امن کمیٹیوں اور امن لشکر کے باوجود!

14 مارچ 2011
رفیق غوری
امن لشکر اور پیپلز امن کمیٹیاں اسلحہ، گولیاں، خرچے سمیت خیبر پی کے میں بنائی گئی تھیں لیکن پھر بھی امن قائم نہیں ہوا اور ایک خاتون کے جنازہ میں شرکت کرنے والوں کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ یہی کام دوسرے نام سے کراچی میں بھی کیا گیا۔ کراچی، لیاری اور دوسرے علاقوں میں جو کچھ کیا گیا اس کے بھی وہ نتائج برآمد نہ ہو سکے جو ہونا چاہئےں تھے۔ یہاں تک کہ محتاط لوگوں نے لشکر طیبہ جیسی جہادی تنظیم کو غیروں ہی کے کہنے پر مقبوضہ کشمیر میں جہاد سے روکنے کی کوشش کی تاکہ اسلام اور پاکستان دشمن ہمیں لبرل، بے ضرر اور ملائم مان لیں....!
اس میں کوئی شک نہیں کہ امن و امان کی صورتحال کافی دگرگوں ہے۔ وفاقی وزیر داخلہ سے لے کر عام باوردی یا بے وردی سپاہی تک ہر کوئی اس سلسلہ میں کوشاں ہونے کا دعویدار ہے مگر ”مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی“ والی صورت ہے۔ وجوہات اس کی کافی ہیں مگر اختصار کے ساتھ یہی کہا جا سکتا ہے، یہی لکھا جا سکتا ہے، یہی پوچھا جا سکتا ہے کہ
ظلم رہے اور امن بھی ہو
کیا ممکن ہے؟ تم ہی کہو
امن کی کوشش یا اس کے لئے بلند و بانگ دعوے کرنے والے بہت کچھ کہتے ہیں اپنے خیال میں بہت کچھ کرتے بھی ہیں مگر وہ نتیجہ نہیں نکلتا جس کی ضرورت ہے۔ میں سوچ رہا ہوں اس کی وجہ کہیں ایسی ہی تو نہیں کہ جیسے کسی مشاعرے میں میرے جیسا ایک تُک بند چلا گیا۔ اس نے اپنے شعرنما خیالات گرج گرج کر اچھل اچھل کر، کودکود چیخ چیخ کر سنانے کی کوشش کی مگر کسی نے پورا کلام سننے کی بجائے پہلے مصرعے کے بعد ہی مکرر مکرر کی آوازیں لگانا شروع کر دیں۔ ایک ہی مصرعہ مکرر مکرر کی خواہش پر بار بار ادا کر کے وہ بیچارہ شاعر احتجاج پر اتر آیا اور کہنے لگا کہ ”میں نے سات آٹھ شعروں کی غزل کہی ہوئی ہے اور آپ لوگ پہلے مصرعے پر ہی مکرر مکرر کی رٹ لگاتے رہیں گے تو میں غزل کیسے سناﺅں گا؟“ کہتے ہیں اس کے جواب میں کسی دل جلے نے یہی کہا تھا کہ ”پہلا مصرعہ ٹھیک پڑھو گے تو مزید کچھ سنا سکو گے!“ کیا ہماری وفاقی حکومت بالخصوص اور صوبائی حکومتیں بالعموم پہلا مصرعہ کبھی ٹھیک نہیں پڑھیں گی؟ کہ کہتے ہیں جس دیوار کی بنیاد ٹیڑھی ہو وہ دیوار اگر ثریا تک بھی پہنچ جائے ٹیڑھی ہی رہتی ہے۔ ہمارے حکمران بھی امن و امان یقیناً چاہتے ہوں گے، ہم کسی کی نیت پر شک نہیں کرتے۔ ہمارے آج کے حکمران پہلے حکمرانوں کی طرح یقیناً اسی کوشش میں ہوں گے کہ حالات ٹھیک ہو جائیں، امن قائم ہو جائے مگر کیا زبانی جمع خرچ اور دعوﺅں سے امن قائم ہو جائے گا؟ یا اس طرح کبھی امن قائم ہوا ہے؟ ہمارے دیہاتیوں کے ہاں ایک اور مثال بھی دی جاتی ہے کہ کسی کنویں میں جب اچانک کتا گر گیا، کنویں کا پانی پلید ہونے کے ساتھ ساتھ بدبودار بھی ہو گیا تو اپنے خیال کے مطابق سمجھداروں نے ایک زیرک آدمی سے اس کا حل پوچھا کہ ”کیا فرماتے ہیں علمائے دین بیچ اس مسئلہ کے؟“ روایت کے مطابق کنویں سے سو بوکے پانی نکالنے کا کہا گیا مگر اس کے باوجود پانی سے بدبو آتی رہی اور پانی پلید ہی رہا تو اہل محلہ پھر اس صاحب حکمت کے پاس چلے گئے، اپنی رام کہانی سنائی تو عالم دین سمجھدار زیرک شخص نے پوچھا کہ کنویں سے کتا نکال لیا تھا اور جواب نفی میں پا کر کہا کہ پہلے کنویں سے کتا تو نکالو، اس کے بعد پانی کو صاف کرنے کے لئے سو بوکے پانی نکالنے سے مسئلہ حل ہو جائے گا....!
امن عامہ کی صورتحال کیلئے بھی شاید نہیں بلکہ یقیناً ہمیں یہی کرنا پڑے گا اور ایک ریمنڈ ڈیوس کو رنگے ہاتھوں گرفتار کرنے کے باوجود اس کو مہمان بنا کے، ناز نخرے اٹھانے، اسے لاڈلے داماد کی طرح خاطر تواضع کرنے کی بجائے اگر اس جیسے مزید مجرموں کو پکڑنے کیلئے کچھ کیا جائے، مزید دیوثوں کو پکڑا جائے، ان پر مقدمے قائم کر کے تمام کو ملکی قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے تو پھر یقیناً ملک میں امن قائم ہو جائے گا ورنہ ہم حسب سابق وہی بے ڈھنگی چال چلتے رہیں گے.... انہی حالات میں اسی تنخواہ پر گزارہ کرتے رہیں گے.... کہ ہماری حکومت کی اونٹ کی طرح کوئی کَل سیدھی نہیں لگتی!!