روحانی جمہوریت کے مادی خدوخال

14 نومبر 2013

علامہ اقبال کے جن روشن تصورات کے گرد ابہام کی دھند پھیلائی جا رہی ہے اُن میں روحانی جمہوریت کا انقلابی تصور نمایاں ہے۔ ’’اسلام میں اصولِ حرکت ‘‘کے موضوع پر اپنے خطبے میں نے روحانی جمہوریت کے قیام ،استحکام اور فروغ کو اسلام کا حقیقی مقصود قرار دیا ہے۔شارحین اقبال نے روحانی جمہوریت کے اس روشن تصور کے گرد ابہام کی دُھند پھیلادی ہے۔اگر ہم اقبال کے اِس تصور کی اپنے اصل سیاق و سباق میں تفہیم و تعبیر کریں تو ہم روحانی جمہوریت کی اصطلاح کے درست مفہوم تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
اسلام میں اجتہاد کے بند دروازے کو کھولنے کی ضرورت اور اہمیت کے موضوع پر اپنی گفتگو کے اختتامی کلمات میں اقبال تُرک قوم کی بیداری اور اصلاح کی تحریک اور مسلم ایشیا کے قُرب و جوار میں رُوسی اشتراکیت کے نئے اقتصادی تجربات کو خوش آئند قرار دیتے ہیں۔اُن کے خیال میں ہر دو تحریکوں پر تخلیقی غور و فکر سے ہم اسلام کے باطنی مفہوم اورحقیقی مقدّر کو بڑی آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے ہیں۔ اُن کے خیال میں دُنیائے انسانیت کو آج تین چیزوں کی اشد ضرورت ہے۔ اوّل:کائنات کی روحانی تعبیر ۔ دوم: فرد کی روحانی آزادی اور فلاح ۔ سوم: انسانی معاشرت کا روحانی بنیادوں پر ارتقائ۔اقبال کے خیال میں یورپ یہ فریضہ سرانجام دینے کا اہل نہیں ہے۔مغرب کا جمہوری نظام امیروں کے مفادات کے حصول کی خاطر غریبوں کا خون چُوستے چلے جانے کاوسیلہ بن کر رہ گیا ہے۔یہ نظام امیروں کے معاشی مفادات کے تحفظ اورارتقاء کی خاطر غریبوں کا استحصال روا رکھنا جائز سمجھتا ہے۔نتیجہ یہ کہ آج کا یورپ انسان کی اخلاقی اور روحانی ترقی میں زبردست رُکاوٹوں کا سبب ہے۔اسلا م کی سچی تعبیر ان انسانی مصائب کی چارہ گر ثابت ہو سکتی ہے۔ اسلام کے آفاقی اصولوں کے مطابق روحانی جمہوریت کا قیام اور فروغ انسان کے معاشی دُکھوں کو شفا بخش سکتا ہے۔
اِس سیاق و سباق کو پیشِ نظر رکھا جائے تو یہ حقیقت روشن ہو جاتی ہے کہ روحانی جمہوریت کا مطلب علمائے کرام کی شہنشاہیت نہیںبلکہ اِس کے برعکس یہ انسانی مساوات کے اسلامی اصولوںپر مبنی معاشی عدل و انصاف کا عوامی جمہوری نظام ہے۔ اِس نظام کے قیام کی خاطر اقبال نے اِس خطبے کی آخری سطروں میں دُنیائے اسلام کو اپنی زندگی دینِ حق کے دائمی اصولوں کی روشنی میں نئے سرے سے تعمیر کرنے کی ضرورت کا احساس دلایا ہے۔ اقبال کے خیال میںروحانی جمہوریت کا قیام اور فروغ دینِ حق کاحقیقی مقصود ہے۔ اِس لیے آج کے مسلمان کو اسلام کے اِس مقصد کے حصول میں سرگرمِ عمل ہو جانا چاہیے۔ دُنیائے اسلام کی سرحدوں کے آس پاس برپا اشتراکی انقلاب کی جانب برمحل اشارہ کرتے ہوئے اقبال نے اشتراکیت کے اقتصادی اصول و ضوابط اور اسلام کے معاشی عدل و انصاف کے تصورات کے درمیان گہری مماثلت کو اپنی شاعری میں بھی موضوعِ سُخن بنایا ہے۔ یہاں میں اُن کی فقط ایک مختصر نظم بعنوان ’’اشتراکیت‘‘ کی جانب اشارہ کرنا کافی سمجھتا ہوں:
