لیبیا میں بیرونی مداخلت کی عالم اسلام میں شدید مخالفت ہو گی

14 مارچ 2011
لندن (تجزیاتی رپورٹ/ خالد ایچ لودھی) برطانیہ اور امریکہ کے علاوہ یورپی ممالک لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی اور نوفلائی زون پر شدید اختلافات کا شکار ہیں، انتہائی معتبر ذرائع اس امر کی تصدیق کر رہے ہیں کہ سی آئی اے اور برطانوی خفیہ اداروں کو اس بات کا خدشہ ہے کہ فوجی کارروائی سے قذافی کا اقتدار ختم کیا گیا تو نہ صرف لیبیا میں ردعمل ہو گا بلکہ پورے عالم اسلام میں اس کی مخالفت کی جائے گی اور یہ توقع بھی نہیں کی جا سکتی کہ کرنل معمر قذافی کے بعد جو شخصیت بھی برسراقتدار آئے گی کیا وہ امریکہ اور مغرب کے ساتھ خوشگوار تعلقات قائم کر سکے گی؟ کیونکہ لیبیا میں امریکہ مخالف جذبات عوام میں بدستور برقرار ہیں۔ کرنل معمر قذافی نہ تو عیدی امین ہیں اور نہ ہی صدام حسین اور حسنی مبارک، اور پھر لیبیا کی سرزمین افغانستان سے بالکل مختلف ہے یہاں کاگرین آئل تمام مغربی طاقتوں کی ضرورت ہے اور اس پر انکی نظریں ہیں۔ اب لیبیا کے عوام اپنے تیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی بھرپور پوزیشن میں ہیں جس کا احساس امریکی اور دیگر یورپی ممالک کو بھی ہو چکا ہے اسی بنا پر اب برطانوی اور امریکی تھنک ٹینک اس پر زور دے رہے ہیں کہ اب لیبیا کے عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے دیا جائے اور بیرونی مداخلت سے گریز کیا جانا چاہئے۔ برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرو ن اور وزیر خارجہ ولیم ہیگ کو برطانوی پارلیمنٹ میں لیبیا کے بارے میں پالیسی پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ سنڈے ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ لیبیا میں کسی بھی قسم کی مداخلت کی گئی تو پھر اسکے نتائج تباہ کن ہونگے۔ اب توقع کی جا سکتی ہے کہ کرنل معمر قذافی کا اقتدار یقیناً چند دنوں کا مہمان ہے مگر یہ بات اب طے ہے کہ کم از کم لیبیا کے تیل کے خزانوں پر قبضہ جمانے کی کوشش پر مغربی طاقتوں کو لیبیا کے عوام کی شدید مزاحمت کا سامنا ضرور کرنا پڑے گا اور لیبیا میں امریکہ نواز حکومت کا قیام بھی ناممکن ہو گا۔
لیبیا / عوام