وزیراطلاعات سے ملاقات

14 مارچ 2011
وفاقی وزیر اطلاعات کے طور پر شاید پہلی بار ڈاکٹر فردوش عاشق اعوان لاہور آئیں تو کئی اخبارات کے دفاتر میں گئیں۔ نوائے وقت کے چیف ایڈیٹر مجاہد صحافت مجید نظامی ڈی ایم ڈی اور نوائے وقت کی مینجنگ ایڈیٹر محترمہ رمیزہ نظامی سے ان کے گھر جا کے ملاقات کی۔ باہمی دلچسپی کے امور پر بات ہوئی۔ رمیزہ نظامی سے مل کے وہ بہت خوش ہوئیں کہ وہ مجید نظامی کی رہنمائی میں وقت ٹی وی اور نوائے وقت کے لئے پوری لگن اور مہارت سے کام کر رہی ہیں۔ ملاقات میں پی آئی ڈی کے اعجاز احمد بھی موجود تھے۔ سینئر صحافیوں سے یہ رابطے برقرار رہےں تو اچھا ہے۔ ورنہ صرف پریس کانفرنس کرنے سے روٹین کا کام تو چلتا رہے گا مگر اس کے مثبت نتائج نہیں نکلیں گے۔ ایک ملاقات کالم نگاروں سے ہوئی۔ وہاں سیاست پر بھی کچھ بات ہوئی جیسے وطن کی بات ہوتی ہے۔ دل کی باتیں بھی ہوئیں۔ کچھ دوستوں نے ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان کی غیر روایتی دردمندانہ باتوں کے بعد اس ذاتی سی محفل کو پریس کانفرنس بنانے کی کوشش کی۔ صحافیانہ سوالوں کے جواب دے کے بھی ڈاکٹر صاحبہ نے محفل کے دوستانہ پن کو ٹوٹنے نہ دیا۔ ایک بات امجد اسلام امجد نے کی۔ جو غیر سیاسی تھی۔ اس میں پی ٹی وی سے اس کی وابستگی کی خوشبو آ رہی تھی۔ میں امجد کے پاس بیٹھا تھا۔ پی ٹی وی سے میرا رابطہ بھی ہے۔ ہمارے خیال میں ٹیلی ویژن صرف ایک ہی ہے اور وہ پی ٹی وی ہے۔ باقی سب ٹی وی چینلز ہیں۔ محنت اور محبت سے لوگوں نے یہاں کام کیا کہ اسے کاروبار عشق بنا دیا۔ کاروبار زیست بھی یہی تھا۔ اب یہ کام ایک ناکام سرگرمی ہے اور صرف کاروبار ہے۔ اب یہ عظیم ادارہ ایک ہمہ گیر زوال کا شکار ہے۔ آسانی سے نظر نہ آنے والی ویرانی اس کی گہری حیرانی کو کھائے جا رہی ہے۔ پروگرامنگ کی طرف عدم توجہی اور غفلت شعاری نے لوگوں کو مایوس کیا ہے۔ پی ٹی وی کا ڈرامہ پورے برصغیر میں ایک بھرپور محبوبیت حاصل کر چکا تھا۔ اب یہاں نالائق لوگوں کا میلہ لگا ہوا ہے۔ پہلے لوگ محض اہل ہی نہ تھے بلکہ اہل دل بھی تھے۔ لوگوں کے سوالوں سے جو ماحول بنا تھا تو یہ بھی سیاسی دائرے میں پھنس گیا ڈاکٹر صاحبہ نے کہا کہ سب کچھ آہستہ آہستہ ہو گا۔ کئی لوگ جونکوں کی طرح پی ٹی وی سے چمٹے ہوئے ہیں۔ ان کے اس جملے میں پوری بات آ گئی ہے۔ اکثریت لوگوں کی ایسی ہے جو ذوق و شوق کی بنیادی خوبی سے بھی عاری ہے۔ ڈاکٹر صاحبہ نے یہ تو ٹھیک کہا کہ اب پی ٹی وی پر حکومت کا سایہ آسیب کی طرح چھایا ہوا نہیں ہے۔ حکومت پر تنقید بھی ہوتی ہے اور اپوزیشن کا موقف بھی بیان ہوتا ہے۔ ہر طرح کے لوگوں کو بلایا جاتا ہے۔ فرخ سہیل گوئندی، خوشنود علی خان اور اعظم خلیل حالات حاضرہ کے اینکر مین ہیں۔ ان کے ساتھ گفتگو میں کسی طرح ہچکچاہٹ نہ تھی۔ سینئر پروڈیوسر افتخار مجاز پوری طرح سمجھتا ہے کہ یہ حکومت کا ترجمان ٹیلی ویژن ہے مگر دل کی ترجمانی کسی بات کو زیادہ موثر بنا دیتی ہے۔ امید ہے کہ اب دوسرے ٹی وی چینلز کے مقابلے میں پی ٹی وی کو آزادی اور جمہوریت کے ثمرات سے فیض یاب ہونے کا موقع ملے گا۔ بڑے کھلے کھلے انداز میں ڈاکٹر صاحبہ نے باتیں کیں۔ ان کے لئے یہ بات معروف ہے کہ وہ کبھی کبھی اگریسو بھی ہو جاتی ہیں جو حالات سیاسی طور پر درپیش ہیں۔ اس میں شدت تو آ گئی ہے۔ نئے منصب پر دبنگ خاتون کی گفتگو میں ٹھہراﺅ تھا۔ یہ سنبھلی ہوئی کیفیت باقی رہی تو اچھا ماحول پیدا ہو گا۔ انہوں نے اپنے لئے ویمن ایکٹوسٹ کا لفظ استعمال کیا۔ لاہور میں دس بارہ سال گزارنے کے بعد سیالکوٹ میں مشکل تو پیش آئی مگر وہ ایڈجسٹ ہو گئیں۔ انہوں نے کمپلیکس فری لہجے میں کہا کہ میں کسی جرنیل کی بیٹی نہیں نہ کسی جاگیردار اور نامور سیاستدانوں کی بیٹی ہوں۔ مجھے اپنے وطن اپنی زمین کی بیٹی ہونے پر فخر ہے۔ میرے لوگوں کی محبت میری طاقت ہے۔ اپنے حلقے میں فلاحی کاموں کے لئے وہ ہر دلعزیز ہیں خواتین کے لئے کھل کر اور ڈٹ کر کام کیا۔ جدید خاتون میں دیہاتی پن پوری طرح موجود ہے۔ وہ مکمل دیسی عورت ہے۔ کالم نگاروں نے ان کے ساتھ ملاقات میں آسودگی محسوس کی۔ امید ہے کہ وہ روایتی وزیر اطلاعات نہیں بن جائیں گی۔ انہوں نے 87 ہزار ووٹ لے کے ایک معروف سیاست دان سابق سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین کو شکست دی۔ مجھے اس پر غصہ بھی ہے کہ اس نے جاوید ہاشمی کو جیل سے قومی اسمبلی میں شرکت کے آئینی حق کے لئے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں کئے تھے جب کہ وزیراعظم گیلانی نے سپیکر قومی اسمبلی کے طور پر شیخ رشید کے لئے قومی اسمبلی میں شرکت کے پروڈکشن آرڈر جاری کر دیئے تھے۔ گیلانی صاحب دھیمے مزاج کے آدمی ہیں مگر ایک نظر نہ آنے والی ثابت قدمی بھی ان میں ہے۔ انہیں بھی اپنی مینجمنٹ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے برملا کہا کہ مجھ سے بہتر لوگ پارٹی میں ہیں مگر مجھ پہ اعتماد کیا گیا ہے۔ ہر آدمی سے اللہ نے کوئی کام لینا ہوتا ہے۔ میں کوشش کروں گی کہ یہ گاڑی آسانی اور روانی سے چلے۔ میڈیا اور سیاست دان جس کے دو پہیئے ہیں۔ ڈرائیور کی نیت ٹھیک ہے تو گاڑی چلے گی ورنہ اس گاڑی میں ایک پہیہ پجیرو کا اور دوسرا رکشے کا ہو تو پھر گاڑی کس طرح چلے گی۔ یہ منظر پاکستان کے صحافیوں نے بہت دیکھ رکھا ہے۔ یہ تو ٹھیک ہے کہ آج چیلنج بہت مختلف ہیں۔ پیپلز پارٹی کی حکومت نے تنقید بھی برداشت کی ہے جس کا رواج یہاں کے حکمرانوں میں نہیں ہوتا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا کہ سندھ میں جو کچھ ہوا ہے جس طرح ہو رہا ہے۔ نہیں ہونا چاہئے تھا۔ اس میں براہ راست ہمارا کوئی دخل نہیں، مگر سندھ میں پاکستان کھپے کے نعرے کو بھی مذاق بنا دیا گیا ہے۔ کالم نگار ہماری رہنمائی کریں۔ میرے جیسے کئی ڈاکٹر اپنی تنخواہیں بڑھانے کے لئے ہڑتالیں کر رہے ہیں ان کے ساتھ کسی کیمپ میں بیٹھی ہوتی۔ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں آپ کے ساتھ بیٹھی ہوں۔ آصف ہاشمی، تیمور عظمت عثمان، سلیم بیگ، اعجاز احمد اور محترمہ ناظمہ بھی ڈاکٹر صاحب کے ساتھ تھے۔