الشیخ قاری عبدالرحمن انتقال کر گئے، سیالکوٹ میں سپردخاک

14 مارچ 2011
نماز جنازہ میں علمائ، دینی مدارس کے طلبہ سمیت زندگی کے ہر شعبہ ز ندگی سے تعلق رکھنے والوں کی شرکت
قاری عبدالرحمن کے انتقال سے اہل فضل وکمال یتیم ہو گئے، انٹرنیشنل ختم نبوت مکہ مکرمہ سمیت دیگر کا اظہار تعزیت
مکہ مکرمہ (مبشر اقبال لون استادانوالہ سے ) ولی کامل، ماہر قرآن، عامل شریعت و طریقت استاذ الحفاظ، سلطان القراءاور دنیائے اسلام کے جید بزرگ الشیخ قاری عبدالرحمن (نابینا) ہفتے کے روز سیالکوٹ میں انتقال کر گئے۔ قاری عبدالرحمن کی نماز جنازہ گذشتہ روز اتوار کو مرے کالج سیالکوٹ کی گراﺅنڈ میں ادا کی گئی جس کے بعد انہیں قبرستان بابل شہید میں مفسر قرآن مولانا محمد علی کاندھلویؒ کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔ نماز جنازہ میں ملک بھر کے ہزاروں علماءو صلحا، دینی مدارس کے طلبہ اور سیالکوٹ و مضافات کے ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے شرکت کی۔ سیالکوٹ سے موصولہ اطلاعات کے مطابق جنازہ کی ادائیگی کے وقت مرے کالج کی گراﺅنڈ میں تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ دوران جنازہ متعدد محبین پر رکت طاری ہو گئی اور وہ بے ہوش ہو گئے۔ قاری عبدالرحمن کی نماز جنازہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے صاحبزادے شیخ الحدیث حضرت مولانا عبدالقدوس نے پڑھائی جبکہ حرم مکی شریف میں بھی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ مرحوم کی عمر85 برس کے قریب تھی۔ انہوں نے ایک ماہ میں قرآن مجید حفظ کیا اور بعد ازاں عالمی شہرت یافتہ قاری محمد علی اور قاری محمد شریف لاہوری سے علم قرا¿ت میں شرف تلمذ حاصل کیا۔ ان کا اصل تعلق ڈیرہ غازی خان سے تھا لیکن 1952 میں مستقل طور پر سیالکوٹ آ گئے اور وہاں کی دینی درسگاہ دارالعلوم الشہابیہ میں قرآن و قرا¿ت کی تعلیم دینے لگے۔ فن قرا¿ت مشق قرآن،فروغ قرا¿ت و تفہیم کے مقدس کام کو اندرون و بیرون ملک رائج کرنے کےلئے شب وروز کوشاں رہے۔ قرآن کی تلاوت کو عام کرنے اور اسے نبی کریم اور صحابہ کرام کے مطابق پڑھنے کےلئے ان کی مشاورت سے 1978ءمیں اتحاد القراءکا قیام عمل میں لایا گیا۔ تمام عمر دارالعلوم الشہابیہ میں قرآن کی تعلیم کے ذریعے امت کے اندر محبت، مودب، اتحاد ہم آہنگی، استحکام، نور ایمان، حلاوت کے جذبات اور روشنیوں کو عام کیا ان کی خوش الحان قرا¿ت سے دلوں پر وجد طاری ہو جاتا تھا۔ نابینا ہونے کے باوجود تحریک ختم نبوت اور تحریک نظام مصطفی میں نہ صرف حصہ لیا بلکہ ہراول دستے کا فریضہ انجام دیا۔ ہر سال ماہ ربیع الثانی میں عمرہ کی ادائیگی کے لئے مکہ مکرمہ شریف لاتے۔ انہیں حرمین شریفین میں بھی قرآن سنانے کی سعادت حاصل رہی۔ دریں اثناءقاری عبدالرحمن مرحوم و مغفور کے انتقال پر انٹرنیشنل ختم نبوت موومنٹ کے امیر مرکزیہ فضیلة الشیخ مولانا عبدالحفیظ مکی ، نائب امیر ممتاز اسلامی مفکر مولانا ڈاکٹر سعید احمد عنایت اللہ، مو لانا اسعد محمود، مولانا عبدالرﺅف شیخ حرم مولانا محمد مکی حجازی، مدرسہ صولتیہ کے مہتمم فضیلة الشیخ ماجد سعید، قراءحرم ملکی شریف قاری عبدالمالک قاری خلیق اللہ، قاری عبدالغفور، قاری سراج احمد، قاری محمد اقبال پاکستان کمیونٹی مکہ مکرمہ کے رہنماﺅں ملک عبدالغنی، سہیل بٹ، فائز الفیصل، حمزہ سعید بٹ مکی ملک خورشید مولا اور اوورسیز پاکستانی جرنلسٹس فورم سعودی عرب کے مرکزی نائب صدر مبشر اقبال لون استادانوالہ نے گہرے غم و رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ولی کامل سلطان القراءکا رخصت ہونا قیامت صغریٰ سے کسی طرح کم نہیں۔ ان کی وفات سے اہل فضل و کمال یتیم ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم کی زندگی علماءکرام، حفاظ کرام، قرار اور مذہبی ودینی حلقوں کے لئے ہمیشہ مشعل راہ ثابت ہو گی۔ اللہ رب العزت مرحوم کو جنت الفردوس میں بلند مقافم عطا فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