کالے شیشوں کے پیچھے کیا ہے

14 مارچ 2011
نئی ٹریفک پولیس جو پچھلی حکومت نے متعارف کرائی تھی، اُس کی شہرت اچھی ہے، اور وہ بلارو رعایت چالان کرتی ہے اور کسی کا بھی بلاجواز لحاظ نہیں کرتے، مگر شہر میں کچھ غیر سرکاری قیمتی گاڑیاں سڑکوں پر رواں ہیں، جن کو موجودہ ٹریفک پولیس بھی اپنی تمامتر دیانتداری کے باوجود اس لئے چیک نہیں کر سکتی کہ اُن کے نمبر ٹریفک پولیس کو بطور خاص نوٹ کرائے گئے ہیں کہ وہ اُن کو نہیں پوچھ سکتی اور نہ ہی اندر جھانک سکتی ہے، کہ مخصوص گاڑیوں میں کالے شیشوں کے پیچھے کیا ہوتا ہے، کون ہوتا ہے، اور کیا کر رہا ہوتا ہے، قانون سب کے لئے یکساں ہوتا ہے، اور ٹریفک پولیس کو سب کو چیک کرنے کا حق ہوتا ہے بشرطیکہ گاڑی والا کسی غیر قانونی حرکت کا مرتکب ہو، یہ گاڑیاں جن کے نمبر ٹریفک پولیس کو دئیے گئے کہ انہیں کالے شیشوں کے باوجود روکنے کی اجازت نہیں، چند ایک ہیں، اب یہ بات جاننے کے لائق ہے کہ ان گاڑیوں کے نمبر کیا ہیں، اور کس کے حکم پر ٹریفک پولیس ان کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے، اب اس مسئلے کا ایک ہی حل ہے، کہ پورے صوبائی دارالحکومت میں کالا شیشہ کلچر عام کر دیا جائے تاکہ وہ کام عام ہوں جن کو چھپانے کے لئے کالے شیشے ضروری ہوتے ہیں، یا پھر سب پر پابندی لگنی چاہئے کہ وہ کالے شیشے استعمال نہ کریں، لاہور شہر میں ٹریفک پولیس کی کارکردگی اچھی ہے، اور یہ رشوت خور بھی نہیں، مگر ایک ایسی دیانتدار پولیس کو بعض گاڑیوں کے کالے شیشے چیک کرنے اور کارروائی کرنے پر پابندی پولیس کو خراب کرنے کی کوشش ہے، ہمارے ایک مہربان نے بتایا کہ اُس نے اپنی آنکھوں سے رائے ونڈ روڈ پر ایک کالے شیشوں والی گاڑی کا چالان ہوتے دیکھا، جبکہ اس کے سامنے ایک بڑی کالے شیشوں والی گاڑی گزری تو پولیس نے اُسے نہ روکا، اس پر جس کا چالان کیا جا رہا تھا، اُس نے اعتراض کیا تو ٹریفک پولیس کے سارجنٹ نے جواب دیا کہ ہمیں کچھ گاڑیوں کے نمبر نوٹ کرائے گئے ہیں، کہ انہیں ہرگز نہیں روکنا، ہم یہاں ٹریفک کی بات چل نکلنے کے حوالے سے ٹریفک پولیس سے کہیں گے کہ لاہور شہر میں ٹریفک بہت زیادہ ہو گئی ہے، کیا یوں نہیں ہو سکتا کہ موٹر سائیکل سواروں کے لئے ایک لین مختص کر دی جائے، اور لین بدلنے اور غلط سمت سے اوورٹیک کرنے والوں کو کچھ عرصہ سمجھایا جائے اور اس کے کچھ عرصہ بعد اس پر بھی چالان کیا جائے، کیوں کہ یہ دونوں بے اعتدالیاں بھی ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتی ہیں۔ نئی ٹریفک پولیس پڑھی لکھی ہے، اور اس کے مشاہرے بھی معقول اگر آئی جی ٹریفک ہماری معروضات پر غور فرمائیں تو شہر میں ٹریفک قوانین کے نفاذ پر یکساں عملدرآمد ممکن ہے، وزیراعلیٰ پنجاب نے تجاوزات کے خلاف گرینڈ آپریشن کا آغاز کر کے بھی ٹریفک رواں دواں رکھنے میں بڑی مدد دی ہے، ہماری اطلاعات کے مطابق اب تک کوئی ایسی رپورٹ سامنے نہیں آئی کہ ٹریفک پولیس نے رشوت لے کر کسی کو چھوڑ دیا ہو، تاہم اگر کسی کے علم میں ہو تو وہ اُسے میڈیا تک ضرور پہنچائے، تاکہ کسی برائی کو آغاز ہی میں روکا جا سکے اگر سکیورٹی کی غرض سے کالے شیشے استعمال کرنا ضروری ہوں تو اُس کے لئے باقاعدہ اجازت لی جاتی ہے، مگر اجازت نامہ ٹریفک پولیس کو دکھانا ضروری ہوتا ہے، یہ نہیں کہ وہ ٹریفک قوانین کو روندتا ہوا گزر جائے، ہمارے ہاں موٹر سائیکل سوار سیماب کی طرح ایک جگہ نہیں ٹکتے اور گاڑیوں کے آگے سے کبھی سڑک کی ایک طرف اور کبھی دوسری طرف یا درمیان میں آنے کو شعار بنا لیا ہے، اس لئے موٹر سائیکل سواروں کو ایک لین میں چلنے کا پابند بنایا جائے، ٹریفک پولیس میں ایک نقص ہے کہ وہ جہاں بہت زیادہ رش ہوتا ہے وہاں اول تو موجود نہیں ہوتی اور اگر ہو بھی تو ایک آدھ ٹریفک اہلکار ہی ہوتا ہے جو ٹریفک کے اژدھام کو قابو میں نہیں لا سکتا، جبکہ بعض سرکاری اعلیٰ منصبداروں کے دفاتر اور رہائش گاہوں کے پاس جہاں ٹریفک کا ہجوم نہیں ہوتا وہاں ٹریفک پولیس کا ہجوم ہوتا ہے، یہ تفریق بھی مٹا دینی چاہئے، اسی طرح ٹریفک قوانین میں وی آئی پیز یا وی وی آئی پیز کو بھی یہ اجازت نہیں کہ وہ سرخ بتی کو کراس کر سکیں، لیکن ہمارے ہاں تو آدھ آدھ گھنٹہ پہلے ہی شاہی سواریوں کے لئے ٹریفک روک دی جاتی ہے، آئی جی ٹریفک اس بات کا نوٹس لیں کہ آخر کیوں بعض گاڑیوں کو کالے شیشوں کی اجازت ہے اور اُن کے نمبر ٹریفک پولیس کو نوٹ کرائے گئے ہیں، قانون تو سب کے لئے یکساں ہوتا ہے پھر یہ تفریق کیوں؟ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے اکثر موٹر سائیکل سواروں کو ٹریفک پولیس نے دھر رکھا ہوتا ہے جبکہ کاروں کے وہ کم ہی قریب جاتی ہے، ہماری نئی ٹریفک پولیس تاحال اچھے حال میں ہے، اُسے اس حال پر بحال رکھا جائے، اور اُسے امتیازی سلوک کا عادی نہیں بنانا چاہئے، خدا جانے اس ملک میں قانون سے استثناءکی بیماری کب ختم ہو گی۔