کراچی میں ٹارگٹ کلنگ جاری‘ مزید 10 جاں بحق‘ پانچ گاڑیاں نذرآتش‘ ریڈ الرٹ جاری

14 مارچ 2011
کراچی (نامہ نگار + ریڈیو مانیٹرنگ + ایجنسیاں) کراچی مےں صدر زرداری کی موجودگی کے دوران شہر کے مختلف علاقوں مےں فائرنگ کے واقعات مےں مزید 10افراد جاںبحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ابوالحسن اصفہانی روڈ پر نامعلوم افراد نے موٹر ورکشاپ کے دو ملازمین شاہد اور محمد علی کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا۔ لیاقت آباد مےں فائرنگ سے 28 سالہ زاہد، پرانا حاجی کیمپ کے قریب یونس خاصخیلی جاںبحق ہوا۔ رنچھوڑ لائن مےں فائرنگ سے سیاسی تنظیم سے وابستہ 30سالہ کامران ہلاک ہوا جبکہ بنارس سے 28 سالہ نثار خان کی لاش ملی جسے گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا، قصبہ کالونی مےں 20 سالہ نادر کو فائرنگ کر کے قتل کیا گیا جبکہ عزیز آباد مےں بھی فائرنگ سے ایک شخص جاںبحق ہوگیا۔ گلستان جوہر مےں بھی فائرنگ سے ایک شخص جاںبحق ہوگیا۔ ثناءنیوز کے مطابق چوبیس گھنٹوں میں ہلاکتوں کی تعداد 26 ہوگئی ہے، پانچ گاڑیاں بھی جلا دی گئیں۔ کشیدہ صورتحال کے باعث ریڈ الرٹ کر دیا گیا ہے۔ صوبائی وزیر داخلہ نے شرپسندوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی ہدایت کی ہے۔ نامہ نگار کے مطابق متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی نے دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایم کیو ایم کے کارکن عمران کے بہیمانہ قتل کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ گینگ وار کے دہشت گردوں کی شہر میں سرپرستی اور قتل و غارتگری کا سختی سے نوٹس لیا جائے اور دہشت گردوں کے خلاف عملی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ جمعیت علمائے پاکستان کے علماءاہلسنت نے قاتلوں کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا ہے اور حکومت کو 48گھنٹے کا الٹی میٹم دیا ہے۔
کراچی / ٹارگٹ کلنگ