جاپان کے فوکو شیما نیوکلئر ری ایکٹر میں دھماکے سے گیارہ افراد زخمی جبکہ سات لاپتہ ہوگئے ہیں

14 مارچ 2011 (14:19)
جاپان میں زلزلے کے آفٹرشاکس کا سلسلہ جاری ہے، آج پانچ اعشاریہ آٹھ شدت کے آنے والے آفٹرشاکس کی وجہ سے دارالحکومت ٹوکیو میں عمارتیں لرز اٹھیں۔ جس کے بعد فوکو شیما کے دوسرے ایٹمی پلانٹ میں زور دار دھماکہ ہوا جس میں گیارہ افراد زخمی جبکہ سات لاپتہ ہوگئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکے کے باوجود ایٹمی پلانٹ محفوظ ہے۔ تاہم ٹوکیو کے شمال میں واقع تین ایٹمی پلانٹس کو اس وقت شدید خطرہ لاحق ہے۔ دوروز قبل دھماکے سے تباہ ہونے والے پلانٹ سے تابکاری کا اخراج جاری ہے جس سے اب تک دوسو سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جبکہ دولاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب ساحلی علاقے کوجی سمیت دیگرعلاقوں میں زلزلے اور سونامی سے تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے کا کام بھی جاری ہےاور کئی علاقے ابھی تک تباہی اور بربادی کی تصویر بنے ہوئے ہیں جبکہ متعدد علاقے بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرے میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ ساحلی علاقے میاگی سے دوہزار افراد کی لاشیں ملی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔ دارالحکومت ٹوکیو میں معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں، سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں ہے تاہم ریلوے لائنوں کی مرمت کا کام جاری ہے۔ بدترین تباہی کے باعث اشیائے خوردونوش اور ادویات کی شدید قلت ہوگئی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ امریکہ اور روس کے بعد نیوزی لینڈ کی جانب سے ریسکیو ٹیمیں امدادی سامان لے کر جاپان پہنچ گئی ہیں۔