مجوزہ الیکشن شیڈول پر عملدرآمد میں دشواری

14 نومبر 2013
مجوزہ الیکشن شیڈول پر عملدرآمد میں دشواری

سپریم کورٹ کی مہربانی سے ملک میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان ہوا۔ مسلم لیگ (ن) ان کے اتحادیوں کی مرکزی  اور صوبائی حکومت پنجاب، بلوچستان میں 7 دسمبر کو انتخابات ہونا قرار پائے۔ پیپلز پارٹی  کی سندھ حکومت نے بھی 7 دسمبر 2013ء کو بلدیاتی انتخابات  کی فرمائش کی تھی جسے سپریم کورٹ نے تسلیم کر لیا۔ پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پی کے حکومت واحد صوبائی حکومت تھی جو بلدیاتی انتخابات کے لئے ضروری قانون سازی نہ کر سکی اور وہاں کے لئے  کوئی تاریخ سامنے نہیں آئی۔  الیکشن کمشن نے خیبر پی کے کے علاوہ باقی تینوں صوبوں کے لئے بلدیاتی الیکشن کے شیڈول کا اعلان کیا جس کے مطابق 11  اور 12 نومبر کو امیدواروں کو کاغذات نامزدگی داخل کروانے کا کہا گیا۔ امیدواروں نے کاغذات نامزدگی جوش وخروش سے داخل کروائے۔ جیسا کہ سب کے علم میں ہے کہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات جماعتی بنیادوں پر کروانے کے عدالتی حکم کے سامنے صوبائی حکومت پنجاب نے سرتسلیم خم کیا۔ اس طرح بلدیاتی انتخابات میں مسلم لیگ (ن)،  پیپلز پارٹی ، پاکستان تحریک انصاف، مسلم لیگ (ق) ، جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام سمیت دیگر جماعتوں کو میدان میں اترنے کا موقع ملا۔ حیرت انگیز طور پر سابق حکمران جماعت پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ق)  نے اپنے پارٹی عہدیداران و کارکنوں کو ہدایت کی ہے کہ جس عہدے کے لئے چاہیں کاغذات داخل کروائیں پارٹی بعد میں دیکھے گی کہ کس امیدوار کو پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑوانا ہے۔ پارٹی امیدواروں کے چناؤ کے لئے  ان دونوں جماعتوں کی جانب سے کوئی ایکسرسائز دیکھنے میں نہیں آئی۔ مسلم لیگ (ن)  اور تحریک انصاف نے بلدیاتی انتخابات کو باقاعدہ انتخابات سمجھ کر جو کچھ کیا اس پر روشنی ڈالنے سے پہلے یہ بیان کرنا بے جا نہ ہوگا کہ لاہور میٹرو پولیٹن کارپوریشن کی 271  یونین کونسلیں  بنائی گئی ہیں ہر یونین کونسل کا ایک چیئرمین، ایک وائس چیئرمین، چھ جنرل کونسلر، 2 خواتین کونسلر، ایک لیبر کونسلر،  ایک یوتھ کونسلر اور ایک نان مسلم کونسلر منتخب کیا جانا ہے اس طرح یونین کونسل چیئرمین کی سربراہی میں 13  رکنی ہوگی۔ جہاں تک انتخابی تیاریوں کا تعلق ہے اس میں مسلم لیگ (ن)  سرفہرست ہے جس نے اپنے امیدواروں کے چناؤ کے لئے زبردست  منصوبہ بندی کی۔ مسلم لیگ (ن)  لاہور کے صدر پرویز ملک اور جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر کو مسلم لیگ (ن) لاہور ڈویژن کے کنوینر  میاں حمزہ شہباز نے ہدایت کی بلدیاتی امیدواروں کے چناؤ کے لئے لاہور میں قومی اسمبلی کے تیرہ  حلقوں کے لئے تیرہ کوآرڈی نیٹر  بنائے جائیں اور قومی اسمبلی کے ہر حلقے سے ان کی معاونت کے لئے نام تجویز کئے جائیں سو جو کوآرڈینیٹر مقرر کئے گئے ان میں این اے 118  وحید عالم خان، این اے 119 رمضان صدیق بھٹی،  این اے 120 ڈاکٹر اسد اشرف،  این اے 121  نوید انجم، این اے 122  سید توصیف شاہ،  این اے 123  کرنل (ر) مبشر جاوید، این اے 124  میاں محمد طارق، این اے 125  حاجی اللہ رکھا، این اے 129  رانا محمد اقبال اور این اے 130  رانا مبشر اقبال کو کوآرڈینیٹر   مقرر کیا گیا اور ان کی م عاونت کے لئے  ملک پرویز، خواجہ احمد حسان، خواجہ عمران نذیر،  سیف الملوک، کرنل (ر)  مبشر جاوید، رانا  مبشر اقبال،  نذیر خان سواتی،  میاں محمد طارق،  نسیم ارشد وڑائچ،  محسن لطیف یوتھ نمائندگی،  طارق گل (نان مسلم نمائندگی)  شائستہ پرویز ملک (لیڈیز نمائندگی)  اور میاں غلام دستگیر مقرر کئے گئے۔ طے یہ پایا کہ یہ لوگ امیدواروں کے انٹرویوز کر کے جو فہرست مرتب کریں گے ان کی حتمی منظوری سینئر بورڈ لاہور میٹرو پولٹن بلدیاتی کمیٹی (بشمول کینٹ)  دے گا۔  سینئر بورڈ میں میاں حمزہ شہباز،  ملک محمد پرویز، خواجہ احمد حسان،  خواجہ عمران نذیر،  زعیم حسین قادری،  میاں مرغوب احمد،  مہر اشتیاق، ملک افضل کھوکھر، خواجہ  سلمان رفیق،  سید توصیف شاہ، محسن لطیف اور شائستہ  پرویز ملک کو شامل کیا گیا تھا۔  مسلم لیگ (ن)  کے جن امیدواروں کو میدان میں اتارا گیا ان میں بہت بڑی تعداد میں مسلم لیگ (ن) لاہور کے عہدیداران سمیت دیگر تنظیمی  عہدیداران شامل ہیں۔اب ہم پاکستان تحریک انصاف کی طرف آتے ہیں ۔ تحریک انصاف نے صوبائی اسمبلی کی سطح پر بلدیاتی الیکشن کے امیدواروں کے چناؤ کے لئے  پچیس 25  آرگنائزنگ کمیٹیاں مقرر کیں۔  تحریک انصاف لاہور کے صدر عبدالعلیم خان نے لاہور کے امیدواروں کے فیصلوں پر کسی قسم کے اعتراضات سامنے آنے کی پیش بندی کرتے ہوئے ایک تیرہ  رکنی Reconciliation Committee  تشکیل  دی جس کے کنوینئر میاں حامد معراج اور ممبران میں سردار کامل عمر، میاں  اسلم اقبال ایم پی اے،  سعدیہ سہیل ایم پی اے، ولید اقبال،  شیخ امتیاز محمود،  یاسر گیلانی، شعیب  صدیقی، میاں افتخار،  عمر سرفراز چیمہ،  میاں جاوید علی،  مسز  نیلم اشرف اور جنید رزاق ایڈووکیٹ شامل ہیں۔  صوبائی اسمبلی کے حلقہ کی سطح پر  جو کمیٹیاں  بنائی گئیں ان کے سربراہ ممبر قومی اسمبلی  یا قومی اسمبلی  کے اس  حلقے سے ٹکٹ ہولڈر کو بنایا گیا جبکہ ان کی معاونت کرنے والوں میں صوبائی اسمبلی کے ممبر یا ٹکٹ ہولڈر سمیت دیگر عہدیداران و کارکنان کو شامل کیا گیا۔  پی پی 137  سربراہ حامد زمان معاون یاسر گیلانی سمیت دیگر پی پی 138  حامد زمان، میاں  محمود احمد،  پی پی 139 ڈاکٹر یاسمین راشد،  مظہر اقبال، بھلی بٹ،  پی پی 140  ڈاکٹر یاسمین راشد، زبیر نیازی، پی پی 141  محمد مدنی، عاطف چودھری،  پی پی 142  محمد مدنی،   ملک وقار، پی پی 143  عاطف چودھری،  ارشد   خان، پی پی 144  عاطف چودھری ، میاں  حامد معراج،  پی پی 145  ولید اقبال، طارق حمید، پی پی 146  ولید اقبال، جمشید اقبال چیمہ،  پی پی 147  شعیب صدیقی، شیخ  عامر ، پی پی 148  میاں اسلم اقبال،  شکیل گوندل، پی پی 149  حماد اظہر،  میاں اکرم عثمان، پی پی 150  حماد اظہر، واجد عظیم، پی پی 151 شفقت محمود، میاں محمود الرشید، پی پی 152  شفقت محمود، ڈاکٹر مراد  راس شامل تھے۔جماعت اسلامی نے پارٹی ٹکٹوں کے فیصلوں کے لئے امیر جماعت اسلامی لاہور میاں مقصود احمد، قاضی سہیل امین، ذاکر اللہ مجاہد،  خالد بٹ، ارشد گوندل،  اللہ بخش لغاری  کو اختیار دیا۔ اب اگر بلدیاتی  انتخابات ہو جاتے ہیں جس کا امکان بہت ہی کم نظر آتا ہے کہ قومی اسمبلی الیکشن کے التواء کے لئے دو قراردادیں متفقہ  طور پر منظور کر چکی ہے جبکہ الیکشن کمشن نے بھی ہاتھ کھڑے کر دیئے ہیں کہ ان کے لئے ممکن ہی نہیں کہ 7  دسمبر کو الیکشن کروائیں۔ تاہم اب تک کی سیاسی سرگرمیوں  جن میں امیدواروں کے چناؤ سے لے کر امیدواروں کی تعداد سے لگتا ہے کہ لاہور میں مسلم لیگ (ن)  آج بھی نمبر ون جماعت ہے جبکہ اس کے امیدواروں کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کے امیدواروں سے ہوتا دکھاتی دیتا ہے باقی جماعتیں پس منظر میں چلی گئی ہیں۔