مسلم لیگوں کا اتحاد

14 مارچ 2011
نوائے وقت کے ایڈیٹر مجید نظامی مسلم لیگ کے مختلف حصوں کے درمیان اتحاد بلکہ ادغام کے سب سے بڑے داعی ہیں۔ جناب مجید نظامی کا تعلق عملی سیاست سے نہیں اور نہ ہی مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کے اتحاد کے ساتھ ان کا کوئی ذاتی مفاد وابستہ ہے لیکن مجید نظامی چونکہ تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن تھے اور نوائے وقت کا آغاز بھی قائد اعظم کے حکم پر تحریک پاکستان کو تقویت بخشنے اور مسلم لیگ کے قومی نقطہ نظر کو مسلم عوام تک پہنچانے کے لئے کیا گیا تھا۔ اس لئے تحریک پاکستان کے ایک مخلص کارکن کے طور پر مجید نظامی کی یہ فطری خواہش ہے کہ قائد اعظم کی جماعت متحد ہو جائے اور یہ جو اپنی اپنی سیاسی اغراض کے لئے مسلم لیگ کی تقسیم در تقسیم کا عمل ہے، اسے ختم کیا جائے۔ مسلم لیگوں کے درمیان اتحاد کے سخت مخالفوں میں مسلم لیگ(ن) کے قائد میاں نواز شریف کا نام سرفہرست ہے۔ میاں صاحب کی مسلم لیگ(ق) کے خلاف تلخی کسی حد تک قابل فہم بھی ہے جن مسلم لیگیوں نے مسلم لیگ (ن) کی آئینی حکومت کا تختہ الٹنے والے فوجی آمر پرویز مشرف کا ساتھ دیا تھا یقینا ان مسلم لیگیوں نے ایک مشکل وقت میں مسلم لیگ (ن) سے بے وفائی کی۔ میاں نواز شریف کو اپنی حکومت کو موت کے گھاٹ اتارنے والوں سے ہاتھ ملانا ایسے ہی محسوس ہوتا ہے جیسے مقتول کے ورثاءکا قاتل سے صلح کرنا لیکن مسلم لیگ(ن) کا پیپلز پارٹی سے اتحاد اگر ممکن ہے تو مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں کا آپس میں اتحاد ایک ناممکن عمل قرار نہیں دینا چاہیے۔ مسلم لیگ(ق) کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے قائدین کی چارج شیٹ سے ہمیں بھی اتفاق ہے لیکن قومی مفاد میں اگر ماضی کی بہت ساری تلخیوں کو فراموش کیا جا سکتا ہے تو پھر مسلم لیگی دھڑوں کو از سر نو کیوں نہیں جوڑا جا سکتا۔ اگر میاں نواز شریف اور ان کے ساتھی خود کو بہت بڑا اصول پرست سمجھتے ہیں تو پھر پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ق) کا فارورڈ بلاک بنوانے کا جواز بالکل پیدا نہیں ہوتا۔ مسلم لیگ (ق) کو مسلم لیگ کی طرف سے ہمیشہ لوٹا لیگ کا نام دیا جاتا ہے۔ ”لوٹا لیگ“ کے ارکان اسمبلی اگر میاں نوازشریف اور میاں شہباز شریف کی آشیرباد سے چودھری برادران کی قیادت سے بغاوت کرکے پنجاب اسمبلی میں الگ بلاک بنا لیتے ہیں تو ان کا سیاسی تعارف ”ڈبل لوٹے“ کا ہو جاتا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف اگر ”ڈبل لوٹا“ ہونے کا اعزاز حاصل کرنے والوں کی حوصلہ افزائی کر سکتے ہیں تو پھر انہیں کچھ اور فراخدلی کا مظاہرہ کرنا چاہیے اور مسلم لیگ کے مختلف دھڑوں میں اتحاد کی تجویز کو بھی خوشدلی سے قبول کر لینا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی اصول پسندی کی یا تو مکمل طور پر پاسداری کی جائے یا مسلم لیگ (ق) کی قیادت بالخصوص چودھری برادران کی غلطیوں کو بھی معاف کر دیا جائے اور مسلم لیگوں کے درمیان اتحاد کا سب سے پہلا فائدہ یہ ہو گا کہ: پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ(ن) نے لوٹا سازی کا جو غیر اخلاقی عمل شروع کر رکھا ہے وہ ختم ہو جائے گا اور مسلم لیگ (ن) کی ا پنی پنجاب حکومت بچانے کے لئے پیپلز پارٹی سے غیر فطری اتحاد کی جو مجبوری ہے اس سے بھی جان چھوٹ جائے گی۔ آنے والے الیکشن میں مسلم لیگ(ن) اگر چاروں صوبوں میں اپنی حکومت کی خواہش مند ہے تو اس کا واحد حل بھی تمام مسلم لیگوں کے درمیان اتحاد ہے۔ مسلم لیگ اگر مختلف حصوں میں تقسیم رہتی ہے تو مسلم لیگ کے ووٹ بھی تقسیم ہوں گے جس کا لامحالہ فائدہ پیپلز پارٹی کو حاصل ہو گا۔ اگر مسلم لیگوں کے درمیان اتحاد تین سال پہلے ہو چکا ہوتا تو آج مرکز میں بھی مسلم لیگ کی حکومت ہوتی اور پنجاب میں بھی مسلم لیگ پیپلز پارٹی کے ہاتھوں مذاق نہ بنی ہوتی۔ مسلم لیگ (ن) کے تنہا پرواز کے شوق کی وجہ سے آج مرکز میں مسلم لیگ (ن) پر دوستانہ بلکہ منافقانہ اپوزیشن کا لیبل لگ چکا ہے اور پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بلیک میلنگ سے بچنے کے لئے مسلم لیگ (ن) کو لوٹا سازی کی فیکٹری لگانا پڑی ہے۔ اس ساری صورتحال سے نکلنے کے لئے کیا یہ بہت نہیں کہ مسلم لیگوں کے اتحاد کا احسن راستہ اختیار کیا جائے۔