سگریٹ کی سیل میں ملکی خزانے کو سالانہ ساڑھے 5 ارب روپے کا نقصان

رانا فرحان اسلم 
ranafarhan.reporter@gmail.com  

 تمباکوکا استعمال دنیا بھر میں بے پناہ مسائل کے جنم کا باعث ہے تمباکو اور اس سے متعلق دیگر  نشہ آور اشیاء کا استعمال ہر دور میں ہر عمراور جنس کے افراد کیلئے صحت اور طبی مسائل کیساتھ ساتھ اخلاقی اور معاشرتی مسائل کا باعث بھی رہا ہے۔ اسکی روک تھام اور ممانعت کیلئے ریاستوں کی سطح پر قوانین اور ان پر عملدرآمد کیلئے اقدامات بھی کئے جاتے ہیں لیکن اسکے باوجود مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے۔ عمر کی حد مقرر کرنے آگاہی پیغامات اور نگرانی کے باوجود بھی معاملات کنٹرول میں نہیںآ رہے کم عمر افراد کیجانب سے تمباکوکا استعمال اورغیر قانونی طو پر تمباکو کی ترسیل اور فروخت دونوں معاملات انتہائی سنجیدہ اور حساس ہیں اس پر پاکستان کے اندر بھی بے پناہ کام ہو رہا ہے وقتا فوقتا کاروائیاں بھی عمل میں آتی رہتی ہیں پاکستان ٹوبیکو کمپنی (پی ٹی سی)کیجانب سے ایک بریفنگ کے دوران نا مناسب مالی اصلاحات اور ملک بھر میں بڑھتی ہوئی غیر قانونی تجارت کی وجہ سے کاروبار کی پائیداری پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیاہے۔ ادارہ برائے شماریات کی جانب سے حال ہی میں جاری کیے جانے والے ڈیٹا لارج سکیل مینوفیکچرنگ انڈیکس میں قانونی تمباکو سیکٹر میں نہایت اہم اور تشویشناک رجحانات کی نشاندہی کی ہے تازہ ترین اعدادو شمارکے مطابق قانونی سیکٹر کی پیداوار جولائی2023سے نومبر2023کے دوران مجموعی لارج سکیل مینوفیکچرنگ آؤٹ پٹ کے مقابلے میں کمی ہوئی ہے تاہم سگریٹ کی عمومی کھپت برقرار ہے ۔یہ رجحان ان پالیسی فیصلوں کی نشاندہی کرتا ہے جس نے قانونی تمباکو سیکٹر کو شدید متاثر کیا ہے طویل مدتی پائیداری کیلئے ایک جامع اور متوازن سوچ کی ضرورت ہے تاکہ قانونی تمباکو سیکٹر کو کاروبار کا سازگار ماحول دستیاب ہو سکے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کے باوجودمعروف برانڈز کی جعلی سگریٹوں کی ڈبیوں پر جعلی سٹیمپوں کا چھپا ہونا بھی حیران کن امر ہے جس پر پی ٹی سی کے نمائندگان نے توجہ دلائی پی ٹی سی کے سینئر بزنس ڈویلپمنٹ منیجر قاصم طارق نے کہا کہ ملک کے بڑے شہروں بشمول کراچی، لاہور، اسلام آباد اور راولپنڈی میں اس وقت 850ملین جعلی سگریٹ فروخت ہو رہے ہیں جو 42.5ملین سے زائد ڈبیاں بنتی ہیں ان ڈبیوں پر جعلی ٹیکس سٹیمپیں لگی ہوئی ہیںجسکے نتیجے میںملکی خزانے کو سالانہ 5.7ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے ملک بھر میں جعلی سگریٹ کے بڑھتے کاروبار نے اس ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کی افادیت پر سوالات کو جنم دیا ہے جس کا اطلاق پاکستان اور آزاد جموں وکشمیر کے مقامی سگریٹ سازوں پر ابھی ہونا باقی ہے پی ٹی سی کے نمائندگان نے قانون نافذ کرنے والے با اختیار اداروں پر زور دیا کہ اس اہم مسئلے سے نمٹنے کیلئے پرچون کی سطح پر قانون کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے پاکستان میں ٹیکس سٹیمپ کے بغیر 165سگریٹ برانڈز فروخت ہونے کا انکشاف ہوا ہے جبکہ رواں مالی سال کے اختتام تک غیر قانونی سگریٹ تجارت کا حجم 56فیصد تک پہنچنے کا خدشہ ہے اس بات کا انکشاف اپسوس پاکستان نے پاکستان سگریٹ مارکیٹ اسیسمنٹ 2024کے عنوان سے ریسرچ رپورٹ میں کیاہے اس تحقیقاتی ریسرچ کیلئے بین الاقوامی مروجہ طریقہ کار کے تحت نمایاں شہری و دیہی علاقوں میں ایک ہزار سے زائد دوکانوں کا سروے کیاگیاریسرچ رپورٹ میں مارکیٹ کے خدو خال میں نمایاں تبدیلی کا جائزہ پیش کیا گیا، ساتھ ہی یہ بھی بتایا گیا کہ قانونی سگریٹ برانڈز کے حجم میں غیر معمولی کمی اور غیر قانونی سگریٹوں کی موجودگی میں حیران کن اضافہ سمیت ایسے تمام عوامل نہ صرف قومی خزانے پر شدید اثر انداز ہو رہے ہیں بلکہ ان سے قانونی کاروباروں کے استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ریسرچ رپورٹ کے مطابق کم قیمت کے غیر ڈیوٹی ادا شدہ اور سمگل سگریٹوں کی ملک بھر میں با آسانی دستیابی، ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم پر عمل درآمد نہ ہونا، حکومت کی مقرر کردہ حد سے کم قیمت پر سگریٹوں کی فروخت، سگریٹ کی قیمتوں میں عدم توازن اور ایسے متعددمتعلقہ مسائل کی وجہ سے ٹیکس ادا کرنے والی قانونی سگریٹ انڈسٹری کے مارکیٹ شیئر میں کمی ہوتی جا رہی ہے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو سالانہ تین سو ارب روپے سے زائد کا نقصان ہو رہا ہے اپسوس نے ان علاقوں کے سروے کے دوران وہاں پرغیر ڈیوٹی ادا شدہ اور سمگل سگریٹوں کی دستیابی، ان کی قیمتوں اور ان کے حجم کا جائزہ لیا ساتھ ہی ان علاقوں میں ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم اور کم از کم مقررہ قیمت پر فروخت کے قانون کی تعمیل، دستیاب سگریٹوں کی قیمتوں میں عدم تواز ن اور مارکیٹوں میں ایک نئے رجحان کا بھی احاطہ کیااس وقت 37نئے سگریٹ برانڈز کے اضافے سے بغیر ٹیکس سٹیمپ کے برانڈز کی مجموعی تعداد 165ہو گئی ہے اور سال بہ سال 6برانڈز ٹریک اینڈ ٹریس لسٹ میں شامل کیے جا چکے ہیں تاہم متعدد ایسے واقعات مشاہدے میں آئے ہیں کہ وہی برانڈز بغیر سٹیمپ کے بھی مارکیٹوں میں فروخت کیلئے دستیاب ہیںزمینی حقائق کی وجہ سے ٹریک اینڈ ٹریس نظام ابھی تک مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے اس وقت 104سگریٹ برانڈز حکومت کی جانب سے مقرر کردہ کم از کم قیمت سے بھی کم پر مارکیٹوں میں دستیاب ہیں جبکہ45سمگل شدہ سگریٹ برانڈز ایسے ہیں جو اس مقررہ قیمت سے زائد پر فروخت ہو رہے ہیں ملک بھر میں مقررہ قیمتوں سے کم پر فروخت ہونے والے سگریٹ برانڈز کا مجموعی حجم 53فیصد بنتا ہے مارکیٹ میں دستیاب سگریٹوں کی قیمتوں میں عدم تواز ن کا جائزہ پیش کرتے ہوئے تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایک معروف برانڈ جو مقامی طور پر تیارکیا جاتا ہے اور جس پر حکومت کو ٹیکس بھی ادا نہیں کیا جاتا اس کا سگریٹ پیک مارکیٹوں میں 120روپے پر باآسانی دستیاب ہے جبکہ ایک اور سمگل شدہ مشہور برانڈ کا سگریٹ پیک 165روپے پر دستیاب ہے اس کے مقابلے پر معروف برانڈز جن پر حکومت پاکستان کو تمام ڈیوٹیز اور ٹیکس ادا کیے جاتے ہیں وہ 220اور550روپے سے بھی زائد قیمت پر دستیاب ہیںتحقیقات سے یہ بھی معلوم ہوا کہ سگریٹ مارکیٹ کا 95فیصد ایسے سگریٹوں پرمشتمل ہے جن کی قیمت 65روپے سے220روپے فی پیکٹ کے درمیان ہیںمقامی سطح پر تیار ہونے والے متعدد برانڈز جن پر ٹیکس ادا نہیں کیا جاتا وہ 25اور30سگریٹوں کی پیکنگ میں بھی با آسانی دستیاب ہیں اس سے نہ صرف دوکانوں پر کھلے سگریٹوں کی فروخت کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے بلکہ 20سگریٹوں کے پیک کے مقابلے میں پرچون فروشوں کو زیادہ منافع حاصل ہو رہا ہے مارکیٹ کے رجحانات کا جائزہ لیتے ہوئے اپسوس کا اپنی تحقیقاتی سٹڈی میں کہنا تھا کہ اگر موجودہ رجحانات برقرار رہے تو مستقبل میں بھی مقامی غیر ٹیکس ادا شدہ سگریٹ تیار کنندگان اور سمگلروں کا مارکیٹوں پر قبضہ برقرار رہے گا جبکہ ایسی سگریٹ ساز کمپنیاں جو باقاعدگی سے ڈیوٹی اور ٹیکسز ادا کرتی ہیں،انکے مارکیٹ شیئر میں مزید کمی واقع ہو گی اور یہ شیئر غیر قانونی سگریٹ سیکٹر کو منتقل ہو جائے گا۔

ای پیپر دی نیشن