A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined index: category_data

Filename: frontend_ver3/Templating_engine.php

Line Number: 35

جاپان میں ایک اور زلزلہ‘ سونامی سے ہلاکتیں 13 ہزار ہو گئیں‘ دوسرے ایٹمی ری ایکٹر میں بھی دھماکوں کا خطرہ

14 مارچ 2011
ٹوکیو (وقت نیوز+ریڈیو نیوز+ ایجنسیاں) جاپان کے مشرقی ساحلی جزیرے ہونشو میں ایک اور زلزلہ آیا ہے جس کی شدت ریکٹر سکیل پر 6.3 ریکارڈ کی گئی ہے حکومت نے خبردار کیا ہے کہ ایک اور پاور پلانٹ سے تابکاری شعاعوں کے اخراج کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ میاگی کے پولیس چیف نے کہا ہے کہ شہر میں 10 ہزار افراد کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ اس وقت مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 13ہزار ہو گئی ہے۔ کئی ساحلی قصبے صفحہ ہستی سے مٹ گئے ہیں۔ دوسری جانب بڑے پیمانے پر امدادی کارروائیاں جاری ہیں جس میں عالمی امدادی ٹیموں کے ساتھ ساتھ ایک لاکھ سے زائد فوجی حصہ لے رہے ہیں۔ آفٹر شاکس کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ فورشیما میں واقع ایک اور پاور پلانٹ تھری کا کولنگ سسٹم ناکام ہوگیا ہے اور تازہ تابکاری شعاعیں خارج ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ درجہ حرات کم کرنے کی کوشش ناکام ہوچکی ہے اندرونی دباﺅ بڑھنے سے کسی بھی وقت دھماکے کا خطرہ ہے جو گزشتہ 25 سال میں دنیا کی بدترین جوہری تباہی ہوسکتی ہے۔ عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کا کہنا تھا کہ جاپان نے آگاہ کیا ہے کہ نیوکلیئر پلانٹ کے قریب تابکاری میں کمی واقع ہوئی ہے وہاں تابکاری سے بچانے والا نظام محفوظ ہے۔ حکام نے علاقے کے لوگوں میں آئیوڈین تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔ اس دوران جاپان نے روس سے اضافی توانائی کی فراہمی کی اپیل کردی ہے جس پر روسی نائب وزیراعظم ایگورسیجن نے سرکاری ٹی وی کو انٹرو میں کہا ہے انکا ملک جاپان کی کی امداد کرنے کو تیار ہے۔ 10ہزار سے زائد افراد ابھی تک لاپتہ ہیں جن کی تلاش اور ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ بجلی و مواصلات کا نظام تاحال درہم برہم ہے۔ عالمی برادری کی جانب سے بھی امدادی ٹیمیں اور امدادی سامان جاپان پہنچایا جا رہا ہے۔ برطانیہ نے جدید آلات سے لیس 63 رکنی ٹیم ٹوکیو بھیج دی ہے۔ امریکہ کا طیارہ بردار جہاز بھی امدادی سامان لےکر جاپانی ساحل پر لنگر انداز ہوگیا ہے۔ جاپانی وزیر دفاع توشیمی کیتازاوا نے کہا ہے کہ وزیراعظم ناﺅتوکان نے وزارت دفاع کوا یک لاکھ فوج زلزلہ زدگان کی امداد کےلئے بھیجنے کی ہدایت کردی ہے۔ جاپانی وزیراعظم نے کہا دوسری جنگ عظیم کے بعد بدترین تباہی کا سامنا ہے۔ جاپانی میڈیا نے حکومت کی جانب سے جوہری پاور پلانٹس کی حفاظت کےلئے فوری اقدامات نہ کرنے پر وزیراعظم کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ایک اخبار نے اپنے ادارئیے میں لکھا ہے کہ جس طرح حکومت نے معلومات فراہم کیں یہ سوالیہ نشان ہے۔ شمالی علاقے سے مزید دو سو افراد کی نعشیں ملی ہیں۔ جاپانی حکام کا کہنا ہے کہ زلزلے اور سونامی سے ہونیوالی تباہی اتنی زیادہ ہے کہ نقصان کا درست اندازہ لگانے میں کافی وقت لگ سکتا ہے۔ جاپانی میٹرولوجیکل ایجنسی کے مطابق جمعہ کو آنے والے زلزلہ کی شدت 9 درجے تھی اور یہ دنیا کا شدید ترین زلزلہ تھا۔ اطلاعات کے مطابق 10 ساحلی شہروں سے مزید 500 نعشیں ملی ہیں، 4 ٹرینوں کا ابھی تک سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کے لئے 5 مختلف مقامات پر 1300 عارضی پناہ گاہیں بنائی گئی ہیں۔ جاپان میں آتش فشاں پہاڑ نے پھر لاوا اگلنا شروع کر دیا ہے اور فضا میں راکھ اڑ رہی ہے۔ ایک امریکی فرم کے مطابق جاپان کا نقصان 34 بلین ڈالر ہے۔
جاپان / زلزلہ