تاریخ

14 نومبر 2013

 ڈاکٹرعائشہ جلال بیسیویں صدی کے برصغیر کے عظیم اور لافانی افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کی بھانجی (grand niece)ہیں ۔ سائوتھ ایشیا کی مایہ ناز تاریخ دان اور امریکن یونیورسٹی میں تاریخ کی پروفیسر ۔اس ہفتے دستک میں وہ میری مہمان تھیں ۔کینڈا میں وہ اپنی نئی کتاب The pity of partition کے سلسلے میں آئی تھیں ۔ انکی یہ کتاب برصغیر کی تقسیم کے کرب پر لکھی گئی ہے ۔ گو کہ انہوں نے اسے تاریخ دان کی حیثیت سے لکھا ہے مگر چونکہ وہ سعادت حسن منٹو کی آنکھ کو استعمال کرتے ہوئے اس زمانے کے عام آدمی کا کرب ہمارے سامنے لا رہی ہیںتو اسے ایک ادبی شاہکار بھی کہا جا سکتا ہے ۔ سعادت حسن منٹو کی نظر سے، اسکے دل سے ہم تاریخ کے وہ نتائج تو دیکھ رہے ہیں جو کسی فیصلے یا عمل کی وجہ سے رونما ہوئے مگر اس کتاب میں ہم ان کی وجوہات نہیں دیکھ سکتے۔اس کیلئے ہمیں تاریخ کی خشک کتابوں میں ہی جانا ہوگا ۔
سعادت حسن منٹو لٹریچر اد یب نہ ہوتا تو شائد بہت دور اندیش سیاست دان یا تاریخ دان ہوتا ۔ گو کہ ایک ادیب کی حیثیت سے بھی وہ یہ سب کچھ کر رہے تھے ۔ منٹو نے اپنے کئی افسانوں میں اس زما نے کے عام انسانوں کے مجموعی عمل کی تصویر کھائی ہے ، جسے ہم وہ تاریخ کہہ سکتے ہیں جو تمام انسانوں کے غیر ارادی مجموعی عمل کے نتیجے میں بنتی ہے۔ آج کا پاکستانی یا ہندوستانی نوجوان جو اس بات سے نا آشنا ہے کہ تقسیم کی لائن خون سے کھینچی گئی تھی اور عورتوں کے جسموں کو پامال کر کے یہ سفر طے ہوا تھا تو وہ منٹو ،کرشن چندر ، راجندر سنگھ بیدی اور دوسرے کئی عظیم افسانہ نگاروں کے ا س زمانے میں لکھے گئے افسانے پڑھے ۔جب ہر حساس دل تڑپ کر رہ گیا تھا اور سعادت حسن منٹو جیسا انسان پرست انسانوں کی ایسی تذ لیل پر پاگل خانے بھی جا پہنچا تھا ۔
آج پاکستان میں ہونے والی یہ گرما گرم بحث کہ شہید کون اور ہلاک کون ؟ اسلام پھیلانے والے طالبان یا حکومت کی رِٹ قائم رکھنے والے فوجی جوان؟۔۔۔ آپ کویہ بحث نئی لگتی ہوگی لیکن تاریخ اگر افسانوں میں ہی دیکھنی ہو تو منٹو کا ٹیٹو وال کا کتا ضرور پڑھیں ۔
 ٹیٹو وال کا کتا میں پاکستانی اور ہندوستانی کیمپس آمنے سامنے ہیں ۔ ایک کتا ادھر بھٹکتا ہوا نکل آتا ہے ، ہندوستانی فوجی اسکے گلے میں ہندوستانی کا پٹہ ڈال دیتا ہے ، وہ کتا جب ٹہلتا ہوا پاکستانی کیمپ میں جاتا ہے تو پاکستانی فوجی اسے پاکستانی کہتے ہیں ۔ادھر اُدھر آتے جاتے اس پر فائرنگ ہوجاتی ہے ۔کتا مر جاتا ہے ۔ پاکستانی کیمپ سے آواز آتی ہے" شہید" ہوگیا ، ہندوستانی فوجیوں کو جب یہ یقین ہوجاتا ہے کہ وہ کتا پاکستانی ہی تھا تو وہ چلاتے ہیں "کتے کی موت مر گیا "۔آج ٹیٹو وال کے کتے کو مرے نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ گذر گیا ۔ مگر ہم آج تک یہ فیصلہ نہیں کر سکے کون شہید اور کون کتے کی موت مر رہا ہے ۔ بس بغیر فیصلے کے سب مرتے جارہے ہیں اور جو موت بانٹ رہا ہے اسے ان خطابات اور القابات سے کوئی غرض نہیں ۔