پیر‘ 8 ربیع الثانی 1432ھ‘ 14 مارچ 2011ئ

14 مارچ 2011
بھارتی اہلکار داڑھی والوں کو دہشت گر قرار دیتے ہیں، پاکستانی ماہی گیروں کا انکشاف۔
اگر داڑھی ہی دہشت گردی کی علامت ہے تو بھارتی اہلکاروں کو سب سے پہلے اپنے وزیراعظم کی داڑھی پر ہاتھ ڈالناچاہئے اور وہ تو سر پر پگڑی بھی رکھتے ہیں،اس لحاظ سے زیادہ استحقاق بنتا ہے کہ انہیں بھی اسی زمرے میں شامل کیاجائے ویسے بھی مقبوضہ کشمیر میں من موہن جی ریاستی دہشت گردی تو کرا رہے ہیں، بھارت میں جو 25 کروڑ مسلمان رہتے ہیں، اُن میں کم از کم ایک کروڑ تو داڑھی والے ہونگے، کیا وہ سب بھی دہشت گرد ہیں اور وبال ٹھاکرے کا پوتا دہشت گرد نہیں جو بھارتی عورتیں بیچتا ہے اور بال ٹھاکرے اُس کی کمائی کھاتا ہے،دہشت گردی کیلئے داڑھی تو اب ضروری ہی نہیں رہی کیونکہ اس طرح تو داڑھی والے موقع پر ہی پکڑے جائیں گے، اب تو یہ حال ہے کہ داڑھی والے دہشت گردوں نے بھی داڑھیاں منڈوا دی ہیں کیونکہ انہوں نے تو ویسے بھی فیشن کے طورپر رکھی ہوئی تھیں، بھارتی اہلکار ہوں یا اُن کے سرپرست امریکی حکمران، اگر داڑھی رکھنا ہی دہشت گردی ہے تو پھر سارا جہاں جان لے کہ سارے داڑھی والے بھارت کے نزدیک دہشت گرد ہی بھلے، مجاہدین اسلام کو اگر کوئی دہشت گرد کہہ دے تو کیا وہ جہاد چھوڑ دیگا، یا دوسرے مجاہدین پیچھے ہٹ جائیں گے، دہشت گردی کی اصطلاح تو امریکہ نے ایجاد کی، بھارت کو بھاگئی تو اس سے کیا فرق پڑتا ہے، کیونکہ مسلمان تو حق کی خاطر جان ہتھیلی پر لئے پھرتا ہے اور یہی وہ بات ہے کہ بھارت ایٹم سے بڑھ کر اس جذبے سے خوفزدہ ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
کشمیری لڑکی سے بھارتی مظالم کی داستان سن کر کئی سفارت کار آبدیدہ ہوگئے۔ انیسہ نے جنیوا انسانی حقوق کمیشن کو بتایا اُس کا والد15سال سے لاپتہ ہے، پولیس نے مقدمہ درج نہ کیا عدالت جانے پر بھارتی فوج نے والدہ قتل کردی بہن بھائیوں کے ساتھ جان بچا کر آزاد کشمیر آگئی۔ جو گوانتانا موبے میں ہونے والے مظالم پر چپ رہے وہ بھی کشمیری مظلوم لڑکی کی داستانِ غم سن کر آبدیدہ ہوگئے، جنیوا انسانی حقوق کمیشن والوں نے گویا مصائب کربلا سن لئے،رو لئے ، مگر مقبوضہ کشمیر میں کتنی ہی انیسائیں اس سے بڑھکر ظلم و ستم سہہ رہی ہیں، کیا وہ اُن کے شیون بھی اقوام متحدہ تک پہنچائیں گے یا لطفِ غم اُٹھا کر یہ جا وہ جا یہ پریکٹس تو ایک عرصے سے جاری ہے،اقوام متحدہ کی جانب سے مگر وہ بھارت کے خون آلودہ پنجوں سے کشمیریوں کو آزاد نہیں کراسکا، مقبوضہ کشمیر میں اس وقت بدترین ریاستی دہشت گردی ہورہی ہے، لیکن اقوام متحدہ نے اور تو اور اپنی قراردادوں کا بھی خیال نہ کیا جنہیں وہ منظور کرچکا ہے اگر وہ ان قراردادوں پر بھارت سے عملدرآمد نہیں کراسکتا تو جنیوا انسانی حقوق کمیشن کو کیا گونگلوﺅں سے مٹی جھاڑنے کیلئے بھیجا، کمیشن کا فرض بنتا ہے کہ وہ انیسہ کی پردرد کہانی سننے کے بعد اقوام متحدہ کو مجبور کرے کہ وہ یہودو نصاریٰ کے شکنجے سے باہر نکل کر کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلا دے وگرنہ یہ بات جھوٹ ہوگی کہ وہ دنیا بھر کے مظلوموں کو حق دلوانے کا ادارہ ہے، بلکہ ہر کوئی یہی سمجھے گا کہ امریکہ کی باندی خود مظلوم ہے وہ ظالم کے ہاتھ کیا روکے گی، یہ تو ایک کہانی تھی جو ہم نے سنادی مگر یاد رہے کہ مقبوضہ کشمیر صرف اور صرف جہاد سے آزاد ہوگا، کیونکہ پاکستان سمیت ہر کشمیری وہ جہاں کہیں بھی ہے اس پر جہاد فرض ہوچکا ہے۔
