پسینہ پونچھئے اپنی جبیں سے

14 نومبر 2013

شہید کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی کے متنازع بیان پر بحث جاری ہے۔ آئیے ہم فی الحال اس بات کو بھول جائیں کہ جماعتِ اسلامی نے قیام پاکستان کی مخالفت کی تھی اور اسے مولانا مودودی کی اجتہادی غلطی قرار دے کر خود کو مطمئن کرلیں۔ ہم اس بات سے بھی غِضّ بصر کریں کہ مبینہ طورپر جماعت بڑے پیمانے پر امریکی ڈالروں سے مستفیض ہوئی کیونکہ اُس وقت حکومتی پالیسی بھی روس کے مقابلے میں امریکہ کی حمایت اور طرف داری پر مبنی تھی اور حکومتی سطح پر بھی امریکی ڈالر سمیٹے جارہے تھے۔آئیے ہم وقتی طورپر یہ بھی فراموش کردیں کہ جماعت کی قیادت نے جمہوری حکمرانوں کے بجائے ہمیشہ ہی غیر جمہوری حکمرانوں کا ساتھ دیا اور اپنی سیاست چمکائی۔یہ صرف نظر صرف اس لئے کہ جماعت نے بہت سے اچھے کام بھی کئے مثلاً گشتی دوا خانوں کا قیام، جہاد کشمیر میں مثبت کردار، بھارت سے دوستی کی مخالفت، بے حیائی کے خلاف مہمات، زلزلوں اور سیلابوں میں امدادی سامان کی ترسیل اور مشرقی پاکستان میں دفاعِ وطن کے لئے مثبت کردار وغیرہ۔
تاہم قاضی حسین احمد کے بعد جماعت اسلامی اپنی نظریاتی جہت کھو چکی ہے اور عوام میں اسکا سیاسی گراف بہت تیزی سے نیچے جارہا ہے۔آج سے پہلے جماعت کا موقف تھا کہ ہمیں طالبان کے اغراض و مقاصد سے اتفاق لیکن ان کے طریقہ کار سے شدید اختلاف ہے۔جماعت کے موجودہ امیر نے اپنے ٹیلی ویژن انٹرویو میں جو کچھ کہا ہے اس کے مطابق اب طالبان سے طریقہ کار کا اختلاف بھی ختم ہوچکا ہے۔موصوف کے بیانات مکمل فکری انتشار کی تصویر ہیں۔سیاسی زعماء سے اگر انجانے میں کوئی بے احتیاطی ہو بھی جائے تو عموماً وہ اپنے بیانات کی کوئی قابل قبول شرح بیان کرکے دامن چھڑا لیتے ہیں لیکن موصوف اپنے بیان پر ثابت قدمی سے قائم ہیں جس کے بعد کسی غلط فہمی کی گنجائش نہیں رہتی کہ جماعت اسلامی طالبان کی جانب سے بے گناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کے قتل کو جائز سمجھتی ہے۔فوج، بحریہ اور فضائیہ کی تنصیبات پر امریکہ، بھارت، افغانستان اور اسرائیل کے فراہم کردہ ہتھیاروں کی مدد سے حملہ کرکے پاکستان کی دفاعی قوت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے اور بھارت کے مقابلے میں پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو کمزور بنانے کو درست قرار دیتی ہے۔جماعت اور طالبان( اب یہ دونوں ایک ہی سمجھے جاسکتے ہیں) مساجد، گرجا گھروں، دیگر عبادت گاہوں اور مقدس مقامات پر حملہ کرکے انہیں تباہ کرنے کے عمل سے متفق ہیں۔ جو شخص بھی ان کے نقطہ نظر سے اتفاق نہیں رکھتا اور اسکی تعبیر اسلام جماعت اور طالبان کی تعبیر سے مختلف ہے وہ ’’کافر اور واجب القتل‘‘ ہے۔
کیا کہنے اسلام کی اس نئی تعبیر کے۔اس طرح تو روئے زمین پر طالبان اور اُس کی ہم خیال جماعت اسلامی کے سوا کوئی شخص زندہ رہنے کا حق دار نہیں۔ آج ہی جماعت کے ایک سرکردہ راہنما سے اس موضوع پر بات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ بریگیڈئر صاحب! جس طرح آپ فوج میں رہتے ہوئے چیف آف آرمی سٹاف سے اختلاف نہیں کرسکتے اسی طرح ہم بھی اپنے امیرکی رائے سے اختلاف نہیں کرسکتے۔میں نے انہیں یاد دلایا کہ آرمی چیف تو فوج کا منتخب کردہ شخص نہیں ہوتا بلکہ حکومت وقت اُسے سنیارٹی، قابلیت اور اپنی سیاسی مصلحتوں کی بنا پر نامزد کرتی ہے۔فوج سے ازخود کوئی شخص مستعفی نہیں ہوسکتا بلکہ قانون کے تحت مدت ملازمت پوری کرنے کے بعد ہی سبکدوش ہوسکتا ہے۔