قوموں کی روِش سے مجھے ہوتا ہے یہ معلوم
بے سُود نہیں رُوس کی یہ گرمیِ گفتار
اندیشہ ہوا شوخیِ افکار پہ مجبور
فرسُودہ طریقوں سے زمانہ ہُوا بیزار
انساں کی ہوس نے جنھیں رکھّا تھا چھپا کر
کھلتے نظر آتے ہیں بتدریج وہ اَسرار
قرآن میں ہو غوطہ زن اے مردِ مسلماں
اللہ کرے تجھ کو عطا جدتِ کردار
جو حرفِ ’’قُلِ العَفْو‘‘ میں پوشیدہ ہے اب تک
اس دَور میں شاید وہ حقیقت ہو نمودار! (اشتراکیت)
اللہ تعالیٰ نے حرفِ ’’قُلِ العَفْو‘‘ میں مسلمانوں کو اپنی ضرورت سے زیادہ مال و دولت معاشرے کے غریب اور محروم طبقات پر نچھاور کرتے رہنے کی تلقین فرمائی ہے۔ اِس نظم میں اقبال نے اشتراکیت کا معاشی نظام مقلدانہ انداز میں اپنانے کی ہدایت نہیں فرمائی بلکہ جدّتِ افکار اور جدّتِ کردار سے اسلام کے حقیقی معاشی نظام کے قیام کی تمنّا کی ہے جس کی بدولت معاشرے میں کوئی بھی زیردست اور محتاج باقی نہ رہے۔یہ ہیں روحانی جمہوریت کے مادی خدوخال ۔
اقبال کے ہاں روحانی جمہوریت کی اصطلاح ایک طویل اور عمیق غور و فکر کا نتیجہ ہے۔
 اُنہوں نے آج سے ایک صدی پیشتر Islam as a Moral and Political Ideal کے عنوان سے اپنے خطبہ میں مساوات کو اسلام کا معاشرتی نظام اور جمہوریت کو اسلام کا سیاسی نظام قرار دیا تھا۔ اسلامی نظام کے خدوخال اُجاگر کرنے کی خاطراس گہری فلسفیانہ بحث کے دوران اُنھوں نے بڑی قطعیت کے ساتھ جمہوریت کو اسلام کا سیاسی آئیڈیل قرار دیا ہے۔اُن کے خیال میںجمہوریت کا یہ تصور انسانی معاشرے کواسلام کی اہم ترین عطا ہے۔ اقبال نے لکھا ہے کہ اسلام میں نہ تو اشرافیہ کا کوئی وجود ہے اور نہ ہی کسی مراعات یافتہ طبقے کی کوئی گنجائش ہے-نہ مُلائیت ہے اور نہ ہی ذات پات پر مبنی کسی نسلی طبقاتی نظام کا کوئی جواز موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ مکمل انسانی مساوات کے اسلامی تصور پر عمل نے قرنِ اوّل کے مسلمانوںکو دُنیا کی عظیم ترین سیاسی قوّت بنا دیا تھا۔ فقط چند ماہ بعداپنے ایک اور مضمون بعنوان "Political Thought in Islam" میں قرنِ اوّل سے لے کر عہدِ حاضر تک اسلام میں سیاسی فکر کے ارتقاء کی بحث کی اختتامی سطروں میں وہ انتخابات کے سیاسی اصول کوقرآنِ حکیم سے ماخوذ قرار دیتے ہیں۔
اسلام کی تاریخ کے پہلے تین عشروں (تیس سال) کے بعد ملوکیت اور مُلاّئیت کے گٹھ جوڑ نے مسلمان معاشرے کو عام انتخابات کے قرآنی اصول کے فیضان سے یکسر محروم کر دیا تھا۔