صدر سے متحدہ وفد کی ملاقات آج تک موخر‘ رحمن ملک لندن میں الطاف سے ملے‘ ذوالفقار کو ہٹانے کے مطالبہ پر پیپلز پارٹی عشرت العباد کو بدلنے کا کہہ سکتی ہے : ذرائع

14 مارچ 2011
کراچی (ریڈیو نیوز + ریڈیو مانیٹرنگ + ایجنسیاں+ نیشن رپورٹ) صدر آصف علی زرداری سے ایم کیو ایم کے وفد کی اتوار کو ہونے والی ملاقات آج تک مو¿خر کر دی گئی ہے۔ ملاقات آج بلاول ہاﺅس کراچی میں ہو گی جبکہ رحمن ملک نے لندن میں ایم کیو ایم کے رہنما الطاف حسین سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات میں ملک کی سیاسی صورتحال اور دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ 3گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات میں رابطہ کمیٹی کے ارکان بھی موجود تھے۔ علاوہ ازیں صدر سے بلاول ہاﺅس میں گذشتہ روز ایم کیو ایم کے اعلیٰ سطح وفد کی ملاقات ہونا تھی جوکہ صدر کی مصروفیات کی بناءپر ملتوی کر دی گئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ملاقات سندھ اسمبلی میں ایم کیو ایم کے بائیکاٹ اور احتجاج کے باعث موخر کی گئی۔ ملاقات آج پےر کے روز کسی بھی وقت ہونے کا امکان ہے۔ ایم کیو ایم کا 4 رکنی وفد آج پی پی سندھ کونسل سے بھی ملاقات کریگا۔ علاوہ ازیں لندن میں رحمن ملک سے ہونے والی ملاقات کے بعد ایم کیو ایم نے اعلامیہ جاری کر دیا جس کے مطابق رحمن ملک نے ایم کیو ایم کے تحفظات کو دور کرنے سے متعلق یقین دہانی کرائی۔ اس کے علاوہ انہوں نے گورنر سلمان تاثیر اور شہبازبھٹی کے قتل کیسز کے بارے میں بھی صورتحال سے آگاہ کیا۔ رحمن ملک نے الطاف حسین کو یقین دلایا کہ ایم کیو ایم کے تحفظات جلد از جلد دور کئے جائیں گے۔ اس موقع پر الطاف حسین کے والد کے ایصال ثواب کے لئے دعا بھی کی گئی۔ الطاف حسین نے رحمن ملک کو اپنے تحفظات سے متعلق بتایا۔ رحمن ملک نے سندھ میں جرائم کی وارداتوں، سندھ میں شہری اور دیہی کی تفریق پیدا کرنے کی سازش سے متعلق بھی بریفنگ دی۔ ملاقات میں پی پی پی، ایم کیو ایم تعلقات سندھ کے وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے بیانات، ایم کیو ایم کی طرف سے سندھ اسمبلی کے بائیکاٹ سمیت مختلف امور بھی زیر غور کئے۔ کراچی سے نامہ نگار کے مطابق پاکستان پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم کے درمیان فیصلہ کن مذاکرات پیر کو ہوں گے۔ نامہ نگار کے مطابق کراچی اور لندن میں اہم سرگرمیوں کے نتیجہ میں پی پی پی اور ایم کیو ایم کے درمیان ڈیڈ لاک ختم ہونے اور حکمراں اتحاد برقرار رہنے کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔ صدر زرداری کو بلاول ہاﺅس میں ان کی صدارت میں ہونے والے پی پی پی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے ساتھ اتحاد برقرار رکھنے کیلئے فری ہینڈ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔
لندن (آصف محمود سے) وزیر داخلہ رحمن ملک نے کہا ہے کہ پنجاب حکومت کو غیر مستحکم نہیں کرینگے اور یقین دلاتا ہوں کہ پنجاب حکومت کو گرانے کا کوئی منصوبہ نہیں ہماری نیک تمنائیں ان کے ساتھ ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز سنٹرل لندن میں واقع اپنی رہائش گاہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ رحمن ملک نے کہا کہ صدر زرداری اور چودھری شجاعت حسین کی ملاقات ملکی مفاد اور جمہوریت کیلئے صحت مندانہ اقدام ہے۔ انہوں نے مشورہ دیا کہ شریف برادران کو بھی صدر زرداری سے ملنا چاہئے۔ منشیات فروش اور دہشت گرد ہنڈی کے ذریعے رقم پاکستان بھجواتے ہیں۔ وفاقی حکومت بہت جلد ہنڈی کے ذریعے پیسہ بھیجنے والوں اور منی چینجروں کیخلاف کریک ڈاﺅن کریگی۔ آئندہ ہنڈی کے ذریعے پاکستان آنے والے پیسے کو ضبط کرنے کی بھی تجویز زیر غور ہے۔
رحمن ملک