پاکستان کو زمبابوے کے خلاف آل آﺅٹ جانا ہوگا

14 مارچ 2011
سرفراز نواز
نیوزی لینڈ کے ہاتھوں شکست کھانے کے بعد پاکستان ٹیم آج زمبابوے کے مد مقابل ہوگی، قومی ٹیم کو اس میچ میں جیت کے لیے آل آوٹ جانا ہوگا اور ایک بہترین کمبی نیشن تیار کر کے میدان میں اترنا ہوگا۔ چار میچوں میں اوپنرز نے اچھا کھیل پیش نہیں کیا لہذا اس میں تبدیلی کر کے احمد شہزاد کا نیچے کر دینا چاہیے۔ اس جگہ پر تیز کھیلنے والے عبدالرزاق یا کامران اکمل میں سے کسی ایک کو موقع دیا جانا چاہیے۔ پاکستان ٹیم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس میچ میں بڑے مارجن سے کامیابی حاصل کرئے تاکہ اس کا رن ریٹ بہتر ہو۔ پاکستان ٹیم کو اس میچ میں تین ریگولر فاسٹ باولرز کے ساتھ میدان میں اترنا ہوگا۔ شعیب اختر، عمر گل کے ساتھ لیفٹ آرام وہاب ریاض کو شامل کیا جائے۔ عبدالرزاق کی باولنگ ایسی نہیں کہ اس کو ریگولر باولر کے طور پر استعمال کیا جا سکے۔ پاکستان کے پاس ایک لمبی بیٹنگ لائن موجود ہے جس میں نمبر آٹھ کی پوزیشن تک ایسے کھلاڑی ہیں جو کسی بھی وقت میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔ یونس خان اور مصباح الحق نیوزی لینڈ کے خلاف میچ میں اچھا کھیل نہیں کھیل سکے تھے امید ہے کہ آج کے میچ میں دونوں کھلاڑی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹیم کو بڑا ٹوٹل فراہم کرنے میں کامیاب ہونگے۔ میچ میں ٹاس بڑی اہمیت کا حامل ہوگا کیونکہ پاکستان ٹیم کو اپنا رن ریٹ بہتر کرنے کے لیے بڑا ٹوٹل بورڈ پر آویزاں کرنا ہوگا۔ عمر اکمل کی فٹنس سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے ان کی جگہ اسد شفیق کو کھلایا جائے گا اس کے لیے بہترین موقع ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا جوہر دکھائے اور ٹیم کی بیٹنگ لائن کو مضبوط کرئے۔ پاکستان ٹیم اگر پول میں تیسری یا چوتھی پوزیشن حاصل کرتی ہے تو اسے مخالف گروپ کی سخت ٹیم سے مقابلہ کرنا پڑے گا۔ گذشتہ روز دو میچ کھیلے گئے جس میں نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی ٹیموں نے اپنے رن ریٹ کو بہتر کر لیا ہے۔ تاہم حیرانگی اس بات پر ہے کہ کینیڈا کی ٹیم نے ٹاس جیت کر نیوزی لینڈ کو پہلے کھیلنے کا موقع کیوں دیا۔ نیوزی لینڈ نے اس فیصلے کا بہترین استعمال کیا اور ساڑھے تین سو سے زائد رنز بنا ڈالے اتنے بڑے سکور کے جواب میں ممکن نہیں تھا کہ کینیڈا اس ٹارگٹ کو حاصل کر سکے گی۔ دوسرے میچ میں آسٹریلیا نے کینیا کے خلاف سوا تین سو رنز بنائے جواب میں کینیا نے آسٹریلیا کی مضبوط باولنگ لائن کے سامنے ڈھائی سو رنز بھی بہت اچھے ہیں۔ رواں ہفتے سے شروع ہونے والے ہر میچ کی اہمیت بہت زیادہ ہو گئی ہے کیونکہ اس میچ ٹیموں کی حتمی شکل سامنے آئے گی۔