فیصلہ کن آپریشن کی منظوری

14 نومبر 2013

 وزیراعظم محمد نوازشریف نے کراچی آپریشن کے معاملہ پر بلیک میل نہ ہونے کا اعلان کرتے ہوئے آپریشن کے فیصلہ کن مرحلے کی منظوری دیدی۔ رینجرز ہیڈ کوارٹرز میں وزیراعظم کو گزشتہ دو ماہ سے جاری آپریشن کے بارے میں تفصیلات دی گئیں جس پر وزیراعظم نے اطمینان اور فخر کا اظہار کیا۔ وزیراعظم کی کراچی آمد پر ملک کی تین سیاسی جماعتوں کے درمیان افہام و تفہیم اور ہم آہنگی کا مظاہرہ بھی دیکھنے میں آیا۔ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد اور وزیراعلیٰ سید قائم علی شاہ وزیراعظم کے ساتھ ساتھ رہے۔ وزیراعظم نے آپریشن کی کامیابی پر ایم کیو ایم کے رویہ کی تعریف کی اور گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو خاص طور پر مبارکباد دی۔ وزیراعظم نے وزیراعلیٰ قائم علی شاہ‘ چیف سیکرٹری‘ ڈائریکٹر جنرل رینجرز‘ آئی جی سندھ شاہد ندیم بلوچ اور کراچی کے ایڈیشنل آئی جی شاہد حیات کے کردار کو بھی سراہا۔ وزیراعظم نے واضح کر دیا کہ کراچی آپریشن کسی سیاسی جماعت کے خلاف نہیں انہوں نے کہاکہ آپریشن کے آغاز پر بہت باتیں کی گئی تھیں اور یہاں تک کہا گیا تھا کہ حکومت آپریشن سے سیاسی فائدہ اُٹھانا چاہتی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے اس بات کا تعین بھی کر دیا کہ آپریشن کب تک جاری رہے گا انہوں نے کہاکہ آپریشن خدا خدا کر کے شروع ہوا ہے اب اگر کسی کی یہ غلط فہمی ہے کہ کارروائی ختم ہو جائے گی تو سب کو یاد رکھنا چاہئے کہ آپریشن آخری ملزم کی گرفتاری تک جاری رہے گا اور اس مقصد کے حصول میں خواہ 6 ماہ لگ جائیں۔ کراچی کے ایک روز کے دورہ کے دوران وزیراعظم نے ڈنر ایم کیو ایم کے رہنمائوں کے ساتھ کیا۔ ایم کیو ایم کے رہنمائوں کے چودھری نثار کے ساتھ بھی رابطے ہوئے۔ ایم کیو ایم کے وفد نے وزیراعظم کو بعض تحفظات سے آگاہ کیا جس پر وزیراعظم نوازشریف نے ایم کیو ایم کی شکایات دور کرنے کی یقین دہانی کروائی۔ چودھری نثار نے آپریشن میں ایم کیو ایم کے تعاون کا اعتراف کر لیا۔ یوں کراچی آپریشن کی انفرادیت یہ ہے کہ اس پر سب جماعتوں کا اتفاق رائے ہے اور سب خوش ہیں کہ ان کو ناپسندیدہ عناصر سے نجات مل رہی ہے۔ سب سے زیادہ سیاسی فائدہ پیپلز پارٹی کو ہو گا جس کو لیاری سمیت وہ علاقے واپس مل جائیں گے جن پر باغیوں اور سرکشوں نے قبضہ کر لیا ہے اور پیپلز پارٹی سرکشوں کے آگے یرغمال بنی ہوئی ہے۔ کراچی میں قیام کے دوران وزیراعظم سے ایک صحافی نے جب پوچھا کہ بلدیاتی انتخابات سمیت مختلف معاملات پر جو کچھ ہو رہا ہے کہیں وہ آپ کے خلاف سازش تو نہیں ؟جواب میں وزیر اعظم نے کہاکہ آپ کی بات درست ہے۔ وزیراعظم کی موجودگی میں آپریشن کپتان اور نائب کپتان کے درمیان اختلافات کا ڈراپ سین بھی ہو گیا اور وزیراعظم نے چیف سیکرٹری چودھری اعجاز کے تبادلے کی منظوری دیدی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا نئے چیف سیکرٹری جیالوں کے ہاتھوں کھلونا بن جائیں گے یا اصولوں پر سمجھوتے سے انکار کر دیں گے۔ خیال ہے کہ مستقبل میں حکومت اور چیف سیکرٹری کے درمیان کشمکش ختم ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ چیف سیکرٹری اعجاز احمد چودھری کے تبادلے کے بعد اس وقت نئی صورتحال پیدا ہو گئی جب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے آرڈر جاری ہونے کے بعد نئے چیف سیکرٹری میاں سجاد سلیم نے کراچی پہنچ کر چارج سنبھال لیا ہے۔ چودھری اعجاز احمد تو سامان باندھے بیٹھے تھے‘ انہوں نے خوشی خوشی چارج دے بھی دیا لیکن اس دوران الیکشن کمشن نے نوٹس لیتے ہوئے تبادلہ منسوخ کر دیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ سابق وزیر بلدیات سندھ اویس مظفر کے استعفیٰ کی منظوری کے وقت بھی عجلت سے کام لیا گیا تھا اور ایک گھنٹے میں ان کا استعفیٰ منظور کر کے نیا وزیر بلدیات مقرر کر دیا گیاتھا۔ چیف سیکرٹری کا تبادلہ جمعہ کی شام کو ہوا۔ ہفتہ اور اتوار کی چھٹی تھی لیکن نئے چیف سیکرٹری کو تعطیلات کے دوران کراچی بلا کر چارج دلا دیا گیا۔ اس کے ساتھ حکومت نئے چیف سیکرٹری کی پشت پر کھڑی ہو گئی ہے اور اس نے میاں سجاد سلیم کو برقرار رکھنے کا فیصلہ کر لیا اور واضح کر دیا کہ الیکشن کمشن کی جانب سے چودھری اعجاز احمد کے تبادلہ کا حکم منسوخ ہونے کے باوجود وہ اب ان کے ساتھ نہیں چل سکتی۔ سیاسی حلقوں کا موقف ہے کہ چیف سکریٹری کے تبادلے کے لئے حکومت سندھ نے وزیراعظم کا کاندھا استعمال کیا ۔ پیپلزپارٹی اعجاز چوہدری سے اس عدم تعاون کی شکایت تھی کیوں کہ وہ آنکھ بند کر کے آرڈر نہیں کرتے تھے اور اس بات کا گلہ کرتے تھے کہ پیپلزپارٹی نے ان کو تبادلوے اور تقرریاں کرنے والی مشین سمجھ لیا ۔ وزیراعظم کے کراچی میں قیام کے دوران غیر قانونی اسلحہ کی بازیابی کا فیصلہ نہیں ہو سکا۔ وزیراعظم نے کہا کہ اسلحہ صرف کراچی سے نہیں پورے ملک سے بازیاب ہونا چاہئے۔ سپریم کورٹ نے کراچی میں کرفیو لگا کر اسلحہ برآمد کرنے کا حکم دیا تھا ۔ دلچسپ بات یہ ہے کراچی میں آپریشن کے دوران اسٹریٹ کرائم میں بے پناہ اضافہ ہوگیا ہے ڈھائی کروڑ کی آبادی میں ہزاروں جرائم پیشہ افراد اسلحہ لئے دندناتے پھرتے ہیں اور یومیہ ہزاروں افراد کو اسلحہ کے زور پر لوٹ لیتے ہیں لیکن حکومت سڑکوں پر اسلحہ لئے پھرنے والوں کو تو پکڑتی نہیں گھر گھر چھاپے مارنے کاپلان تیار کر رہی ہے۔ جس پر عمل درآمد سے گھروں کی تلاشی سے شہری پریشان ہو گئے ۔ چادر ،چار دیواری کا تقدس پامال ہوگا۔ اور حکومت کی بدنامی ہوگی۔ اس حقیقت سے انکار نہیں کہ کراچی میں اسلحہ کے ڈھیر ہیں لیکن اسلحہ کو برآمد کرنے کا طریقہ کار درست ہونا چاہئے۔ سب سے پہلے سڑکوں پر غیر قانونی اسلحہ لے کر پھرنے والے ہزاروں جرائم پیشہ افراد کو پکڑ نا چاہئے کراچی کی کوئی سڑک ایسی نہیں جس پراسلحہ لئے جرائم پیشہ افراد موجود نہ ہوں۔ جو راہ گیروں گاڑیوں بسوں اور دکانوں کو لوٹ لیتے ہیں گاڑیاں موبائل چھین لیتے ہیں پولیس اور رینجرز ان سے چشم پوشی کرتی ہے لیکن رینجرز کی کاوش قابل ستائش ہے۔ رینجرز نے دو ماہ کے دوران ریکارڈ اسلحہ برآمد کیا جس کے ڈھیر دیکھ کر وزیراعظم محمد نوازشریف بھی حیران رہ گئے کہ صرف دو ماہ میں اتنی بڑی تعداد میں یہ اسلحہ پکڑا گیاہے۔ وزیراعظم نے کراچی میں قیام کے دوران کراچی آپریشن کی نگرانی کے لئے مانیٹرنگ کمیٹی بھی قائم کردی۔ وزیراعظم نے اس کمیٹی کے قیام کی منظوری دو ماہ قبل دیدی تھی لیکن پیپلز پارٹی کی حکومت کمیٹی کی راہ میں مزاحم تھی مانیٹرنگ کمیٹی آپریشن کے دوران متاثرین کی شکایات کا جائزہ لے گی۔ دوسری جانب بلدیاتی انتخابات کے خلاف سب جماعتیں متحد ہوگئی ہیں۔ قومی اسمبلی کے بعد سندھ اسمبلی نے بھی بلدیاتی انتخابات کے التواء کے حق میں قرارداد منظور کی گئی ہے اور الیکشن کمیشن نے بھی چار ماہ کے لئے بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے لئے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ سپریم کورٹ نے حکومت سندھ کی 27 نومبر کے بجائے 7دسمبر کو انتخابات کرانے کی درخواست منظور کررکھی ہے، لیکن حکومت بلدیاتی انتخابات کے موڈ میں ہی دکھائی نہیں دیتی ۔ سندھ میںبلدیاتی انتخابات کا معاملہ اس لئے الجھ گیا ہے کہ ایم کیو ایم سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے تحت ہونے والے انتخابات کو غیر آئینی سمجھتی ہے۔ ایم کیو ایم سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ مجریہ 2013ء کو عدالت میں چیلنج کر چکی ہے۔ اس حوالے سے سیاسی جماعتوں حکومت اور عدلیہ میں بھی کشمکش دکھائی دے رہی ہے۔الیکشن کمیشن کی جانب سے بلدیاتی شیڈول کے اعلان کے باوجود سندھ میں نامزدگی فارم دستیاب نہیں اور مختلف اضلاع میں کاغذات نامزدگی کی قلت پیدا ہوگئی امیدوار فارموں کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے ۔ملیر میںفارم ایک ہز ار سے دو ہزار روپے میں فروخت ہوئے، حالانکہ نامزدگی فارم ویب سائٹ اور انٹر نیٹ پر دستیاب تھے۔