غلط فہمی پیدا کی جا رہی ہے ”کہ سارا بجٹ فوج کھا گئی“ ہمارے بجٹ پر تنقید کی بجائے دوسرے اداروں کیلئے مختص رقم کے استعمال کا طریقہ درست کیا جائے : ترجمان پاک فوج

14 مارچ 2011
اسلام آباد (آن لائن) پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس نے کہا ہے کہ فوج حکومت وقت کی پالیسیوں کے مطابق کام کرتی ہے، فوج کی تعداد کا تعین کرنا حکومت اورعوام کا کام ہے دشمن کی دفاعی صلاحیتوں کے مطابق فوج کو تیاری کرنا پڑتی ہے، فوجی بجٹ پر تنقید کی بجائے دیگر اداروں کے بجٹ کے استعمال کا طریقہ کار درست کیا جائے ، دفاعی فوجی بجٹ دنیا کی کوئی بھی فوج منظر عام پر نہیں لاسکتی اگر سویلین قیادت سمجھتی ہے کہ بھارت کے ساتھ خطرات کو بات چیت کے ذریعے کم کیا جا سکتا ہے تو فوج کی تعداد اور اخراجات بھی کم کئے جا سکتے ہیں۔ ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے ترجمان پاک فوج نے کہا کہ دشمن ممالک کی ایجنسیز کا یہ ٹارگٹ ہے کہ فوج اور عوام میں خلاءپیدا کیا جائے اور فوج کو تنقید کا نشانہ بنا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جائے کہ فوج ملک اور عوام کی ترقی کے لئے بڑا بوجھ ہے ایسی سازش کے ذریعے مختلف طریقوں سے خبریں پھیلائی جاتی ہیں کہ فوج کے اخراجات زیادہ ہیں اگر یہ اخراجات نہ ہوں تو عوام اور ملک ترقی کرنے کے علاوہ عوام خوشحال ہو جائیں، دشمن ممالک کی یہ سازش اپنی جگہ لیکن حقیقت یہ ہے کہ فوج جو بھی حکومت ہوتی ہے اس کی پالیسی کے مطابق کام کرتی ہے، یہ فیصلہ عوام اور حکومت نے کرنا ہوتا ہے کہ ملک کو کیا خطرات درپیش ہیں اور ان کے پیش نظر کتنی فوج ہونی چاہیے ، فوج اپنی طرف سے یہ فیصلہ نہیں کرتی کہ اس کی کیا تعداد ہونی چاہیے فوج کا کام یہ ہے کہ وہ خطرات کا جائزہ لینے کے بعد اپنے تجربات حکومت وقت کو دیتی ہے پھر حکومت اس حوالے سے فیصلہ کرتی ہے فوج کا بجٹ دو حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، ایک حصہ مینٹننس بجٹ کا ہوتا ہے جو اولین ہوتا ہے اس پر ہر قسم کی بحث ہو سکتی ہے، دوسرا ڈویلپمنٹ بجٹ ہوتا ہے، دنیا کی کوئی بھی فوج اپنا ڈویلپمنٹ بجٹ کسی کو نہیں بتاتی نہ اس پر بحث ہوتی ہے چونکہ اس سے دشمن کو یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ ڈویلپمنٹ کن اداروں اور کن ایریاز میں ہو رہی ہے لہذا اس بجٹ کو خفیہ رکھا جاتا ہے جہاں تک ”فیکٹس اینڈ فگر“ کا تعلق ہے تو موجودہ صورت حال کے مطابق گزشتہ دس سال کے بجٹ کا تجربہ کیا جائے تو فوج کا بجٹ شرح کے اعتبار سے نیچے آیا ہے اس وقت فوج کا بجٹ فوجی بجٹ کے تناسب سے 14 فیصد ہے اور اس سے متعلق غلط فہمی پیدا کی جاتی ہے کہ یہ 40 فیصد ہے اور سارا بجٹ فوج کھا گئی ، میجر جنرل اطہر عباس نے کہا کہ کیا فوج کے علاوہ دوسرے اداروں اور شعبہ جات کے لئے جو بجٹ مختص کیا جاتا ہے وہ 100 فیصد درست استعمال ہوتا ہے انہوں نے کہا کہ پنجاب میں جعلی سکولوں کے بارے میں فوج نے مکمل طور پر ایک رپورٹ پیش کی تھی اتنے ہزار جعلی سکولز اور جعلی اساتذہ موجود ہیں ان سے متعلق کہا گیا کہ وہ تمام نظام درست کر لیا گیا ہے اگر بھارت کے بجٹ کا جائزہ لیا جائے تو اس وقت بھارتی فوج کا بجٹ 36 بلین ڈالر جبکہ پاک فوج کا بجٹ چار بلین ڈالر سے بھی کم ہے ہم نے دیکھنا ہے کہ ہمارا دشمن کتنا طاقتور ہے اور اس کی جنگی صلاحیت کیا ہے اسی کے مطابق اپنی تیاری کرتے ہیں، یہ نہیں دیکھا جاتا کہ موجودہ حالات اور کشیدگی کی صورت حال کیا ہے چونکہ حالات تبدیل ہوتے رہتے ہیں ہم یہ دیکھتے ہیں کہ وہ کس قسم کے ہتھیار تیار کررہے ہیں ان تمام چیزوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دفاعی اخراجات اور دفاعی صلاحیت کو بڑھایا جاتا ہے۔ ہم رفتہ رفتہ اس بات کا جائزہ لیتے رہتے ہیں کہ دوسرے اداروں کا بجٹ کیا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا جن دوسرے اداروں اور شعبہ جات کے لئے جو بجٹ مختص کیا جاتا ہے اس کا استعمال درست انداز میں ہوتا ہے اگر کسی ادارے کا بجٹ مختص ہے اور اس میں سے بھی بجٹ پر تنقید کرنے کے بجائے بہتر ہے مختص ہونے کے باوجود جن اداروں کا بجٹ کا پورا حصہ استعمال نہیں ہوتا اس کی کیا وجہ ہے جو سویلین قیادت یہ سمجھتی ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات کو کسی طریقے سے حل کیا جا سکتا ہے تو فوج کو بھی کم کیا جا سکتا ہے جب قیادت محسوس کرتی ہے کہ بھارت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے خطرات کو کم کیا جا سکتا ہے تو ان خطرات کو کم کیا جائے اور اس کے مطابق اپنے دفاع کا سائز رکھا جائے یہ سارا فیصلہ عوام اور حکومت نے کرنا ہوتا ہے۔
فوجی ترجمان