آزاد عدلیہ بچانے کیلئے نئی تحریک شروع کر سکتے ہیں: وکلا رہنما

14 مارچ 2011
کراچی (خصوصی رپورٹ) وکلاء رہنماﺅں نے کہا ہے کہ عدلیہ کے فیصلوں پر احتجاج کسی کے لئے بھی ضروری نہیں ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کو ماننا اور ان پر عملدرآمد کرنا چاہئے۔ وکلا عدلیہ کے ساتھ ہیں اور ساتھ ہی رہیں گے۔ اگر دوبارہ تحریک کی ضرورت پڑی تو وکلاءسپریم کورٹ کے ساتھ کھڑے ہوں گے اور عدلیہ کی آزادی بچانے کے لئے نئی تحریک شروع کرنے کے لئے تیار ہیں۔ خصوصی رپورٹ کے مطابق حامد خان ایڈووکیٹ نے کہا کہ حکمران یہ نہیں چاہتے کہ عدلیہ آزاد ہو وہ عدلیہ کے فیصلوں پر اثر انداز ہونا چاہتے ہیں اس سارے معاملے میں حکومتی بدنیتی نظرآتی ہے۔ وکلا اب بھی متحد ہیں۔ قاضی انور ایڈووکیٹ نے کہا کہ وکلا کبھی تقسیم نہیں ہوں گے جہاں عدلیہ کی آزادی کی بات ہو گی تمام وکلاءاکٹھے ہوں گے۔ حکومت سپریم کورٹ سے تصادم کرنا چاہتی ہے لیکن بھول گئے ہیں کہ ان میں اتنا دم نہیں ہے۔ یہ تو خود اپنے پیروں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔ احمد اویس ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت عظمیٰ نے جس کی برطرفی کا حکم دیا اس کی دوبارہ تقرری کا سلسلہ شروع کر کے تصادم کا راستہ اختیار کیا گیا۔ حکومت نے دانستہ طور پر ایسے ایشو اور اس طرح کے دوسرے ایشوز کو اس لئے نمایاں کیا ہے کہ کسی خاص فیصلے سے بچا جا سکے۔ تصادم کی صورت میں وکلاء برادری میں کوئی تقسیم نہیں ہو گی۔ مفاد پرست وکلاءکو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے۔ صرف وہی بابر اعوان اور لطیف کھوسہ کے ساتھ کھڑے نظر آئیں گے۔ حکومت خود کشی کر کے شہادت کا درجہ پانا چاہتی ہے لیکن یہ موقع نہیں آئے گا۔
وکلا رہنماء