الیکشن کمیشن کو نئے شیڈول کے مطابق انتخابات کرانے کی اجازت

14 نومبر 2013

سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن کو نئے شیڈول کے مطابق بلدیاتی الیکشن کرانے کی اجازت دے دی ہے قائم مقام چیف الیکشن کمشنر جسٹس تصدق حسین جیلانی کی جانب سے رجسٹرار سپریم کورٹ کو خط بھجوایا گیا جس میں 7دسمبر کی بجائے سندھ اور پنجاب میں بالترتیب 18 اور 30جنوری کو انتخابات کرانے کی درخواست کی گئی تھی۔ بلوچستان میں انتخابات پہلے سے جاری شیڈول کے مطابق 7دسمبر کو ہوں گے۔
بلدیاتی انتخابات کا اداروں کی مدت ختم ہونے کے بعد انعقاد آئینی تقاضا ہے جس سے سابق مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے چار سال گریز کیا۔ مئی 2013ء کے انتخابات میں منتخب ہونیوالی سیاسی لیڈر شپ بھی ٹال مٹول سے کام لے رہی تھی۔ سپریم کورٹ کو آئین کے اس تقاضے کی تکمیل کیلئے زور دینا پڑا۔ اس پر حکومتیں اور الیکشن کمیشن متحرک تو ہوا مگر آئیں بائیں شائیں کی جاتی رہی۔ بالآخر الیکشن کمیشن پر باور کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ انتظامات مکمل کرنے میں اسے مزید وقت درکار ہے قومی اسمبلی نے بھی صوبوں کی مجبوریوں کا ادراک کرتے ہوئے صوبوں میں دی ہوئی تاریخوں پر انتخابات کے انعقاد کو ملتوی کرنے کی قرار داد منظور کر لی۔ اس سے پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے آمنے سامنے آنے کا تاثر ابھر رہا تھا اور الیکشن کمیشن کیلئے یہ امتحان کا مرحلہ ہو سکتا تھا۔ سپریم کورٹ کا الیکشن کمیشن کو اسکے نئے شیڈول کے مطابق انتخابات کے انعقاد کی اجازت سے حکومتی اور الیکشن کمیشن کے حلقوں کو سکھ کا سانس لینے کا موقع ملا ہے۔ عمومی تاثر یہ ہے کہ حکومتیں سرے سے بلدیاتی الیکشن کا انعقاد نہیں چاہتیں اور الیکشن کمیشن ان کا آلہ کار بن چکا ہے۔ الیکشن کمیشن کی طرف سے نئے شیڈول کے مطابق الیکشن سے اس تاثر کی نفی ہو گی اور ایک آئینی تقاضا پورا ہو گا جس سے اقتدار کی گراس روٹ لیول تک منتقلی سے عوامی مسائل حل ہو سکیں گے یہی بلدیاتی نظام کی روح ہے۔