٭....٭....٭....٭....٭
سینئر صوبائی مشیر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ نے کہا ہے: پیپلز پارٹی اور ق لیگ کی بد تمیزی کی پوری فلم چلائیں گے۔ فیصلہ اُن کے اپنے ہاتھ میں ہے کہ انہیں عزت عزیز ہے یا نہیں۔
فیصلہ تو لوٹے کی صورت پیپلز پارٹی اور ق لیگ کے ہاتھوں میںموجود ہے اور اس کی مثال وہی ہے کہ چہ دلاور است دزدے کہ بکف چراغ دارد ،دونوں لوٹا بردار اور زباں دراز جماعت کے مردوزن نے جس پارلیمانی اخلاق کا مظاہرہ کیا اُسے دیکھ کر اسمبلی کی اونچی لمبی کھجوریں بھی شرما گئی ہوںگی، ٹھیک ہے احتجاج کیاجائے توہینِ احتجاج تو نہ کی جائے، کیا اتنے سارے لوٹے ضائع کرنے سے لوٹے اُن کو پہچان نہ گئے ہوں گے، جب لوٹے کے ہاتھ میں لوٹا ہوگا، تو رہٹ کیسے چلے گا،سینئر صوبائی مشیر واقعی سینئر ہیں کہ انہیں پہلے ہی سے معلوم تھا کہ سیٹ لگنے والا ہے، بس شاٹ لینے کی دیر ہے،اسلئے انہوں نے بھی فلمسازی کی تیاری کر رکھی تھی، دیکھتے ہیں پروڈیوسر ذوالفقار کھوسہ کی یہ فلم کب چلتی ہے اور پیپلز پارٹی و ق لیگ کی سوکھی کھیتی کب پھلتی ہے،اس موقع پر حورانِ پیپلز پارٹی و ق لیگ نے کیا کیا بھاﺅ دکھائے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے، اسلئے فلم چلانے میں اب دیر نہ کریں۔
٭....٭....٭....٭....٭
ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان فرماتی ہیں: اطلاعات کی وزارت ملنا میرے ساتھ زیادتی ہے۔
اللہ میری توبہ ہم کس کس زیادتی کو روئیں ، واقعی میڈیا ٹھیک ہی کہتا ہے کہ زیادتیاں عام ہوگئی ہیں، اطلاعات اور میڈیکل سائنس کا کیسا ناطہ؟ یہ تو ترکھان سے لوہار کا کام لینے کے مترادف ہے، زیادتی ہی تو ہے، وگرنہ فردوس یہ کیوں کہتیں پیمرا کو وزارت اطلاعات و نشریات کے شکنجے سے آزاد کراﺅں گی۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنی آزادی کا بھی بندوبست کرلیں کہ اُن کے ساتھ بھی تو زیادتی ہوئی ہے جیسا کہ انہوں نے اعتراف کیا ہے۔محترمہ بڑی نڈر ہیں، انہو ںنے کشمالہ کے اسمبلی تک پہنچنے کی جو اطلاع جس لذیذ انداز میںدی تھی وہیں سے پارٹی کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ وزارتِ اطلاعات کیلئے فٹ رہیں گی، وزارت بہبود آبادی کیلئے وہ شاید اس لئے بھی مناسب نہ تھیں کہ انہیں دیکھ کر کثرتِ آبادی کا تاثر اُبھرتا تھا۔ وہ نہایت ذہین و فطین ہیں اور وزارت تو کوئی بھی ہو وہ ” پباں بھار“ چلا کر دکھا دیں گی۔ ہماری اُن کی خدمت عالیہ میں یہ گذارش ہے کہ وزارت اطلاعات کا ملنا اگرچہ اُن کے ساتھ زیادتی ہے پھر بھی وہ استاد محمد ابراہیم ذوق کے اس شعر پر عمل پیرا رہیں تو کام چل جائے گا....
دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ
تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے