ہرجانے کی بجائے گیس منصوبہ مکمل کیا جائے

14 نومبر 2013

پاکستان اور امریکہ توانائی ورکنگ گروپ کا دو روزہ اجلاس واشنگٹن میں شروع ہو گیا جس میں کارکارلوس امریکہ اور پاکستان کی شاہد خاقان عباسی اور خواجہ آصف پاکستان کی نمائندگی کر رہے ہیں۔ وزیر پانی و بجلی کا کہنا ہے کہ امریکہ نے ایران گیس منصوبے کی مخالفت کرنی ہے تو ہمیں ہرجانے کی رقم دے۔
پاکستان اس وقت توانائی کے بحران سے شدید دوچار ہے جسے حل کرنے کیلئے حکومت بھرپور کوششیں کر رہی ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے حلف اٹھانے کے بعد پہلا سرکاری دورہ چائنہ کا کیا اور توانائی کے شعبے میں چین سے بھرپور مدد لینے کا فیصلہ کیا۔ اسکے ساتھ ترکی سے بھی توانائی میں مدد لی گئی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے سرگرم ہیں لیکن حکومت کو نئے منصوبے شروع کرنے کے ساتھ ساتھ ایران کے ساتھ گیس کے معاہدے کو بروقت مکمل کرنا چاہئے۔ اگر ایران کے ساتھ گیس کے منصوبے کو بروقت مکمل کرلیا جاتا ہے تو گیس کی قلت سے پیدا ہونیوالا توانائی کا بحران کافی حد تک ختم ہو سکتا ہے لیکن ہمارے حکمران امریکی پابندیوں کے خدشے سے اس معاہدے کو التوا میں ڈال رہے ہیں۔
وفاقی وزیر پانی و بجلی خواجہ آصف نے نئی منطق ایجاد کی ہے کہ امریکہ اگر ایران کے ساتھ گیس منصوبے کی مخالفت کرتا ہے تو ہرجانے کے طور پر جو رقم طے ہے وہ ادا کرے، بالفرض اگر امریکہ ہرجانے کی رقم دینے کا اعلان بھی کرتا ہے تو اس کا پاکستان یا اسکے عوام کو کیا فائدہ ہو گا،وہ رقم تو سیدھی ایران کے پاس جائیگی۔ ہرجانے کی رقم ادا کرنے سے بحران تو حل نہیں ہو جائیگا۔ لہٰذا خواجہ آصف اپنے مفادات کا سودا کرنے سے گریز کریں اور امریکہ کو قائل کریں کہ توانائی بحران سے نمٹنے کیلئے ایران گیس لائن منصوبہ ضروری ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے سردیوں کیلئے گیس کی لوڈشیڈنگ کا اعلان کرتے ہوئے کہہ دیا ہے کہ صرف دن میں تین وقت کھانا پکانے کیلئے گیس آئیگی۔ حکومت کیخلاف عوامی غیظ و غضب کا لاوا کسی وقت بھی پھٹ سکتا ہے لہٰذا حکومت عوامی جذبات اور ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو بروقت پورا کرنے کی کوشش کرے تاکہ ملک کی گیس کی ضرورت پوری ہو سکے۔ایران کو بھی برادر پڑوسی ملک کی مشکلات کا احساس کرنا چاہیے۔