بہتر ہے اُگل دیں جناب، اُگل دیں

14 مارچ 2011
وفاقی حکمرانوں پر آج کل ملکی اور قومی مفاد کی خاطر غیر مقبول فیصلے کرنے کی دُھن سوار ہے۔ فیصلے تو بلاشبہ غیر مقبول کئے جا رہے ہیں مگر ان سے ملکی اور قومی مفاد کا کون سا تقاضہ پورا ہوتا ہے؟ میں نے وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کے عشائیہ میں اس کا کھوج لگانے کی کوشش کی۔ وہ فلسفہ پیش کئے جا رہی تھیں کہ کسی سیاسی حکومت کے لئے ایسے فیصلے کرنا بہت مشکل ہوتا ہے جن کی بنیاد پر اس کی عوام میں مقبولیت کم یا ختم ہو سکتی ہو چنانچہ سیاسی حکومتیں بالعموم اپنی سیاسی دکانداری کی خاطر اور بالخصوص اگلے انتخابات کی منزل قریب آنے پر ووٹروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے اور ان کی ہمدردیاں حاصل کرنے کی خاطر دلفریب نعرے لگاتی ہیں اور ایسے فیصلے کرنے سے بھی گریز نہیں کرتیں جن سے ملک اور عوام کا مستقبل اور مقدر سنورنے کی بجائے مزید خراب ہو جاتا ہے مگر ہم ملکی و قومی مفاد کے منافی مقبول فیصلے کرنے پر ملکی و قومی مفاد کی خاطر غیر مقبول فیصلے کرنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔
ایسے غیر مقبول فیصلے کی مثال وہ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے کی دے رہی تھیں اور ایسے ہی غیر مقبول فیصلے کے طور پر ریفارمڈ جی ایس ٹی کو لاگو کرنے کی مجبوری بھی بتائے اور جتائے جا رہی تھیں۔ یعنی عوام کچھ بھی کر لیں۔ احتجاج کے کسی بھی راستے پر نکل جائیں۔ چیخ و پکار کا کوئی بھی بہانہ بنا لیں اور اپوزیشن ان کی اس چیخ و پکار پر چاہے جتنی مرضی سیاست کر لے۔ پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں واپس لیا گیا اضافہ بحال کرنا اور ہر حال میں آر جی ایس ٹی نافذ کرنا حکومت کی مجبوری بن چکا ہے جس سے خلاصی حاصل کی جا سکتی ہے نہ اپنی مقبولیت کی خاطر راہِ فرار۔ انہیں ایسے غیر مقبول فیصلوں کی خاطر تمام سیاسی جماعتوں کے مابین ایک ایسا میثاق جمہوریت کرنے کا راستہ بھی سجھانا پڑا جو قومی اقتصادی اور مالی پالیسیوں کے حوالے سے ہر دور حکومت میں لاگو اور قائم و برقرار رہے۔
یقیناً ملک کی اقتصادیات اور قومی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے جسے تباہی سے بچانے کے لئے عوام سے قربانی اور مزید قربانی دینے کا تقاضہ کیا جا رہا ہے تو تھوڑا سا حکمران طبقات کو بھی اپنی وزنی تجوریوں کا بوجھ کم کر لینا چاہئے۔ غیر مقبول فیصلوں کا اطلاق کیا پسے ہوئے عام طبقات پر ہی کرنا ضروری ہے جو پہلے ہی حکمرانوں کے فائدے والے غیر مقبول فیصلوں کی مار کھاتے ادھ موئے کئے جا چکے ہیں اور اب زندہ درگور ہونے کو ہیں۔
چلیں مان لیا۔ آپ قومی معیشت کو ڈوبنے سے بچانے اور اپنے پاﺅں پر کھڑا کرنے کے لئے براہ راست عوام پر پڑنے والے ٹیکسوں میں اضافے اور پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کو آسمان تک پہنچانے کے غیر مقبول فیصلے کرنا اپنی مجبوری بنائے ہوئے ہیں مگر عدلیہ کے ساتھ دوبارہ چھیڑ چھاڑ کا آغاز کرنا، اس کی آئینی اور قانونی اتھارٹی کو چیلنج کرنا، اس کے احکام کی تعمیل سے رعونت کے ساتھ انکار کرنا اور پھر نافرمانی (توہین عدالت) کو پرتشدد ہنگاموں اور اسمبلی کی مذمتی قرارداد کے ذریعے انتہاتک لے جانا بھی ملکی اور قومی مفاد پر مبنی کسی غیر مقبول فیصلے کے کھاتے میں ڈالا جا سکتا ہے۔ میرا محترمہ وزیر اطلاعات سے یہی استفسار تھا کہ اس اقدام کو وہ حکومت کے مقبول فیصلے میں شمار کریں گی یا غیر مقبول فیصلے کے کھاتے میں ڈالیں گی اور اگر یہ ان کی دانست میں پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافے جیسا ہی غیر مقبول فیصلہ ہے تو اس میں ملک اور قوم کا کون سا مفاد وابستہ ہے؟
محترمہ نے کمال بے نیازی سے اس اقدام کو حکومتی فیصلہ ماننے سے ہی انکار کر دیا جن کے بقول یہ تو عوام بشمول وکلاءاور سول سوسائٹی کا فطری ردعمل ہے۔ گویا ڈاکٹر بابر اعوان کی بابری بڑھکیں حکومتی وسائل سے بالا بالا اپنے تخریبی اثرات مرتب کر رہی ہیں اور سندھ اسمبلی کی قرارداد میں تو حکومتی بنچوں کا سرے سے کوئی عمل دخل ہی نہیں ہو گا۔ اگر حکمران پیپلز پارٹی عدلیہ کے ساتھ ٹکراﺅ کے اقدام کو اپنی عوامی مقبولیت کو پرکھنے کا پیمانہ بنانا چاہتی ہے تو ایسے مقبول فیصلوں کا نتیجہ کیا ہم پہلے منتخب حکومتوں کا پٹڑا ہونے کی صورت میں بھگت نہیں چکے؟ ایسے اقدامات اور فیصلوں سے سسٹم ٹریک سے اترتا ہے اور اس کے نتیجے میں ملک میں عدم استحکام، انارکی اور ماورائے آئین ہتھوڑا اقدامات کی ہلا شیری ملتی ہے تو آپ کی مقبولیت کس کام آئے گی اور کس کھاتے میں جائے گی؟ یہی وہ حکومتی اقدامات ہیں جو غیر مقبول بھی ہیں اور ملک و قوم کے مفادات کے منافی بھی۔ پھر حضور والا، آپ کو بیٹھے بٹھائے کیا سوجھنے لگتی ہے کہ جس درخت کی شاخ پر بیٹھے خود کو محفوظ سمجھ رہے ہوں، اسی کو کاٹنا شروع کر دیا جائے۔ آپ ذرا تصور کیجئے، عوام کے اقتصادی اور روٹی روزگار کے مسائل بڑھانے والی غیر مقبولیت بھی آپ کے کھاتے میں ہے اور آئینی اداروں کے ساتھ ٹکراﺅ کے نتیجہ میں پیدا ہونے والا سیاسی عدم استحکام بھی آپ کی غیر مقبولیت کو بڑھاوا دے رہا ہے اور آپ اس فضا میں اگلے انتخابات میں جانے کا سوچ رہے ہیں۔ پھر یہ غیر مقبولیت کے سارے عفریت اکٹھے ہو کر آپ کا دھماکہ نہیں کر دیں گے؟ اس لئے اب بھی وقت ہے۔ غیر مقبولیت والے کسی اگلے عفریت کو منہ کھولنے کی دعوت دینے سے پہلے چھان پھٹک لیں۔ کون سا مقبول اقدام ملک و قوم کے مفاد میں بھی بہتر ہو سکتا ہے اور کون سے غیر مقبول اقدام کا حکومت کو ہی نہیں، پورے سسٹم اور ملک کو بھی سخت نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ آپ پہلے اپنی پارٹی کے اندر تو کوئی ایسا تھنک ٹینک بنا لیں جو آپ کے مقبول اور غیر مقبول فیصلوں میں سے ملکی اور قومی مفاد کو کشید کر کے آپ کو سیدھی راہ پر ڈال سکے۔ ورنہ آپ اپنے فیصلوں اور اقدامات کی مقبولیت اور عدم مقبولیت میں پھنس کر رہ جائیں گے۔ نِگلنے کی ڈھٹائی سے کیا بہتر نہیں کہ اگلنے کی ابکائی سے اپنا اندر صاف کر لیا جائے۔ اور یہ یاد رکھیں کہ آپ نگلنا چاہیں گے تو کوئی آپ کو نگلنے نہیں دےگا۔ اس لئے حضور والا، اگل دیں، بس اگل دیں، اس سے کم از کم اپھارا تو کم ہوجائیگا۔
٭٭٭