A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

زرداری بتائیں کیا قاتل لیگ کا الزام واپس لے لیا گیا‘ چیئرمین نیب کی تقرری کیلئے صدر کا خط نہیں ملا‘ حکومت آخری سانسیں لے رہی ہے : چودھری نثار

14 مارچ 2011
اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی+ ریڈیو نیوز + ایجنسیاں) قائد حزب اختلاف چودھری نثار کا کہنا ہے انہیں ابھی تک چیئرمین نیب کی دوبارہ تقرری کے بارے مےں صدر کا خط ملا ہے نہ یہ مشاورت کا کوئی طریقہ ہے۔ حکومت آخری سانسیں لے رہی ہے اور صدر ایم کیو ایم کی منتیں کر رہے ہےں، آصف زرداری رات گئے ایوان صدر کو ڈراموں کی آماجگاہ بنائے رکھتے ہےں۔ یہاں پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا چیئرمین نیب کی دوبارہ تقرری سے متعلق خط ایوان صدر سے پیدل بھی آرہا ہوتا تو اب تک انہیں مل جاتا۔ صدر کا خط سب کو مل چکا ہے سوائے اس کے جسے ملنا چاہئے تھا۔ جسٹس ریٹائرڈ دیدار کے متعلق سپریم کورٹ کا تفصیلی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ حکومت نے تفصیلی فیصلے کا انتظار کیے بغیر ایک اور خط لکھ دیا۔ تفصیلی فیصلہ سامنے آنے تک نئی تقرری پر مشاورت نہیں ہو سکتی۔ صدر زرداری نے جمہوریت کو اپنی خواہشوں کی نذر کرنے کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ ملک مشکل مےں ہے اور صدر اپنی پرانی ڈگر پر چل رہے ہےں۔ چودھری نثار کا کہنا تھا آئینی و قانونی حدود سے تجاوز کیا گیا اور صوبائی اسمبلیوں مےں غیر آئینی و غیر پارلیمانی زبان کا استعمال جاری رہا تو مسلم لیگ ن اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے گی۔ صدر زرداری سے پوچھنا چاہتا ہوں کیا انہوں نے قاتل لیگ کا الزام واپس لے لیا ہے اور پرویز الٰہی کےخلاف قتل کے جس مقدمے کے احکامات جاری کرنے کے بارے مےں کہا جا رہا ہے کیا وہ دعویٰ اب بھی موجود ہے، چودھریوں سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ وہ ہمیشہ الزام لگاتے رہے کہ چودھری ظہور الٰہی کے قتل مےں الذوالفقار ملوث ہے کیا انہوں نے بھی اپنا الزام واپس لے لیا ہے۔ انہوں نے کہا جب سندھ ڈوب رہا تھا صدر فرانس کے سیر پر تھے جب ان پر مشکل آتی ہے تو سندھی ٹوپی اور اجرک پہن لیتے ہےں، بابر اعوان پیپلز پارٹی کا جیالا نہیں پیادہ ہے۔ صدر زرداری اور ق لیگ والے اکٹھے ہو رہے ہےں تو پہلے زرداری کو بلاول، بختاور، آصفہ کو ساتھ بٹھا کر قوم سے معافی مانگنی چاہئے کہ انہوں نے ق لیگ کو قاتل کہا تھا۔ انہوں نے کہا جمہوری نظام کو کسی ریاستی ادارہ سے کوئی خطرہ نہیں‘ مسلم لیگ (ن) کسی بھی صورت فوج کو بطور ادارہ سیاست میں ملوث نہیں کرنا چاہتی‘ صدر حالات اس حد تک بگاڑنا چاہتے ہیں کہ انہیں غیرجمہوری طریقے سے ہٹایا جائے، (ق) لیگ کا اصل چہرہ سامنے آ گیا جس شخص کو سپریم کورٹ نے مسترد کیا ہم اس کی نامزدگی کیونکر قبول کر سکتے ہیں‘ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے حوالے سے حکمت عملی طے کرینگے‘ شاید ہم پیپلزپارٹی والا طوفان بدتمیزی برپا نہ کر سکیں۔ انہوں نے کہا آصف علی زرداری کے تمام فیصلے اور اقدامات جمہوریت کے لئے خطرہ ہیں‘ اس پاگل پن کے پیچھے کچھ تو ہے وہ حالات کو اس حد تک بگاڑنا چاہتے ہیں کہ انہیں سیاسی طریقے سے ہٹانا ممکن نہ رہے۔ آصف علی زرداری نے چیئرمین نیب کی تقرری پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف ہڑتال کرا کر غلط اور بھیانک روایت قائم کی‘ ریاست کے چار اہم عہدوں میں سے تین سندھ کے پاس ہیں لیکن کسی نے اعتراض نہیں کیا‘ عقل تو یہی کہتی ہے جس شخص کی نامزدگی سپریم کورٹ نے غیرقانونی قرار دی ہو ہم اس کی نامزدگی کو دوبارہ کیونکر قبول کر سکتے ہیں‘ اپوزیشن لیڈر کی حیثیت سے جواب دوں گا۔ انہوں نے کہا ہم کسی صورت فوج کو سیاست میں ملوث کرنے کے حق میں نہیں اور نہ ہی اس کا سیاست میں ملوث ہونا اس کے مفاد میں ہے۔ آصف علی زرداری کی زبان کاٹنے کا معاملہ ڈرامہ بازی ہے۔
چودھری نثار
ا