عشرہ محرم الحرام اور سکیورٹی اداروں کا ہائی الرٹ

14 نومبر 2013

ملک کے چھوٹے بڑے شہروں، قصبوں اور دیہات میں عشرہ محرم الحرام عقیدت و احترام کے ساتھ جاری ہے۔پورا ملک امن وامان کی جس گھمبیر صورتحال سے دو چار ہے ۔ اس کیفیت نے ہر شہری کو بے یقینی‘ دہشت اور خوف میںمبتلا کررکھاہے یہ صورتحال یقینا عشرہ محرم الحرام کی سرگرمیوں کیلئے بہت ہی زیادہ قابل تشویش ہے۔ فیصل آباد ڈویژن کے ضلع جھنگ میںچونکہ عشرہ محرم الحرام منانے والوں کی اکثریت ہے لہٰذا ‘ جھنگ شہر میں محرم الحرام کے پہلے عشرے کے دوران ہمیشہ ہی امن وامان کا مسئلہ رہاہے۔ جب ملک اورمعاشرے کے کسی بھی حصے میں فرقہ وارانہ کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو فیصل آباد ڈویژن کے تمام شہروں میں بھی بالعموم عشرہ محرم الحرام کے دوران انتظامیہ کیلئے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام میں مذہبی ہم آہنگی اور بھائی چارے کی ضرورت کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ اس بات کویقینی بنایا جاتا ہے کہ کسی دوسرے فرقے کے لوگوں کی طرف سے شیعہ فرقہ کے امام بارگاہوں اور عزاداری کی مجالس میں جوش خطابت میں کہے گئے الفاظ پرکسی قسم کے ردعمل سے گریز کیا جائے۔ لیکن جب سے ملک میںکالعدم تحریک طالبان کی طرف سے دہشت گردی کے واقعات کاارتکاب کیا جارہاہے اس بات کاخطرہ بڑھ گیاہے کہ کسی بڑے شہر میں منعقد ہونے والی عزاداری کی مجالس اور کسی ماتمی جلوس میں کوئی خودکش دھماکہ نہ ہوجائے۔ کالعدم تحریک طالبان سے امن مذاکرات کا مستقبل مشکوک ہو چکا ہے۔امریکہ نے اسکے لیڈر حکیم اللہ محسود کوڈرون حملے کانشانہ بنا کر جس طرح طالبان تحریک اور حکومت کے مابین امکانی مذاکرات کوسبوتاژ کیاہے اس نے امریکہ سے تعلقات کے حوالے سے توبلاشبہ بہت سے سوالات پیدا کئے ہی ہیں لیکن پاکستان کا براہ راست نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ دہشت گرد اس کا بدلہ پاکستان کی سکیورٹی ایجنسیوں پر حملے کرکے لیں گے۔ تحریک طالبان کے ترجمان نے واشگاف الفاظ میں کہہ دیاہے کہ عوام خوف نہ کھائیں۔ تحریک طالبان صرف سکیورٹی ایجنسیوں کے افسروں اہلکاروںاور حکومتی اعلیٰ شخصیات کو نشانہ بنائیں گے لیکن اس کے باوجود محرم الحرام کے پہلے عشرے میں پورے ملک میں خوف اور دہشت کی فضا موجود ہے کہ نہ معلوم کس شہر میں کسی مجلس یا جلوس میں بارودی دھماکہ ہوجائے۔طالبان مجالس اور جلوسوں کو نہ بھی دہشت گردی کانشانہ بنائیں ہرشہر میں ان مجالس اور عزاداری کے جلوسوں کی حفاطت کیلئے سکیورٹی اداروں کے افراد کو تو وہ اپنا ہدف بناسکتے ہیں۔تحریک طالبان‘ محرم الحرام میں خودکش دھماکے کرانے سے باز بھی رہے تو بھی امام بارگاہوں اور عزاداری کی مجالس اور ذوالجناح کے جلوسوں میں یہود و ہنود بارودی دھماکے کراسکتے ہیں۔ بھارت کی ایجنسی’’را‘‘ کے ایجنٹوں کومعلوم ہے کہ اس وقت کسی شہر میں خودکش یا بارودی دھماکے ہوں گے تو سب کادھیان تحریک طالبان کی طرف ہی جائے گا کہ یہ دھماکے اس نے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کاانتقام لینے کیلئے کرائے ہیں۔ طالبان ایک ڈیڑھ ماہ پشاور کے گرجا گھر اور قصہ خوانی بازار میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں میں اپنا ہاتھ شامل ہونے کی نفی کرچکے ہیں اور ان دونوںواقعات کے حوالے سے ہونے والی تفتیش اور تحقیقات میں یہ بات بھی سامنے آچکی ہے کہ خودکش حملوں کا ارتکاب کرکے بے گناہ افراد کے ساتھ خود بھی موت سے دو چار ہونے والے ان افراد کا تعلق بیرونی ممالک سے تھا۔ ہرشہر میں محرم الحرام کے سکیورٹی انتظامات میںانتظامیہ کو یہ پہلو بھی لازمی طورپر نظر میں رکھنا ہوگا کہ بھارتی سرغراساں ایجنسی’’را‘‘ کے ایجنٹ بھی عشرہ محرم الحرام کی تقریبات کونشانہ بناسکتے ہیں تاکہ ان تقریبات میں ہونے والے نشانوں سے پاکستان میں فرقہ وارانہ کشیدگی کی فضا پیدا ہوسکے۔ اس وقت جب پورے ملک کو امن وامان کے مسائل نے گھیر رکھاہے حکومت پوری طرح الرٹ ہے کہ عشرہ محرم الحرام خیر و عافیت سے گزر جائے لہٰذاچاروںصوبائی حکومتوںنے اپنے اپنے صوبے میں موجود ان شہروں میں فول پروف سکیورٹی انتظامات کررکھے ہیںاور توقع کی جارہی ہے کہ محرم الحرام کے ان دنوںمیں کوئی بڑا واقعہ رونما نہیںہوگا۔ڈویژنل کمشنر فیصل آباد اور ریجنل پولیس آفیسر کی قیادت میںچاروں اضلاع کے ڈی سی اوز اور سی پی اوز کے اجلاس منعقد ہوتے رہے ہیں جن میںسے ایک اجلاس میں پنجاب کے ہوم سیکرٹری اور ایڈیشنل چیف سیکرٹری بلکہ حکومت پنجاب کے وزیر قانون رانا ثناء اللہ بھی شریک ہوئیتھے اور اس اجلاس میں فیصل آباد‘جھنگ ‘ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چنیوٹ سمیت فیصل آباد ڈویژن کے تمام چھوٹے بڑے شہروںمیں منعقد ہونے والی محرم الحرام کی تقریبات کیلئے سکیورٹی انتظامات طے کرلئے گئے تھے۔ اس وقت فیصل آباد اور جھنگ شہر میںبطور خاص سکیورٹی کے حوالے سے ہائی الرٹ کی کیفیت ہے۔ فیصل آباد کی انتظامیہ نے ملک بھر سے 70علماء کرام اور ذاکرین کافیصل آباد میں داخلہ روک رکھاہے۔یہی صورتحال ‘ جھنگ ‘ ٹوبہ ٹیک سنگھ اور چنیوٹ میں ہے کہ ان تمام شہروں میں ان شہروں کے مقامی علماء اورذاکرین موجود ہیںاور ان کی سرگرمیوں پرچاروں اضلاع کی انتظامیہ نے نظر رکھی ہوئی ہے۔ فیصل آباد میں اہلسنت والجماعت اور اہلحدیث مکاتب فکر نے یکم محرم کو خلیفہ راشد حضرت عمرفاروقؓ کایوم شہادت جوش و خروش سے منا کر محرم الحرام کی عظمت‘ فضیلت اور اس کے تقدس سے اپنے فکر تعلق کااظہار کرلیاہے۔ ان مکاتب فکر کے علماء دس محرم کو نواسہ رسول حضرت امام حسینؓ کی شہادت سے بھی لاتعلق نہیں ہیں اور انہوںنے اپنے اپنے طورپر ضلعی انتظامیہ کو اس بات کی یقین دہانی کرارکھی ہے کہ وہ محرم الحرام کے پہلے عشرہ کے دوران نہ صرف بڑے پیمانے پر مذہبی تقریبات کاانعقاد نہیں کریںگے بلکہ نماز جمعہ کے خطابات میں بھی اتحاد بین المسلمین کے موضوع کو ہی اجاگر کریںگے۔ فیصل آباد میں خلافت راشدہ کانفرنس کابھی انعقاد کیاگیا جس میں رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان‘ علامہ زبیر احمدظہیر‘ مولانا منظور احمد‘ قاری محمد حنیف ربانی‘ عبدالرشید حجازی‘ علامہ ارشاد الحق اثری‘ پروفیسر حافظ سعید احمد چنیوٹی‘ قاری عبدالسلام عزیزی‘ حکیم ثناء اللہ ثاقب‘ حافظ یحییٰ مدنی‘ خالد محمود اعظم آباد‘ حافظ عبدالرحمن اثری‘ قاری عبدالرحمن آزاد اور دیگرجید علماء کرام نے محرم الحرام کے تقدس اور ان ایام کی عظمت اور فضیلت بیان کی اور ان سب کے بیانات کانچوڑ یہی تھا کہ امہ کو بحرانوں سے نکالنے اور حقیقی رفعتوں تک رسائی دلانے کیلئے قرآن و حدیث کو اپنا دستور بنا ناہوگا۔ تنظیم اسلامی فیصل آباد کے زیر اہتمام احادیث مبارکہ کی روشنی میں ارض مقدس فلسطین و شام کی اہمیت کے موضوع پر منعقدہ ایک سیمینار میںبھی ملک کی کامیابیوں کیلئے ملک میں قرآن پاک کی تعلیمات کو راہ ہدایت کے طورپر اپنانے اور مسلمانوں کو اپنی زندگیوں پراسلام کو دین کے طورپر نافذ کرکے باہمی اختلافات و خلفشار سے نکلنے کی راہ دکھائی گئی اور اب شہر میں شیعہ فرقہ کی مجالس اور جلوسوں کے انتظامات مکمل ہیں۔ دسویں محرم تک سینکڑوںمجالس منعقد ہوں گی اور اس دوران امن وامان کی حالت برقرار رہی تو چار سو سے زائد جلوس نکالئے جائیں گے۔