ایسے ہی فوج کے دیگر قوانین بھی صرف فوج کے ادارے کیلئے مخصوص ہیں۔ اسکے برعکس آپ کا امیر منتخب نمائندہ ہوتا ہے۔اگر آپ کو اس کی رائے سے اتفاق نہیں تو پھر آپ بدستور اس جماعت میں کیوں شامل ہیں؟ اسی طرح اگر امیر جماعت کی پالیسی سے جماعت کے بیشتر راہنمائوں کو اتفاق نہیں تو اصولاً تو ایسے امیر کو خود ہی مستعفی ہوجاناچاہئے ورنہ جماعت کے آئین کے تحت ایسے امیر کو امارت سے معزول کردیناچاہئے ورنہ یہی سمجھاجائے گا کہ جماعت کے تمام ارکان اپنے امیر کے خیالات کی تائید کرتے ہیں ایسے خیالات کا حامل ہونا جماعت اسلامی کیلئے خودکش دھماکے کے مترادف ہے۔بہرحال موصوف بالکل بے دست و پا دکھائی دئیے لہٰذا مزید بحث کا رِ فضول تھا۔
 حکیم اللہ محسود کے سلسلے میں تمام اعدادو شمار قوم کے سامنے ہیں کہ وہ ہزاروں بے گناہ اور معصوم افراد کی شہادت کا ذمہ دار ہے اور ان تمام دھماکوں اور تخریب کاری کی وارداتوں کی ذمہ داری تحریک طالبان بھی قبول کرچکی ہے۔اللہ کی نظر میں کون شہید ہے اور کون نہیں یہ تو صرف اللہ ہی کو خبر ہے۔تاہم حدیث رسولؐ کے مطابق جو مسلمان بھی اپنی جان و مال اور آبروکی حفاظت کرتا ہوا ماراجائے وہ شہید ہے۔لہٰذا افواج پاکستان جو مملکت پاکستان کا دہشت گردوں اور انتہا پسندوں کی شورش کے خلاف دفاع کرتے ہوئے جان سے گذر جائیں وہ یقینا شہید ہی کہلائیں گے۔ سید منور حسن نے حکیم اللہ کی موت کو ’’ ماورائے عدالت قتل‘‘ قراردیا ہے۔ظاہر ہے کہ قوم و ملک کے باغی اور فسادی کو اگر پکڑ کر عدالت میں لانا ممکن نہ ہوتو پھر ایسے فسادی کو کسی بھی ممکنہ طریقے سے ماراجائیگا۔ کیا مولانا کی تعریف کی روشنی میں مملکت کے ہر باغی کی موت کو ماورائے عدالت قتل اور شہادت سمجھاجائے یا یہ اعزاز صرف حکیم اللہ محسود کیلئے مخصوص تھا ؟ ادھر تحریک طالبان نے منور کے بیان کا خیر مقدم کرتے ہوئے اپنی ملک دشمن کارروائیوں کو ’’شریعت‘‘ کیمطابق درست قرار دیا ہے۔
ان کا دعویٰ ہے کہ اس سلسلے میں اُن کے پاس پانچ سو علماء کا فتویٰ موجود ہے ہمیں باقی چار سو ننانوے علماء کی تو خبر نہیں لیکن ان میں ایک یقینا سید منور حسن ہوسکتے ہیں جنہوں نے طالبان کی ملک دشمن کارروائیوں کو درست قرار دیتے ہوئے حکیم اللہ محسود کو شہادت کے مرتبے پر فائز کردیا ہے۔آج ہی جماعت اسلامی کی جانب سے ایک مزید غیر متعلقہ بیان سامنے آیا کہ فوج کو حق حاصل نہیں کہ وہ براہ راست سیاسی اور جمہوری معاملات میں مداخلت کرے۔ یہ ردّعمل آئی ایس پی آر کے اس بیان پر ظاہر کیا گیا جو منور حسن کے بیان کے جو اب میں دیا گیا تھا۔اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ ہے کہ جماعت اسلامی نے ہر فوجی ڈکٹیٹر کی حمایت کی اور ان گنت سیاسی اور مالی فوائد حاصل کئے۔ اب یکا یک ان کے پیٹ میں جمہوریت کا مروڑ کیوں اٹھا ہے؟ جب آپ فوج کے شہیدوں کوقاتل قرار دیں گے اور آئین و قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے دہشتگردوں کارروائیوں کو درست قرار دیں گے تو فو ج کا ادراہ احتجاج تو کرے گا۔ افواج پاکستان پر منفی تنقید ان کے حوصلوں کو پست کرنیوالے بیانات کونسی سیاست اور جمہوریت میں جائز ہیں؟ بہتر ہوگا غلیظ سیاست کو سیاسی معاملات تک ہی محدود رکھیں اور فوج کے ادارے کو ان معاملات میں گھسیٹنے سے گریز کریں تاکہ آپ ناپسندیدہ ردعمل سے محفوظ رہ سکیں۔ ایک مزید بات جو جماعت اسلامی کے زعماء کو شاید معلوم نہیں کہ افواج پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنا،ان کے خلاف رائے عامہ پر اثر انداز ہونا اور افواج کا حوصلہ پست کرنے والے تمام بیانات اور اقدامات ملکی قوانین کے مطابق غداری کے زمرے میں آتے ہیں جس کی سنگین سزا تعزیرات پاکستان میں ہمیشہ سے موجو دہے۔مسلح افواج نے تو بہت ہی نرمی سے کام لیا ہے ورنہ وہ متعلقہ افراد کو عدالت میں گھسیٹ سکتی ہے اور قانون کے تحت ان سے خود بھی تفتیش کرسکتی ہے۔اگر شک و شبہ ہوتو کسی بھی قانون دان سے مشاورت کر دیکھئے۔اس ردّ عمل کو سیاسی مداخلت قرار دینا ’’ ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ‘‘ والی دلیل کے مترادف ہے ۔جہاں منور حسن کی منطق کے مطابق پاک فوج کو طالبان سے لڑ کر ’’ حرام موت‘‘ نہیں مرناچاہئے بلکہ اس قوم اور ملک کو ان انتہا پسند دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑدیناچاہئے تاکہ وہ جی بھر کر ان کے خون سے ہولی کھیلیں اور پھربنوک بندوق اپنی مرضی کی شریعت نافذ کریں۔ غالباً آپ یہی چاہتے ہیں۔ طالبان کے نئے امیر فضل اللہ نے باقاعدہ اعلان کر رکھا ہے کہ وہ حکیم اللہ محسود کی موت کا بدلہ فوجی اور سیاسی قائدین کو قتل کرکے لیں گے۔اب آپ نے تو پہلے ہی فیصلہ کردیا ہے کہ طالبان کے خلاف لڑنے والے افراد شہید قرار نہیں دئیے جاسکتے۔گویا آپ نے فوجی اور سیاسی قائدین سے ’’ خود حفاظتی جنگ‘‘ کا اختیار بھی چھین لیا ہے۔ وہ (خدانخواستہ) جب بھی طالبان کے ہاتھوں مارے جائیں گے ’’حرام موت ‘‘ ہی مریں گے اور طالبان کا ہر مرنے والا کارندہ آپ کے بقول ’’ شہید‘‘ سمجھاجائے گا۔ بایں عقل و دانش بباید گریست۔
 جہاں تک ڈرون حملوں کا تعلق ہے تو اُس سلسلے میں پاکستان کا موقف اصولی ہے کہ ڈرون حملے پاکستان کی فضائی حدود اور حاکمیت اعلیٰ کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔تاہم اس سے یہ کیسے ثابت ہوتا ہے کہ ڈرون حملے میں مارا جانے والا دہشت گرد جنونی، ملکی دفاع کو کمزور کرنے،ملکی معیشت پر ناقابل برداشت بوجھ ڈالنے اور پاکستان دشمن قوتوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والا شخص اچانک شہادت کے رتبے پر فائز ہوجائے ؟ کیا ڈرون حملے اتنے ہی بابرکت ہیں کہ ہزاروں بے گناہ افراد کے خون سے ہاتھ رنگنے والا مجرم جونہی ڈرون حملے میں ماراجائے تو اس کے تمام گناہ معاف ہوجائیں اور وہ شہید قرار پائے ؟ آپ کے پیش رو نے تو طالبان کی جانب سے پاکستان میں کی جانے والی دہشت گردی کی تمام کارروائیوں کو حرام قرار دیتے ہوئے ان کی سخت مذمت کی تھی۔اب پتا نہیں کہ ان کا فتویٰ درست تھا یا آپ کی رائے صائب ہے؟ اس کا فیصلہ تو جماعت اسلامی کے قائدین ہی کرسکتے ہیں۔
 یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ 1917؁ء میں روس میں آنے والے کمیونسٹ انقلاب کا خاتمہ لینن اور سٹالن ہی کے ایک جانشین گوربا چوف کے ہاتھوں1980؁ء کے عشرے میں ہوا۔جماعت اسلامی کی سیاست کے خاتمے کی ابتدا مولانا مودودیؒ ہی کے ایک جانشین سید منور حسن کی ’’گلاسناسٹ اور پراسٹرائیکا‘‘ کے بیانات اور خیالات نے کردی ہے۔اگر جماعت اسلامی اس خودکش حملے سے جانبر ہوبھی گئی تو اُس کے جسد پر لگنے والے زخم بھرنے میں کئی عشرے لگیں گے۔ماضی میں دائیں بازو کی تمام جماعتیں ملکی دفاع کے ضمن میں پاک فوج کے شانہ بشانہ پائی گئی ہیں۔آج دشمن ممالک میں یقینا خوشی کے شادیانے بجائے جارہے ہوں گے۔جماعت اسلامی خود ہی دفاع وطن سے لا تعلق ہوکر صفِ دشمناں میں شامل ہوگئی ہے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