زمبابوے کو آسان حریف نہیں سمجھتے‘ وکٹ کیپنگ کامران اکمل ہی کرینگے : آفریدی

14 مارچ 2011
کینڈی (رپورٹ ‘ محمد فہیم انور/ ایجنسیاں) قومی ٹیم کے کپتان شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ کامران اکمل ہی کیپنگ کرینگے ¾ عمر اکمل کو کھلانے یا نہ کھلانے کا فیصلہ ٹیم میٹنگ میں کیا جائیگا ¾ ورلڈ کپ میں کوئی ٹیم فیورٹ نہیں‘ زمبابوے کو کمزور حریف نہیں سمجھتے ۔ اوپنرز کی ناکامی پر پریشان ہیں آج کے میچ میں ایک دو تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں ¾ فیلڈنگ کے شعبوں میں خامیوں کو دور کر نے کی بھرپور کوشش کرینگے ۔ اتوار کو یہاںپریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد خان آفریدی نے کہاکہ ورلڈ کپ 2011ءمیں اپ سیٹ ہورہے ہیں اور ہم زمبابوے کے خلاف میچ کو آسان نہیں لیں گے پہلے بھی ہم نے کسی ٹیم کو کمزور سمجھا نہ ہی اور آگے سمجھیں گے نیوزی لینڈ سے شکست کو بھول کر زمبابوے کے خلاف پوری طاقت اور نئی حکمت عملی کے ساتھ میدان میں اترینگے ایک سوال کے جواب میں شاہد خان آفریدی نے کہاکہ کامران اکمل نے پریکٹس میں لیا اور وہ مکمل طورپر فٹ ہیں انہوںنے واضح کیا کہ کیپنگ کامران اکمل سے ہی کرائیں گے ایک اور سوال کے جواب میں شاہد خان آفریدی نے کہاکہ عمرعمل کو کھلانے یا نہ کھلانے کا فیصلہ ٹیم میٹنگ میں کیا جائیگا فی الحال ایسا کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا انہوںنے کہاکہ ہمارے اوپنر کی کار کر دگی انتہائی ناقص رہی ہے جو ہمارے لئے پریشانی ہے۔ آفریدی نے کہا کہ ٹیم میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ اس سے آنے والے میچوں میں ٹیم کو مشکلات پیش آسکتی ہیں تاہم زمبابوے کے خلاف ایک دو تبدیلیاں کی جاسکتی ہیں ۔انہوںنے کہاکہ کھلاڑی نیوزی لینڈ کے خلاف شکست کو ذہن پر سوار نہ کریں کھلاڑی منفی نہیںمثبت کرکٹ پیش کرینگے انہوں نے کہا کہ جو ہوگیا سو ہوگیا اب کھلاڑیوں کے حوصلے بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان ورلڈ کپ ضرور جیتے گا۔۔ایک اور سوال کے جواب میں شاہد آفریدی نے کہاکہ مجھے اپنے کھلاڑیوں پر مکمل اعتماد ہے اور پتہ ہے کہ ٹیم جب بھی مشکل صورتحال سے دوچار ہوتی ہے اچھا کھیلتی ہے۔ اچھی ٹیم کے خلاف دبا میں کھیلتے ہوئے اس کی کارکردگی اچھی رہتی ہے۔ایک اور سوال پر شاہد آفریدی نے کہاکہ جب تک ہم زمبابوے کے خلاف میچ جیت نہیں لیتے اس وقت مطمئن محسوس نہیں کر سکتے ایک اور سوال کے جواب میں انہوںنے کہاکہ فیلڈنگ کے شعبوں میں خامیوں کو دور کر نے کی بھرپور کوشش کرینگے ۔