مشیر خارجہ پاکستان اور بھارتی وزیر خارجہ کی بے ثمر ملاقات میں پاکستان پر روایتی الزامات کی بوچھاڑ …… کیا بھارتی دہرے معیار سے مسئلہ کشمیر پر دنیا کی توجہ ہٹائی جا سکتی ہے؟

14 نومبر 2013

نئی دہلی میں وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز اور بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کے مابین مذاکرات کا توقعات کے مطابق کوئی فوری نتیجہ برآمد نہیں ہو سکا۔ ذرائع کے مطابق ان مذاکرات کے دوران لائن آف کنٹرول پر قیام امن اور انسداد دہشت گردی کے مشترکہ میکنزم پر تبادلۂ خیال ہوا تاہم اس بارے میں کسی لائحہ عمل کو حتمی شکل نہ دی جا سکی جبکہ اس ملاقات کا مشترکہ اعلامیہ بھی جاری نہیں ہوا جو کسی ٹھوس پیش رفت کے نہ ہونے کا عکاس ہے۔ سرتاج عزیز ایشیائی اور یورپی ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کیلئے نئی دہلی گئے ہیں اور اس دوران ہی انکی بھارتی وزیر خارجہ سے ملاقات ہوئی۔ ملاقات کے بعد بھارتی وزارت خارجہ کے ترجمان سید اکبرالدین نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ دونوں ممالک نے لائن آف کنٹرول پر سیز فائر معاہدے پر عمل کرنے پر اتفاق کیا ہے اور اس بارے میں دونوں ممالک کے ڈی جی ایم اوز کی جلد ملاقات ہو گی۔ ترجمان کے مطابق سرتاج عزیز کے ساتھ ممبئی حملوں پر بھی بات چیت کی گئی۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارتی حکومت نے ہندو انتہاء پسند بی جے پی کے دبائو میں آکر پینترا بدلا اور پاکستانی مشیر خارجہ کو باور کرایا کہ انکی نئی دہلی میں کشمیری حریت رہنمائوں سے ملاقات مذاکراتی عمل کو متاثر کر سکتی ہے اس لئے پاکستان بامعنی مذاکرات کا خواہاں ہے تو سازگار حالات پیدا کرے اور بھارت کے نکتۂ نظر‘ جذبات اور احساسات کو ذہن میں رکھے۔
مشیر خارجہ پاکستان اور وزیر خارجہ بھارت کے مابین اس ملاقات کے حوالے سے جو چند سطری بیان جاری کیا گیا‘ اس میں رسماً تو یہ الفاظ موجود ہیں کہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی تاہم میڈیا رپورٹس اسکے قطعی برعکس صورتحال کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ بھارتی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق ملاقات کے دوران بھارتی وزیر خارجہ نے سرتاج عزیز کے ساتھ ایل او سی پر سیز فائر کی خلاف ورزیوں کے معاملہ پر سخت تحفظات کا اظہار کیا۔ اسی طرح بھارتی میڈیا کی جانب سے مشیر خارجہ پاکستان کی نئی دہلی میں کشمیری حریت لیڈروں سے ملاقات کے معاملہ میں بھارتی حکومت کے سخت ردعمل کو زیادہ اچھالا گیا اور بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کے اس مؤقف کا بار بار تذکرہ کیا گیا ہم نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی حمایت میں رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے بہت کام کیا مگر پاکستان کی طرف سے حریت رہنمائوں سے ملاقات جیسے اقدامات نے بگاڑ پیدا کیا ہے کیونکہ اس ملاقات میں منموہن حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ کا یہ مؤقف بذات خود ملاقات کے بارآور نہ ہونے کی چغلی کھا رہا ہے اور یہ حقیقت مزید کھل کر سامنے آگئی ہے کہ بھارت کسی بھی سطح کے مذاکرات کی میز پر کشمیر ایشو پر کوئی لفظ سننا گوارا نہیں کرتا اگر پاکستان بھارت مذاکرات میں دونوں ممالک کے مابین جاری دیرینہ مسئلہ کشمیر پر سرے سے کوئی بات ہی نہیں ہونی اور بھارتی قیادت کو کشمیر کا تذکرہ تک گوارا نہیں تو پھر پاکستان بھارت کے مابین ایسا کونسا تنازعہ ہے جسے باہم مل بیٹھ کر مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کا دنیا کو تاثر دیا جاتا ہے۔ پاکستانی مشیر خارجہ نے بھارتی پردھان منتری سردارجی کے بھی درشن کئے۔
یہ حقیقت ہے کہ بھارت کے پیدا کردہ مسئلہ کشمیر کی وجہ سے ہی دونوں ممالک کے مابین لائن آف کنٹرول اور پانی کے مسائل پیدا ہوئے ہیں ورنہ تو تقسیم ہند کے ساتھ کشمیر کا مستقبل بھی طے کرکے ایک دوسرے کی ترقی‘ خوشحالی‘ استحکام اور علاقائی امن و آشتی کو باہمی تعاون سے یقینی بنایا جا سکتا تھا۔ اگر دونوں ممالک نے ایٹمی ٹیکنالوجی سمیت اپنی جنگ‘ حربی صلاحیتوں میں اضافہ در اضافہ کرکے باہمی جنگ و جدل کی راہ اختیار کی ہے تو کشمیر کو متنازعہ بنانا ہی اس کا اصل پس منظر ہے۔ اس تناظر میں مسئلہ کشمیر کے قابل قبول حل کے بغیر پاکستان بھارت خوشگوار دوستانہ تعلقات کی راہ استوار ہو سکتی ہے نہ علاقائی اور عالمی امن و استحکام کی ضمانت مل سکتی ہے جبکہ مسئلہ کشمیر کو بھارت نے خود کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے کر اور مقبوضہ کشمیر میں تعینات دس لاکھ کے قریب بھارتی فوجوں کے کشمیری عوام پر مظالم کا سلسلہ تسلسل کے ساتھ برقرار رکھ کے سنگین اور پیچیدہ بنایا ہے۔
بھارت کی جانب سے دنیا کو دکھانے کیلئے بظاہر کشمیر سمیت ہر ایشو پر پاکستان کے ساتھ مذاکرات پر آمادگی کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے مگر جب کسی بھی سطح پر مذاکرات کی نوبت آتی ہے تو کشمیر کا تذکرہ ہوتے ہی مہاراج کی پیشانی شکن آلودہ ہو جاتی ہے اور پھر دراندازی سمیت دنیا جہان کی خرابیوں کا ملبہ پاکستان کے سر تھوپ دیا جاتا ہے۔ دنیا کو بھارتی رویے اور طرز عمل کے ایسے مناظر ستمبر میں یو این جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر بھی بھارتی وزیراعظم‘ میڈیا اور امریکہ میں موجود بھارتی لابی کی چیخ و پکار سے ملے جبکہ بھارتی وزیراعظم نے تو امریکی صدر اوبامہ سے اپنی ملاقات کو پاکستان کیخلاف باضابطہ طور پر اپنے شکایت نامہ میں تبدیل کر دیا اور دراندازی اور ممبئی حملوں سمیت بھارت میں موجود ہر خرابی کا پاکستان کو مورد الزام ٹھہرایا۔ اس بھارتی پراپیگنڈے کا پس منظر بھی یہی تھا کہ وزیراعظم پاکستان میاں نوازشریف نے اپنے ستمبر کے دورہ امریکہ کے دوران کشمیر پر پاکستان کے اصولی مؤقف کا کھل کر اظہار کیا جس سے بھارتی سرکار کے ماتھے پر بل پڑے۔ اسی طرح میاں نوازشریف گزشتہ ماہ اکتوبر میں امریکی صدر اوبامہ سے ملاقات کیلئے واشنگٹن گئے تو اس موقع پر بھی دراندازی اور ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان مخالف بھارتی زہریلا پراپیگنڈہ فضا کو مکدر بناتا نظر آیا جبکہ بھارت کی جانب سے ایل او سی کی جن خلاف ورزیوں کا پراپیگنڈہ کیا گیا‘ وہ خود بھارت کی جانب سے آج بھی تسلسل کے ساتھ جاری ہیں جس سے سرحدی کشیدگی ہی نہیں‘ باقاعدہ جنگی ماحول بھی پیدا ہو چکا ہے۔ اگر اس صورتحال میں پاکستان بھارت مذاکرات کی کامیابی کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونا ہے تو وہ صرف مسئلہ کشمیر کے یو این قراردادوں کے مطابق حل سے ہی ممکن ہے اور اگر بھارت کو مشیر خارجہ پاکستان کے دورہ بھارت کے موقع پر انکی کشمیری حریت لیڈران سے ملاقات بھی گوارا نہیں ہوئی تو اس سے مسئلہ کشمیر کے آبرومندانہ حل کی کیا توقعات وابستہ کی جا سکتی ہیں جبکہ کشمیر کے تنازعہ میں کشمیری ہی اصل فریق ہیں۔
اس وقت چونکہ بھارت میں عام انتخابات کی مہم کا بھی آغاز ہو چکا ہے‘ جس میں اپوزیشن بی جے پی پاکستان مخالفت کی بنیاد پر ہی بھارتی عوام کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اسی تناظر میں وہ بھارتی حکمران کانگریس کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتی ہے تو اسکے توڑ کیلئے کانگرس کو بھی پاکستان مخالف پراپیگنڈہ کرنے کے سوا کوئی راستہ نظر نہیں آتا چنانچہ بھارتی حکومت اور اپوزیشن دونوں جماعتوں کی انتخابی مہم پاکستان مخالفت پر مبنی ہو گی تو پاکستان بھارت کسی بھی سطح کے مذاکرات کی کامیابی کی کیسے توقع کی جا سکتی ہے۔ اس تناظر میں بھارتی لیڈران منافقانہ پالیسیاں اختیار کرکے پاکستان بھارت تعلقات کے معاملہ میں دنیا کے سامنے بھارت کا جو امیج بنا کر پیش کرتے ہیں‘ حقائق اسکے قطعی برعکس ہوتے ہیں۔ مشیر خارجہ پاکستان سرتاج عزیز کے دورہ بھارت کے موقع پر بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید نے دو روز قبل آسٹریلوی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے دنیا کو دکھانے کیلئے پاکستان کے ساتھ بظاہر ہمدردی کا اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کو اپنے ملک کے اندر بہت سنگین مسائل کا سامنا ہے اس لئے بھارت سمجھتا ہے کہ اسے پاکستان کو کچھ وقت دینا چاہیے۔ اس تناظر میں انہوں نے پاکستان کو شک کا فائدہ دینے پر بھی آمادگی کا اظہار کیا تاہم سرتاج عزیز سے ملاقات کے موقع پر انہوں نے ایل او سی کی خلاف ورزیوں‘ دراندازی اور ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے انتہائی جارحانہ طرز عمل اختیار کیا جس کی بھارتی میڈیا پر تشہیر بھی اسی انداز میں کی گئی تاکہ بھارتی عوام کو پیغام دیا جا سکے کہ کانگرس حکومت پاکستان دشمنی میں بی جے پی سے دو قدم آگے ہے۔
یقیناً اس بھارتی پالیسی کا دنیا کو بھی ادراک ہے اور حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی فوجوں کے مظالم کیخلاف منظر عام پر لائی گئی رپورٹس بھی چشم کشا ہیں جس سے پاکستان بھارت مذاکرات کی کامیابی کیلئے بھارتی سنجیدگی کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ اس صورتحال میں پاکستان کی حکومتی سیاسی قیادتوں کو کشمیری عوام کی طویل اور صبرآزما جدوجہد کا اپنے اصولی مؤقف کی بنیاد پر ساتھ دیتے ہوئے اسکی لو مدھم نہیں ہونے دینی چاہیے۔ حکومت نے اس تناظر میں عالمی فورموں پر کشمیر ایشو کو فراموش نہ ہونے دینے کی درست سمت اختیار کی ہے جس سے یقیناً کشمیری عوام کو اپنی جدوجہد میں مزید تقویت حاصل ہو گی۔ یہ طے شدہ امر ہے کہ اس خطے کا امن و استحکام اور پاکستان کے پانی کا مسئلہ کشمیر کے قابل عمل اور قابل قبول حل کے ساتھ ہی وابستہ ہے۔