مسلم لیگ (ن) کے قائد کو فون‘ جمہوری استحکام کیلئے کردار ادا کریں : زرداری....میثاق جمہوریت پر عمل کرتے تو حالات یہ نہ ہوتے : نوازشریف

14 مارچ 2011
مسلم لیگ (ن) کے قائد کو فون‘ جمہوری استحکام کیلئے کردار ادا کریں : زرداری....میثاق جمہوریت پر عمل کرتے تو حالات یہ نہ ہوتے : نوازشریف
اسلام آباد (سپیشل رپورٹ+ ریڈیو مانیٹرنگ) صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگ ( ن ) کے سربراہ نوازشریف سے لندن میں فون پر اہم امور پر مشاورت کی ہے۔ ایوان صدر کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے میڈیا کو بتایا کہ صدر نے نوازشریف سے ان کی اہلیہ کی خیریت دریافت کی۔ نوازشریف نے لندن میں پاکستانی ہائی کمشنر کو ائرپورٹ پر نوازشریف کا استقبال کے لئے بھیجنے پر صدر کا شکریہ ادا کیا۔ مستند ذرائع نے نوائے وقت کو بتایا کہ صدر نے موجودہ سیاسی صورت حال پر نوازشریف سے تبادلہ خیال کیا ہے۔ ان سے کہا ہے کہ جمہوریت کو مستحکم کرنے کے لئے مفاہمت کی پالیسی جاری رہنی چاہئے۔ ذرائع کے مطابق نیب کے سربراہ کی تقرری کو سپریم کورٹ کی طرف سے غیرقانونی قرار دئیے جانے کے بعد حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تعلقات کشیدہ ہونے کے بعد صدر زرداری کی طرف سے حالات کو اعتدال پر لانے کی کوشش قرار دیا ہے۔ ترجمان ایوان صدر کا کہنا ہے کہ صدر نے اہم قومی معاملات پر مشاورت کی ہے۔ نوازشریف نے فون کرنے پر اور اہلیہ کی مزاج پرسی کرنے پر صدر کا شکریہ ادا کیا ہے۔
لاہور (خبرنگار خصوصی) ملک میں پیدا شدہ نئی صورتحال میں صدر آصف علی زرداری نے مسلم لیگ ن کے سربراہ نوازشریف سے رابطہ میں جمہوریت کے استحکام کیلئے جمہوری قوتوں میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہیں کردار ادا کرنے کیلئے کہا ہے جس پر نوازشریف نے صدر زرداری کو یاد دلایا کہ وہ 2008ء کے الیکشن سے ہی اس ایجنڈا اور ضرورت پر قائم رہتے ہوئے خود صدر اور حکومت کو یہ یاد دہانی کراتے رہے لیکن تین سال گزرنے کے باوجود ان کی باتوں کو نہ تو سمجھنے کی کوشش کی گئی اور نہ ہی ان پر عمل کیا گیا‘ صدر زرداری نے جسٹس (ر) دیدار حسین شاہ کے حوالہ سے بھی نوازشریف سے بات کی اور کہا کہ آپ اپنے ایک کیس میں جسٹس دیدار حسین شاہ پر اعتماد کا اظہار کرچکے ہیں جس پر نوازشریف نے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ میرے وکیل اعجاز بٹالوی مرحوم نے اس کیس میں ایسی کوئی بات کی ہو لیکن میں نے ذاتی طور پر ان کے بارے میں ایسی کوئی رائے نہیں دی صدر زرداری اور نوازشریف کے درمیان ہونے والی ٹیلی فونک گفتگو کے حوالے سے مسلم لیگ ن کے ذمہ دار ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے بعض ایشوز پر حکومتی طرز عمل اور اقدامات پر تحفظات ظاہر کئے اور کہا کہ بہتر ہوتا کہ ہمارے درمیان میثاق جمہوریت ہی بنیاد بنتا تو ملکی حالات اس نہج پر نہ آتے اور نہ ہی عوامی مسائل کے حوالہ سے بے چینی، مایوسی اور بے یقینی کا شکار ہوتے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے صدرکو ملکی حالات ، بعض واقعات پر اپنے تحفظات سے آگاہ کیا اور کہا کہ حکومتی عدم کارکردگی کے باوجود مسلم لیگ ن نے سسٹم خصوصاً جمہوریت کے حوالہ سے ذمہ دارانہ رویہ اور کردار ادا کیا لیکن بعض حکومتی ذمہ داران کے غیر جمہوری طرز عمل سے ملک میں محاذ آرائی اور انتشار میں اضافہ ہوا۔ مسلم لیگ ن کے ذرائع کے مطابق یہ تو صدر ہی بہتر جانتے ہےں کہ انہیں نوازشریف سے رابطہ کی ضرورت کیوں پیش آئی ورنہ زمینی حقائق تو واضح ہیں کہ حکومتی کارکردگی کے باعث آج ملک مسائل کی آگ میں جل رہا ہے اور عوام کے اندر حکومت کے حوالہ سے کوئی امید اور آس نہیں۔ نواز شریف کے پولیٹیکل سیکرٹری آصف کرمانی نے صدر زرداری کے نواز شریف کو کئے گئے ٹیلی فون کی تفصیلات جاری کی ہیں جن کے مطابق صدر آصف زرداری نے کہاکہ ملک میں جمہوری قوتوں کا اتحاد ضروری ہے جس پر میاں نواز شریف نے انہیں یاد دہانی کرائی کہ وہ انتخابات کے بعد سے اس ایجنڈا پر قائم رہنے کے لئے حکومت اور صدر زرداری کو بار بار یقین دہانی کراتے رہے ہیں لیکن افسوس کہ تین سال گزرنے کے بعد بھی ان کی باتوں کو سمجھنے کی کوشش کی گئی نہ ان پر عملدرآمد ہوا۔ نواز شریف نے کہاکہ انہیں صدر کایہ بیان پڑھ کر بھی افسوس ہوا ہے کہ انہوں نے صدر کی زبان کاٹی جس پر صدر زرداری نے نواز شریف کو بتایا کہ انہوں نے زبان کاٹنے کی کوئی بات کی نہ ایسا بیان دیا۔ صدر نے کہا کہ انہیں میاں نواز شریف سے کوئی گلہ نہیں ہے انہوں نے میاں نواز شریف کو ملاقات کی بھی دعوت دی جس پر نواز شریف نے کہاکہ وہ وطن واپسی پر اس بارے میں مشاورت کریں گے۔