پیپلز پارٹی کی اقتدار بچانے کیلئے چومکھی لڑائی‘ زرداری کی مرضی کے نتائج نہ نکلے تو الیکشن ہونگے یا غیر سیاسی عمل شروع ہو گا

14 مارچ 2011
لاہور (سلمان غنی) ملک میں جاری اداروں کے درمیان محاذ آرائی کے عمل اور سیاسی قوتوں کے درمیان تناﺅ کے ضمن میں جہاں اسلام آباد سے کراچی تک جاری سیاسی مشاورتی عمل میں نئے سیاسی نقشہ میں رنگ بھرنے کا عمل جاری ہے وہاں ملک کے اعلیٰ سطحی حکومتی و سیاسی حلقوں میں مذکورہ تفصیل کے حوالہ سے آنے والے چند ہفتوں کو اہم قرار دینے کے ساتھ اسکے اثرات اور نتائج کے حوالہ سے ففٹی ففٹی کی ٹرم کا استعمال ہورہا ہے جس کے تحت اگر صدر زرداری کی جانب سے نئی صف بندی کیلئے جاری عمل میں انکی سوچ کے مطابق نتائج نہ نکل سکے تو پاکستان کا سیاسی نقشہ انتخابات کی طرف بھی جاسکتا ہے اور ایک ایسے بندوبست کی جانب بھی جس میں سیاسی قوتوں کی بجائے یا کسی انتخابی عمل کی بجائے ایک بار پھر اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں کا بنا ہوا ایک بندوبست سامنے آجائے جس کیلئے پاکستان میں موجود امریکہ سمیت بعض اہم ملک کے سفارتکار اور اسلام آباد میں غیرسیاسی لوگ چہ میگوئیوں میں مصروف ہیں اور دیکھنا یہ ہے کہ اس سارے عمل کو سیاسی قیادتیں اور جماعتیں روک سکتی ہیں یا نہیں۔ ملکی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے ذمہ دار ذرائع کہہ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی ان دنوں اپنے اقتدار کو بچانے اور چلانے کیلئے چومکھی لڑائی لڑ رہی ہے۔ صدر آصف علی زرداری ایم کیو ایم کو اپنی اتحادی جماعت کے طور پر جہاں ایک طرف برقرار رکھنے کی کوشش کررہے ہیں تو دوسری طرف اس آپشن پر بھی کام کررہے ہیں کہ اگر ایم کیو ایم اقتدار سے علیحدگی کا فیصلہ کرے یا بوجوہ کسی بھی مرحلہ پر انہیں خود علیحدہ کرنا پڑے تو انکی لڑکھڑاتی حکومت کے سہارا کیلئے پہلے سے اتحاد تیار ہو ۔ صدر زرداری کی سیاست کو جاننے والے اس امر کا اظہار کرتے ہیں کہ وہ اپنے اتحادی بنانے، انہیں ساتھ چلانے اور انکے استعمال کے بعد بوقت ضرورت انہیں فارغ کرنے کا ہنر جانتے ہیں۔ صدر زرداری اپنے دورہ کراچی سے قبل اسلام آباد میں چودھری برادران سے جو ملاقات کرچکے ہیں اسکی تیاری پچھلے کئی ماہ سے ہورہی تھی جس میں چودھری مونس الٰہی کیخلاف چند مقدمات میں انکے تحفظ کی سیاسی رشوت سمیت کئی امور امور زیربحث رہے اور بعدازاں صدر زرداری کی جانب سے ٹھوس واضح یقین دہانیوں اور ضمانتوں کے بعد چودھری برادران صدر مملکت سے ایک ایسی ملاقات پر آمادہ ہوئے جس کی نمائش میڈیا میں بھی ہونا طے پائی۔ واضح رہے کہ مذکورہ ملاقات صدر زرداری کے دورہ کراچی سے قبل ہونا اس لئے طے پائی کہ وہ دورہ کراچی کے دوران ایم کیو ایم کے سامنے واضح سیاسی طاقت حاصل کرکے بات کرنا چاہتے تھے اور ایم کیو ایم کو بالواسطہ طور پر یہ باور کرانا چاہتے تھے کہ وہ اب انکی سیاسی مجبوری نہیں رہی۔ زرداری نے ذوالفقار مرزا کی برطرفی کا مطالبہ بھی مسترد کردیا۔ اس پورے تناظر میں یہ امر واضح ہوگیا کہ زرداری نے اپنے سیاسی پتے ایک بار پھر سجا لئے ہیں اور وہ اپنے اقتدار کو باقی رکھنے کیلئے کھیل بڑی دانشمندی سے کھیل رہے ہیں۔ صدر زرداری اور انکی حکومت کے پاس واحد سیاسی آپشن (ق) لیگ ہے جو صرف چودھری مونس الٰہی کے قانونی تحفظ کے نام پر پیپلز پارٹی جیسی غیرمقبول سیاسی جماعت کو مدد و معاونت فراہم کرتی ہے تو خود اسکے اندر اپنی صفوں میں انتشار پیدا ہوگا لہٰذا یہ پورا سیاسی کھیل اور یہ ساری الٹ پلٹ پھر کسی بھی واضح نتیجہ پر پہنچانے کی بجائے ایک ایسے عمل کی نشاندہی کرتا ہے جسے ففٹی ففٹی کے نام سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب مسلم لیگ (ن) جو پیپلز پارٹی کے بعد دوسری بڑی سیاسی جماعت ہے، اسکی لیڈرشپ نوازشریف کی اس مرحلے پر بیرون ملک روانگی کو سیاسی حلقوں میں اہم قرار دیا جا رہا ہے اور وہ طے شدہ پالیسی کے تحت خاموش بھی اختیار کئے ہوئے ہیں جبکہ ان کے چھوٹے بھائی اور پنجاب کے وزیراعلیٰ شہبازشریف کی جانب سے ملک کو بحرانی کیفیت سے نکالنے کیلئے فوج، عدلیہ سمیت سایسی قیادت کو مل بیٹھ کر قومی ایجنڈا طے کرنے کی تجویز کو بھی مستقبل کے حوالہ سے اہم قرار دیا جا رہا ہے اور وہ خود اس حوالے سے دفاعی انداز اختیارکرنے کو تیار نہیں لہٰذا ملکی سیاست کیا رخ اختیار کرتی ہے اور بحرانی کیفیت کا انجام کیا ہوگا، اس حوالہ سے سیاسی پنڈت آنے والے چند ہفتوں کو اہم قرار دے رہے ہیں اور انکا کہنا ہے کہ پنجاب کے حوالہ سے پیپلز پارٹی کا کوئی غیرذمہ دارانہ عمل خود اسلام آباد میں تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔
سیاسی صورتحال