کراچی میں دہشتگردی کی لہرنے مزید نوافراد کی جان لے لی، دوروز میں ٹارگٹ کلنگ کی بھینٹ چڑھنے والے افراد کی تعداد تیئیس ہوگئی۔

14 مارچ 2011 (12:30)
اتوارکا دن اور رات کراچی کے شہریوں کے لئے خوف کی علامت بنا رہی۔ دن کاآغازلیاقت آباد میں ہونے والے قتل سے ہوا، جس کے بعد رنچھوڑ لائن، نشتر روڈ میں بھی سیاسی تنظیم کے کارکن کو قتل کردیا گیا۔ اس واردات کے ردعمل میں مشتعل افراد نے ہنگامہ آرائی شروع کی اورعلاقہ کو مکمل طور پربند کرا دیا۔ صورتحال سے نمٹنے کے لئے رینجرز کو لاٹھی چارج بھی کرنا پڑا۔
شام ہوتے ہی اورنگی ٹاؤن کے علاقے کٹی پہاڑی اور بنارس چوک سمیت قصبہ کالونی میں بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے دو افراد کو موت کے منہ میں دھکیل دیا۔ رات گئے گلستان جوہر میں بھی نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ایک شخص کو زخمی اور ایک کو ہلاک کردیا جبکہ ایک سیاسی جماعت کے کارکن کو اغوا کے بعد قتل کردیا گیا، عزیز آباد میں بھی ایک شخص دہشتگردی کی بھینٹ چڑھ گیا۔ کراچی میں اتوار کے روز مختلف علاقوں میں وقفے، وقفے سے فائرنگ کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث شہر کے بیشتر علاقے جزوی طور پر بند رہے۔ فائرنگ کے واقعات میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ واضح رہے کراچی میں صدر آصف علی زرداری کی موجودگی کے دوران دودن میں بیس افرادکو ٹارگٹ کلنگ کی بھینٹ چڑھایا گیا ہے۔