پاکستان فوج کے جوان جو ملک میں امن قائم رکھنے کو جانیں دے رہے ہیں ،عام انسان کی زندگی کو محفوظ کرنے اور اسے چین کی نیند دینے کو مر رہے ہیں ،کسی بھی ملک کے شہید وہی لوگ ہوتے ہیں جو لوگ کسی بھی نام پر چاہے وہ اسلام کا ہی کیوں نہ ہو ریاست کے امن امان میں نقص ڈال رہے ہیں ،شہریوں کے جان و مال سے کھیل رہے ہیں ان کو مارنا واجب اور ان کی موت ہلاکت کے سوا کچھ نہیں ۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ امریکہ کے حمایتی ایک طرف اور بنیاد پرست مولوی دوسری طرف مگر یقین جانئے دونوں کے مفادات ایک ہی ہیں ۔سعادت حسن منٹو نے کہا تھا مولوی کے امریکی قینچی سے کٹے بال اور امریکی مشین سے سلا پا ئجامہ یعنی دونوں ایک یہ دونوں پاکستانی عوام کو جھکا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں۔ پاکستان میں مدرسوں کی تعداد تقسیم کے وقت 189 تھی جو آج 40000 تک پہنچ چکی ہے ۔
 بڑا سوال یہ اٹھتا ہے کہ مدرسوں میں آج جو 25,30لاکھ بچہ زیرِ تعلیم ہے کیا انکے ماں باپ واقعی انہیں مذہب کی تعلیم دلوانا چاہتے ہیں ؟ یا اس لئے کہ ان بچوں کو دو وقت کی روٹی مل جائیگی ۔ غور کیا جائے تو بات ساری روٹی کے گرد گھوم رہی ہے ۔ غریب آدمی کے فیصلے ایک روٹی کیلئے اور امیر آدمی کے فیصلے شاندار دستر خوان کیلئے ۔ ہندوستان کی تقسیم میں بھی غور کرینگے تو معلوم ہوجائیگا کہ ایک طرف برطانوی رنگ میں رنگے ہوئے اعلیٰ طبقے کے ہندوستانی (چا ہے مسلمان یا ہندو) اور دوسری طرف چاہے ہندو یا مسلمان غریب پسا ہوا طبقہ ۔دنیا میں یہی دو طبقے ہیں امر ء اور غربا ، باقی سب جعلسازی اور ملمع کاری ۔کبھی مذہب کے نام پر کبھی قوم ،رنگ اور نسل کے نام پر ۔ڈاکٹر عا ئشہ جلال کی کتاب the pity of partition میں اوران سے انٹرویو کے دوران ،میں پاکستان میں آج مذہبی انتہا پر ستی کے عروج کی وجہ پوچھتی رہی اور اسکے سوا کوئی جواب نہ ملا کہ دہشت گردی ایک منا فع بخش بزنس بن چکا ہے اور اسے اپنانے والے اسے چھوڑ کر اپنے لئے گھاٹے کا سودا نہیں کر سکتے ۔ مذہبی انتہا پسندی ایک نام ہے ، اصل میں یہ ملک کی ناکامی کی وہ داستان ہے جس میں عام آدمی کو نہ روٹی مل رہی نہ صحت نہ گھر نہ تعلیم ۔ جب حکومت بنیادی ضروتیں پوری کرنے سے قاصر ہے تو بے کاری میں جس کو جہاں کام مل رہا ہے وہ خود کشی سے بچنے کیلئے وہ کام کر رہا ہے ۔ معاشی تضاد جتنا زیادہ گہرا ہوتا جائیگا مذہبی جماعتیں اتنی ہی طاقتور ۔ اگر یہ آزادی امیروں کے حقوق کی حفاظت کیلئے لی گئی تھی پھر تو ٹھیک لیکن اگریہ غریب آدمی کے حقوق کیلئے لی گئی تھی تو یہ مفلوج،اپاہج اور نا مکمل ہے ۔ سوچا نہ گیا تو یہ اسی طرح خون آلود پڑی رہے گی ۔ اسے آکسیجن دینے کیلئے ہر پاکستانی کو تاریخ کے صفحات پڑھ کر اس سے مستقبل بدلنا ہوگا۔ منٹو کہتا تھا "دنیوی معاملات میں اپنا یا کسی کا جھکا ہوا سر دیکھتا ہوں تو خدا کی قسم بڑا دکھ ہوتا ہے۔ہمیں پیٹ کی خاطر بعض اوقات کسی الو کے پٹھے کی مدح سرائی بھی کرنا پڑتی ہے۔یہ انسا ن کا بہت بڑا المیہ ہے لیکن یہ المیہ ہی انسان کا دوسرا نام ہے ۔ہر باشعور اور خودارپاکستانی کو اس المیہ کیخلاف حالت ِ جنگ میں آجا نا چاہیئے ۔