پاکستانی فوجیوں کو’’ شہید‘‘ قرار نہ دینے اور حکیم اللہ محسود کو’’ شہید ‘‘قرار دینے سے پیدا ہونے والی کشمکش

14 نومبر 2013

 پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی ہو گئے ہیں سینیٹ کا 98واں سیشن دو ہفتے تک جاری رہا لیکن کوئی خاطر خواہ کام نہ ہو سکا۔ پورا سیشن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان’’ کورم پورا کرنے ، کورم کی نشاندہی کرنے اور بائیکاٹ‘‘ کی نذر ہو گیا۔ سینیٹ میں شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے سے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت سے پیدا ہونے والی صورت حال پر بھی خاطر خواہ بحث نہ ہو سکی۔ اپوزیشن نے خیبر پی کے میں پچھلے 5ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں جاں بحق ہونے والے افراد کی تعداد کے حوالے سے پیدا ہونے والی’’ کنٹروورسی ‘‘کی آڑ میں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کو تختہ ء مشق بنائے رکھا۔ اپوزیشن نے اس بار پارلیمنٹ ہائوس کے باہر مسلسل تین روز تک علامتی اجلاس منعقد کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے جب کہ قومی اسمبلی کا چھٹا سیشن مجموعی طور پر 9 روز تک جاری رہنے کے بعد’’ بے نتیجہ ‘‘اختتام پذیر ہو گیا۔ قومی اسمبلی میں شمالی وزیرستان میں ڈرون حملے سے ہونے والی ہلاکتوں کے طالبان سے مذاکرات پر پڑنے والے منفی اثرات پر اپوزیشن کی تحریک التوا پر بحث جاری رہی لیکن ایوان میں شمالی وزیر ستان میں ڈرون حملے کی مذمت میں قرارداد محض اس لئے پیش نہ کی جاسکی کہ تحریک انصاف قراداد میں نیٹو سپلائی بند کرنے کو شامل کرنے پر مصر رہی۔ چنانچہ شمالی وزیرستان میں حملے کے بارے میں تین قراردادیںآنے کی وجہ سے متفقہ قرارداد بھی پیش نہ کی جا سکی البتہ حکومت اور اپوزیشن کے بیشتر ارکان کو اس واقعہ کے حوالے سے تقاریر کرنے کا موقع مل گیا۔ عام تاثر تھا کہ اپوزیشن سینیٹ اجلاس کی طرح قومی اسمبلی میں بھی ہنگامہ برپا کرے گی لیکن اپوزیشن نے حکومت کے لئے کوئی مسئلہ پیدا نہیں کیا بلکہ’’ فرینڈلی اپوزیشن ‘‘ کا کردار ادا کیا تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان جو ہر وقت وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان پر ادھار کھائے رہتے ہیں انہوں نے طالبان سے مذاکرات کیلئے کی جانیوالی کوششوں پر چوہدری نثار کو خراج تحسین پیش کیا۔ گویا حکومت اور اپوزیشن طالبان سے ڈائیلاگ کے بارے میں اب بھی یک جا نظر آتی ہے۔ لیکن حکومتی اتحاد نے ڈرون حملے رکوانے کے لئے نیٹو سپلائی بند کرنے کے مطالبے کو پذیرائی نہیں بخشی۔
 وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے تحریک التوا پر تقریر میں بحث سمیٹتے ہوئے حکومت اور طالبان کے درمیان’’ رابطوںاور مذاکرات میں ڈیڈ لاک ‘‘پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔ قومی اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان’’ دوستانہ تعلقات‘‘اس وقت کسی حد متاثر ہوئے جب اپوزیشن نے گذشتہ جمعہ کو تحریک التوا ء پر بحث پر ایوان کی کارروائی مکمل نہ ہونے پر اس کا بائیکاٹ کرنے کی دھمکی دے دی۔ لیکن پیر کی شام قومی اسمبلی کے اجلاس سے قبل چوہدری نثار علی خان کی اپوزیشن جماعتوں کے رہنمائوں سے سپیکر کے چیمبر میں تفصیلی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے بتایا کہ جمعہ کو کراچی میں مصروفیات کی وجہ سے وہ ایوان میں نہیں آسکے۔چوہدری نثار علی خان کی اس یقین دہانی پر یہ معاملہ بھی طے پا گیا کہ وزیر اعظم محمد نواز شریف قومی اسمبلی اور سینیٹ کے آئندہ اجلاس میں شرکت کر کے ایوان کو اپنے دورہء امریکہ کے بارے میں اعتماد میں لیں گے، جس کے بعداپوزیشن کے ارکا ن نے اپنا احتجاج موخر کر دیا۔ نواز شریف وزیر اعظم منتخب ہونے کے بعد دوتین بار ہی پارلیمنٹ میں آسکے ہیں۔ اجلاس کے دوران کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے ایک دوبار حکومت کو ایوان میں ہزیمت اٹھانا پڑی ۔سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے پارلیمنٹ میں اپنی موجودگی کا ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔انہوں نے پارلیمنٹ کی کارروائی میں جس قدر دلچسپی لی اس سے انہوں نے آنے والے وزرائے اعظم کے لئے مشکلات پیدا کردی ہیں۔ جب سے وزیر اعظم محمد نواز شریف نے اقتدار سنبھالا ہے ا نہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے ملاقاتیں بھی کم کر دی ہیں حکومتی ارکان پارلیمنٹ فائلیں اٹھائے پھرتے رہتے ہیں لیکن میرٹ کی پالیسی پر عمل درآمد کرنے کی وجہ سے ان کا کوئی کا م نہیں ہو پاتا ۔ کیونکہ بھاری مینڈ یٹ کی حامل حکومت ارکان پارلیمنٹ کے نخرے اٹھانے کے لئے تیا رنہیں۔ 
جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکیوں کے ساتھ جانوں کے نذرانے پیش کرنے والے پاکستانی فوجیوں کو’’ شہید‘‘ قرار نہ دینے اور تحریک طالبان پاکستان کے حکیم اللہ محسود کو’’ شہید ‘‘قرار دینے سے پیدا ہونے والی کشمکش کی بازگشت پارلیمنٹ میں بھی سنی گئی ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کے ریمارکس نے سیاسی وعسکری حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ اگرچہ پاک فوج نے ان ریمارکس کا نوٹس لیا ہے اور جماعت اسلامی نے اس کا جواب بھی دے دیا ہے لیکن جماعت اسلامی مخالف ’’ سیاسی عناصر‘‘ بھی فوج کی خوشنودی حاصل کرنے یا اپنے سیاسی مقاصد کے لئے میدان میں کود پڑے ہیں اور اس ضمن میں معاملہ فہمی کے بجائے محاذ آرائی کی کوشش کی جا رہی ہے۔ رہی سہی کسر بعض ٹی وی چینلوں کے اینکر پرسنزنے نکال دی سید منور حسن نے جس تناظر میں بات کی ہے اس پر مزید تبصرے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ جماعت اسلامی کے فوج کے ساتھ ہمیشہ اچھے تعلقات رہے ہیں جماعت اسلامی اور فوج کے درمیاں غلط فہمی دور کرنے کے لئے ابھی تک کوئی قوت سامنے نہیں آئی بلکہ اس صورت حال سے سیاسی بونے اپنے مقاصد کے حصول کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس معاملہ پر مٹی ڈالنے کی ضرورت تھی لیکن بات خاصی بڑھ گئی ہے فوج کے ترجمان کی جانب سے جماعت اسلامی کے امیر سید منور حسن کے بیان کے سلسلے میں جواب جاری ہونے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں تحریک التوا ء پر بحث کو سمیٹتے ہو ئے کہا کہ ’’کون شہید ہے اور کون شہید نہیں اس بحث کو چھیڑ کر اس جذبے کو متنازعہ نہ بنایا جائے۔ انہوں نے فوج کا دفاع کرتے ہوئے کہا ’’یہ کہنا درست نہیں کہ پاکستان کی فوج امریکہ کے کہنے پر کارروائی کر رہی ہے۔ موجودہ حالات میں کوئی تنازعہ کھڑا کرنا زہر قاتل کے مترادف ہے ‘‘ ۔جماعت اسلامی پاکستان کے امیر سید منور حسن کے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے پاکستانی فوجیوں کی شہادت کے بارے میں یہ ریمارکس ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جس سے اگلے ہی روز وزیراعظم محمد نوازشریف نے فوج کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لئے جی ایچ کیو کا دورہ کیاہے۔ تیسری بار وزیر اعظم بننے کے بعد میاں نواز شریف کا یہ پہلا دورہ ہے جس میں ان کے ہمراہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وفاقی وزیر خزانہ و اقتصادی امور محمد اسحق ڈار بھی تھے۔ ایک ایسے وقت پر جی ایچ کیو کا دورہ اور وزیر اعظم کی طرف سے شہداء کی یادگار پرحاضری ملک وقوم کیلئے بلا شبہ یکجہتی کا پیغام ہے۔ اگرچہ وزیر اعظم نے سید منور حسن کے ریمارکس پر کوئی تبصرہ نہیں کیالیکن انہوں شہداء کی یادگار پر پھول چڑھا کر اپنی رائے کا اظہار کر دیا ہے انہوں نے اس بات کا برملا اعتراف کیا ہے’’ پاکستانی قوم فوج کی خدمات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے مادر وطن کی حفاظت کے لئے افواج پاکستان نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے ایک روشن تاریخ رقم کی ہے،جسے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ جماعت اسلامی نے وزیر اعظم محمد نواز شریف کے نام ایک خط میں اپنی پوزیشن واضح کر دی ہے لیکن ضرورت اس بات کی ہے وزیر اعظم مداخلت کرکے اس غیر ضروری بحث کو ختم کرنے میں اپنا کردار ادا کریں ۔